Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی کے بعد آج کولکاتا میں سی جے پی ریلی نکالے گی

Updated: July 24, 2026, 9:48 AM IST | Kolkata

کاکروچ جنتا پارٹی کے رکن کے طور پر ایک شخص نے کولکاتا کے جوائنٹ کمشنر کو ای میل بھیج کر مارچ کی اجازت طلب کی ہے۔

Like Delhi, a CJP rally will now be held in Kolkata as well. Photo: INN
دہلی کی طرح اب کولکاتا میں بھی سی جے پی کی ریلی نکالی جائے گی۔ تصویر: آئی این این

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کو لے کر دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کے بعد اب کولکاتا میں بھی ریلی نکالنے کا منصوبہ بنایا ہے۔تنظیم نے جمعہ کوشہرمیں ریلی نکالنے کی اجازت کیلئے کولکاتا پولیس کو درخواست دی ہے۔پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ۱۹؍ اور۲۱؍جولائی کو دیدیپیا گنگوپادھیائے نامی ایک شخص نے جوائنٹ پولیس کمشنر (ہیڈکوارٹرز)اور جوائنٹ کمشنر (کرائم) کو ای میل بھیج کر مارچ کی اجازت طلب کی تھی۔گنگوپادھیائے نے خود کو سی جے پی کا رکن بتایا ہے۔اگرچہ ابھی تک ریلی کی باضابطہ اجازت نہیں دی گئی، تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانون و نظم برقرار رکھنے کے لیے سکیوریٹی انتظامات کی تیاری کی جا رہی ہے۔

کولکاتا کے علاوہ گزشتہ چند دنوں میں ملک کے دیگر شہروں میں بھی اس مہم کو حمایت ملی ہے۔ممبئی میں شیواجی پارک، چیتیا بھومی، چمبوراور شیوسینا بھون کےباہر بھی احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں، تاہم ممبئی پولیس نے کہا کہ ان اجتماعات کے لیے پیشگی اجازت نہیں لی گئی تھی۔اسی طرح چنئی کے ٹی نگر علاقے میں بھی احتجاج ہوا، جس میں زیادہ تر کالجوں اور یونیورسٹیوںکے طلبہ نے حصہ لیا۔ یہ احتجاج نیٹ امتحان کے پرچہ لیک ہونے کے معاملے کے خلاف شروع کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: وزیر اعظم نریندر مودی کی یقین دہانی کے بعد سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کی

قابلِ ذکر ہے کہ پیرکے روز دہلی میں سی جے پی کی قیادت میں پارلیمنٹ کی جانب نکالا گیا مارچ اس وقت کشیدہ ہوگیا جب مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کے الزامات سامنے آئے۔  اس کے بعد اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی، کانگریس صدر ملکار جن کھرگے، رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھیلیش یادو اور دیگر اپوزیشن لیڈروںنےاگلے روز وزیر اعظم نریندرمودی کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیا۔ انہوںنے طلبہ اور نوجوانوں کے خلاف پولیس زیادتی کا الزام عائد کیا۔احتجاج کے دوران راہل گاندھی کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ پولیس کی گاڑی میں لے جاتے وقت ان کی ناک سے خون بہنے کی تصاویربھی سامنے آئیں۔بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے اپنی ۳؍اہم مطالبات کا اعادہ کیا، جن میں نیٹ پرچہ لیک معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ، دہلی میں طلبہ پرپولیس تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی عوامی معافی شامل ہیں۔مرکزی حکومت نے ان مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)لیڈرجےپی نڈانےکہا کہ حکومت اس معاملےپرپارلیمنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے، لیکن اسے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔جنتر منتر کے احتجاج اور پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس زیادتی کےباعث لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی بار بار ملتوی کرنی پڑی، جس سے مسلسل تیسرے دن بھی پارلیمانی کارروائی متاثر رہی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ہمیں اس ملک کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا واپس سکھانا ہے‘‘

دریں اثنا، سپریم کورٹ نے سی جے پی کے احتجاج کے دوران پولیس بربریت کے خلاف دائر درخواست پر فوری سماعت سے انکار کر دیا۔چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے درخواست کی فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے، میڈیا رپورٹس کے مطابق، درخواست گزار کے وکیل کو عدالت کا وقت ضائع نہ کرنے کی ہدایت دی، جب انہوں نے واقعے کی ویڈیو دکھانے کی کوشش کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK