Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا۴۰؍ ڈالر کا اسمارٹ فون افریقی ممالک میں ڈیجیٹل عدم مساوات ختم کر سکتا ہے؟

Updated: April 05, 2026, 10:11 PM IST | Johansburg

کیا۴۰؍ ڈالر کا اسمارٹ فون افریقی ممالک میں ڈیجیٹل عدم مساوات ختم کر سکتا ہے؟جبکہ ہندوستان میں اس طرح کے کم لاگت والے ٹیکنالوجی تجربات ناکام ہو چکے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

 موبائل کمیونیکیشن انڈسٹری کے لیے عالمی وکالت اور لابی گروپ نے اعلان کیا کہ وہ۲۰۲۶ء میں کانگو، ایتھوپیا، نائجیریا، روانڈا، تنزانیہ اور یوگنڈا میں۴۰؍ ڈالر کے اسمارٹ فونز کے پائلٹ پروجیکٹ کے لیے شراکت داری کر رہا ہے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ سستے ۴؍ جی اسمارٹ فونز بڑے پیمانے پر لاکھوں افراد کو انٹرنیٹ سے منسلک کر سکتے ہیں، جس سے تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، مالیاتی خدمات، ای کامرس، اوراے آئی پر مبنی ٹولز تک رسائی ممکن ہو گی۔‘‘ تقریباً۹۶؍ کروڑ افریقی موبائل انٹرنیٹ استعمال نہیں کرتے حالانکہ وہ کوریج ایریا میں رہتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رکاوٹ ڈیوائس کی استطاعت ہے، بنیادی ڈھانچہ نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: خوراک اور ادویات کی عالمی ترسیل میں خلل،لاکھوں زندگیاں خطرے میں

کانٹر پوائنٹ ریسرچ کے مطابق۴۰؍ ڈالر میں ۴؍ جی اسمارٹ فون کی قیمت فیچر فون کی عالمی اوسط فروخت قیمت سے صرف۱۰؍ فیصد زیادہ ہوگی۔لیکن ماہرین کے مطابق، جب اسمارٹ فون کی عالمی اوسط قیمت۴۰۰؍ ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، تو انتہائی سستا فون بنانا اور بڑے پیمانے پر تیار کرنا آسان نہیں ہوگا۔ گزشتہ دہائی میں، کئی سستے فون منصوبے ناقص معاشیات، تکنیکی حدود، اور ماحولیاتی مسائل کی وجہ سے ناکام ہوئے ہیں۔برطانیہ کی ٹیک ریٹیل کمپنی، ’’ دی بگ فون اسٹور کے مینیجنگ ڈائریکٹر اسٹیون ایتھوال کا کہنا ہے کہ ’’آپ۴۰؍ ڈالر کا فون اس وقت بنا سکتے ہیں جب ڈیوائس کو انتہائی بنیادی بنایا جائےجیسے چھوٹی ڈسپلے، کم سے کم ریم اور اسٹوریج، پرانے۴؍ جی چپ سیٹ، بنیادی کیمرےاینڈروئڈ جیسا سافٹ ویئر، اور تقریباً کوئی منافع نہ ہو۔ مسئلہ یہ ہے کہ اسے قابل استعمال، پائیدار، اور بڑے پیمانے پر دستیاب بنایا جائے۔
جی ایس ایم اے نے بڑے موبائل آپریٹرز ووڈا فون، ائیر ٹیل، اورنج، مینوفیکچررز، مالیاتی اداروں، اور عالمی اداروں (ورلڈ بینک گروپ، انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین) کو اکٹھا کیا ہے تاکہ یہ فونز بنائے اور بیچے جا سکیں۔حالانکہ متعدد پچھلے تجربات ابتدائی جوش کے باوجود، یہ تجربہ ناقابلِ عمل لاگت کے ڈھانچے، گمراہ کن مارکیٹنگ، اور آخر کار مینوفیکچرنگ اور ترسیل کی ناکامیوں کی وجہ سے ختم ہو گیا۔کاؤنٹر پوائنٹ کے محقق احمد شہاب کا کہنا ہے کہ ’’یہ حدود اکثر صارفین، خاص طور پر قیمت کے لحاظ سے حساس مارکیٹوں میں،استعمال شدہ  یا ریفربشڈ اسمارٹ فونز کا انتخاب کرنے پر مجبور کرتی ہیں، جو عام طور پر بہتر خصوصیات کے ساتھ آتے ہیں۔‘‘افریقہ سستے آپشنز کے لیے زیادہ کھلا ہو سکتا ہے کیونکہ براعظم میں فروخت ہونے والے چار میں سے تین اسمارٹ فونز۲۰۰؍ ڈالر سے کم کے ہیں۔ واضح رہے کہ ۲۰۲۳ء میں،آئی ٹیل نے اپنا سب سے سستا۴؍ جی اسمارٹ فون اے۶۰؍، ۱۷؍ افریقی ممالک میں۱۰۰؍ ڈالر سے کم میں جاری کیا۔سستا مگر فیچرز سے بھرپور فون بنانا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے ساتھ جنگ کے دوران ایران نے انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن میں ریکارڈ قائم کر دیا

بعد ازاں مارکیٹ انٹیلی جنس فرم ٹرینڈ کی فروری کی رپورٹ کے مطابق، میموری کی لاگت، جو تاریخی طور پر اسمارٹ فون کے مواد کے بل کا۱۰؍سے ۱۵؍ فیصد ہوتی تھی، اب بڑھ کر۳۰؍ سے ۴۰؍ فیصد ہو گئی ہے۔۲۰۲۳ء میں، ٹیلی کام کمپنی ووڈا فون نے ہندوستانی حکومت کے یونیورسل سروسز ابلیگیشن فنڈ کو استعمال کرنے کی تجویز دی، جو دیہی علاقوں میں کنیکٹیویٹی کے لیے مختص ہے، تاکہ ہندوستانیوں کو ۲؍ جی اور ۴؍ جی فون خریدنے کے لیے رقم دی جا سکے۔ لیکن یہ فنڈ صرف بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال ہو سکتا تھا ۔اور فون اس کا حصہ نہیں سمجھے جاتے۔ ٹیک آرک کے چیف اینالسٹ فیصل کاووسا نے کہا، ’’یہاں تک کہ اگر وہ سبسڈی دیں تب بھی صارف کو خدمات کی ادائیگی کے طریقے تلاش کرنے ہوں گے۔ میرے خیال میں اسمارٹ فون کو مرکز رکھتے ہوئے اس صارف بیس کے لیے مناسب سروس ماڈل تلاش کرنا زیادہ ضروری ہے، اور پھر پالیسی اور ریگولیٹری رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK