Inquilab Logo

’’بی جے پی چھوڑنے کے بعد لوگوں کو ان کی حیثیت معلوم ہو جاتی ہے‘‘

Updated: June 25, 2024, 9:57 AM IST | Agency | Jalgaon

گریش مہاجن کا ایکناتھ کھڑسے پر طنز، سینئر لیڈر کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ’’ میں میں کرنے والوں کا انجام کیا ہوا یہ سب نے دیکھ لیا۔‘‘

Girish Mahajan is said to be a staunch opponent of Eknath Kharse. Photo: INN
گریش مہاجن کو ایکناتھ کھڑسے کا کٹر مخالف کہا جاتا ہے۔ تصویر : آئی این این

سینئر لیڈر ایکناتھ کھڑسے  این سی پی (شرد) چھوڑ کر دوبارہ بی جے پی میں شامل ہونے کی تگ ودو کر رہے ہیںلیکن ریاستی وزیر گریش مہاجن کو ان کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ پارٹی میں کھڑسے کے کٹر مخالف سمجھے جاتے ہیں۔ پیر کو جلگائوں میں منعقدہ بی جے پی اراکین کی ایک میٹنگ کے دوران یہ کہہ کر ایکناتھ کھڑسے پر طنز کیا کہ ’’ بی جے پی چھوڑنےکے بعد لوگوں کو ان کی حیثیت معلوم ہو جاتی ہے۔‘‘   
یاد رہے کہ ایکناتھ کھڑسے مہاراشٹر میں بی جے پی کے بانی اراکین میں سے ایک  تھے۔ وہ آر ایس ایس کے رکن اور ریاستی کابینہ میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔  لیکن۱۶ ۲۰ء کے بعد ان کے اپنی حکومت کے  ساتھ تعلقات بگڑتے گئے اور وہ بی جے پی چھوڑ کر این سی پی میں شامل ہو گئے۔ اس بار ان کی بہو رکھشا کھڑسے کو مرکز میں وزیر مملکت بنایا گیا ہے۔   وہ رکھشا کے ساتھ  دہلی جا کر امیت شاہ سے ملاقات بھی کرکے آگئے لیکن اب تک انہیں پارٹی میں دوبارہ شامل نہیں کیا گیا۔ اسی پس منظر میں بیان دیتے ہوئے گریش مہاجن نے انہیں نشانہ بنایا ہے۔  جلگائوں  لوک سبھا حلقے میں بی جے پی کے اراکین اسمبلی اور رکن پارلیمان کی جائزہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے پہلے گریش مہاجن نے سابق رکن پارلیمان انمیش پاٹل کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا ’’۲۰۱۹ء  کے لوک سبھا الیکشن میں اسمیتاواگھ کو میں نے ہی ٹکٹ دینے سے انکار کیا تھا۔ کیونکہ مجھے شبہ تھا کہ وہ جیت سکیں گی یا نہیں۔ انہیں ٹکٹ نہیں دیا۔ جنہیں دیا گیا وہ ۵؍ لاکھ سے زائد ووٹوں سے جیت حاصل ہوئی۔ لیکن اس بار انہیں ٹکٹ نہیں ملا تو وہ پارٹی چھوڑ کر کسی اور پارٹی میں چلے گئے اور اپنے دوستوں کو بلی کا بکرا بنا دیا۔  ‘‘ 
 گریش مہاجن نے کہا ’’اسی طرح کچھ اور لوگوں کا بھرم بھی اس الیکشن میں دور ہو گیا۔ کل کو وزیر گریش مہاجن بھی پارٹی چھوڑ کر چلے گئے تو پارٹی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ آج ہم بڑے ہیں تو پارٹی کی وجہ سے ہیں۔‘‘   انہوں نے کھڑسےپر طنز کرتے ہوئے کہا ’’ میں میں کرنے والے اب کیسے نیچے بیٹھ گئے ہیں؟ میں میں کرنے والوں کی حالت کیا ہو گئی ہے یہ سب نے دیکھ لیا۔‘‘ گریش مہاجن نے اپنے کارکنان کو ہدایت دی کہ وہ آج ہی سے اسمبلی الیکشن کی تیاریوں میں لگ جائیںکیونکہ اس بار ہمیں جلگائوں کی تمام ۱۱؍ اسمبلی سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنی ہے۔ یاد رہے کہ ایکناتھ کھڑسے ۲۰۱۴ء میں بی جے پی کی جانب سے وزیراعلیٰ کے عہدے کے سب سے مضبوط دعویدار تھے۔ انہوں نے ہی اعلیٰ کمان کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ شیوسینا سے اتحاد ختم کیا جائے اور تنہا الیکشن لڑا جائے۔ تنہا الیکشن لڑ کر اس الیکشن میں بی جے پی نے ۱۲۰؍ سیٹیں حاصل کی تھیں لیکن پارٹی نے کھڑسے کی جگہ دیویندر فرنویس کو وزیر اعلیٰ بنا دیا ۔ اس کے بعد سے ان کے اور فرنویس کے درمیان ناچاکی پیدا ہوگئی۔ حتیٰ کہ بی جے پی حکومت ہی نے کھڑسے کے خلاف ای ڈی کی جانچ شروع کروائی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK