لداخ کے بعد اروناچل پردیش کے قریب چینی فوجیں سرگرم

Updated: July 01, 2020, 8:12 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

کشیدگی کو کم کرنے کیلئے کور کمانڈر سطح کی تیسرے دور کی بات چیت، بیجنگ کی فوجوں سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ

Arunachal Pradesh
اروناچل پردیش

 چین  کے ساتھ لداخ میں جاری تنازع کے بیچ منگل کوکو ر کمانڈر سطح کی تیسرے مرحلے کی بات چیت میں    نئی دہلی نے ایک بار پھر بیجنگ کی فوجوں سے کئی متنازع مقامات سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ کیا ہے۔  اس بیچ بزنس اسٹینڈرڈ میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں   دفاعی امور کے ماہر اجے شکلا نے دعویٰ کیا ہے کہ چین کی پیپلس لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے اب اروناچل پردیش کے قریب بھی اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ اجے شکلا کے مطابق  لداخ اور سکم میں کم از کم ۷؍ مقامات پر  ہندوستانی اور چینی فوجیں  پہلے ہی آمنے سامنے  ہیں۔ 
 حکومت میں موجود اپنے ذرائع کے حوالے سے شکلا نے بتایا ہے کہ  اروناچل پردیش کے قریب سرحد پر پی ایل اے اپنی نفری میں تیزی سے اضافہ کررہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کی گشت اور  اس ے ذریعہ ہندوستانی سرحدوں کی خلاف ورزی میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ اروناچل پردیش میں ہند چین سرحد میک موہن لائن پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق چینی فوجیں خاص طور سے توانگ اور والونگ علاقے میں سرگرم ہیں۔
  بہرحال دوسری طرف کورکمانڈر سطح کی تیسرے دور کی بات چیت میں  لیہہ کی ۱۴؍ کورپس کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ہریندر سنگھ نے ساؤتھ زنجیانگ ملٹری ریجن کےکور کمانڈمیجر جنرل لیو لِن سے بات چیت کی۔ بات چیت کے دوران کشیدگی کو کم کرنے اورفوجوں کو پیچھے لینے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جارہاہے۔  بات چیت کے دوران ہندوستان نے لداخ کے فنگر علاقوں، گوگرا پوسٹ، ہاٹ اسپرنگ اور گلوان وادی  میں پہلے جیسی صورتحال بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK