ایران جنگ نے خوراک اور ادویات کی عالمی سپلائی میں خلل ڈال دیا، امدادی راستے بند ہونے کے سبب لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑگئی ہیں، انسانی ہمدردی تنظیموں نے دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے بھوک اور صحت کے بحران کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 05, 2026, 8:05 PM IST | New York
ایران جنگ نے خوراک اور ادویات کی عالمی سپلائی میں خلل ڈال دیا، امدادی راستے بند ہونے کے سبب لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑگئی ہیں، انسانی ہمدردی تنظیموں نے دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے بھوک اور صحت کے بحران کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ نے دنیا بھر میں لاکھوں ضرورت مند افراد تک خوراک اور ادویات پہنچانے کی ان کی صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے، اور اگر تشدد جاری رہا تو مصائب مزید بڑھ جائیں گے۔اس تنازع نے نہ صرف اہمبحری راستے بند کر دیے ہیں، جس سے عالمی توانائی بحران پیدا ہو گیا ہے، بلکہ اس سے امدادی گروپوں کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہیں، جس سے انہیں زیادہ مہنگے اور طویل راستے استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔آبنائے ہرمز جیسے اہم راستے عملی طور پر بند ہو چکے ہیں اور دبئی، دوحہ، اور ابوظہبی جیسے اسٹریٹجک مراکز سے جانے والے راستے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ایندھن اور انشورنس کی بلند شرحوں کے باعث نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اتنے ہی پیسوں میں کم سامان پہنچایا جا سکے گا۔
دریں اثناءورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ اس کے پاس دسیوں ہزار میٹرک ٹن خوراک سفر میں شدید تاخیر کا شکار ہے۔انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے پاس جنگ زدہ سوڈان کے لیےایک لاکھ ۳۰؍ ہزار ڈالر مالیت کی دوائیں دبئی میں پھنسی ہوئی ہیں اور صومالیہ میں شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کے لیے تقریباً ۶۷۰؍باکس علاج معالجے کی خوراک ہندوستان میں پھنسی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کا کہنا ہے کہ ۱۶؍ ممالک کو سامان بھیجنے میں تاخیر ہوئی ہے۔امریکی طرف سے بیرونی امداد میں شدید کٹوتیوں نے پہلے ہی بہت سے امدادی گروپوں کو کمزور کر دیا تھا، اور ان کا کہنا ہے کہ جنگ اس مسئلے کو مزید بڑھا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب: اقامہ اور لیبر قوانین کی ۱۴؍ہزار خلاف ورزی، ۶؍ ہزار غیر ملکی واپس
اقوام متحدہ کےمطابق یہ کرونا کے بعدترسیل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جس میں مال برداری پر ۲۰؍ فیصد تک لاگت میں اضافہ اوربحری راستے بدلنے کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے۔ اورمزید یہ کہ جنگ نئی ہنگامی صورتحال پیدا کر رہی ہے، جیسے ایران اور لبنان میں جہاں کم از کم دس لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے مطابق لڑائی بند ہونے کے بعد بھی مہینوں تک جان بچانے والی امداد تاخیر کاشکار ہو سکتی ہے۔ایران جنگ کے سبب افریقی بحری راستوں اور زمین،دیگر مخلوط طریقے استعمال کرنےسے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔یونیسیف کے مطابق، ان کی ایجنسی نائیجیریا اور ایران میں ویکسین بھیجنے کے لیے زمینی اور فضائی راستوں کا مرکب استعمال کر رہی ہے تاکہ وہ ویکسینیشن مہم کے لیے بروقت پہنچ سکیں، لیکن اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں۔
سیو دی چلڈرن انٹرنیشنل، جو عام طور پر دبئی پورٹ سے سوڈان تک سمندری راستے سے سامان بھیجتی ہے، کو اب سامان کو دبئی سے سعودی عرب کے راستے ٹرک کے ذریعے اور پھر بحیرہ احمر کے پاربھیجنا پڑے گا۔اس قواعد میں ۱۰؍ دن اور ۲۵؍ اضافی لاگت آئے گی، جبکہ ۱۹؍ ملین سے زیادہ سوڈانی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔اس کے علاوہ تاخیر کے سبب سوڈان بھر میں۹۰؍ سے زیادہ بنیادی صحت کی سہولیات ضروری ادویات ختم ہونے کے خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ڈبلیو ایف پی نے خبردار کیا ہے کہ اگر تنازع جون تک جاری رہا تو مزید۴۵؍ ملین افراد شدید بھوک کا شکار ہو جائیں گے، جو دنیا بھر میں بھوک کا سامنا کرنے والے تقریباً۳۲۰؍ ملین افراد میں اضافہ ہو گا۔
یہ بھی پڑھئے: ہرمز میں اسرائیلی جہاز پر نشانہ، ایران نے انسانی امداد کے جہاز کو گزرنے دیا
واضح رہے کہ دنیا کی۳۰؍ فیصد کھاد آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے اور مشرقی افریقہ اور جنوبی ایشیا جیسے علاقوں میں پودے لگانے کا موسم آنے والا ہے، غریب ممالک کے چھوٹے کسان بری طرح متاثر ہوں گے۔ امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ سوڈان اپنی نصف سے زیادہ کھاد خلیج سے درآمد کرتا ہے، اور کینیا تقریباً ۴۰؍ فیصد وہاں سے درآمد کرتا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کھاد کی تجارت میں سہولت کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کی ہے۔ لیکن امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ کافی نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی نہیں ہوتی ہے تو حکومتوں کو بڑھتی ہوئی لاگت سے نمٹنے کے لیے تنظیموں کو مزید فنڈنگ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
بعد ازاں انسانی ہمدردی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے دوران امداد کے لیے فنڈنگ میں بین الاقوامی ردعمل یوکرین جیسی جنگوں کے مقابلے میں سست رہا ہے، جبکہ دنیا بدستور انتشار کا شکار ہے امداد کے مقابلے میں ، سلامتی پر سرمایہ کاری کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔