وارڈ نمبر ۶۴؍ میں سبا خان مرحوم والدہ کی وراثت کو آگے لے جانے کیلئے پُرعزم۔
سبا ہارون رشید خان انتخابی مہم کے دوران۔ تصویر: آئی این این
بی ایم سی وارڈ نمبر ۶۴؍ میں شیو سینا(اُدھو)کی نوجوان اورپرجوش امیدوار سبا خان اپنے وارڈ کے ووٹرس کے ساتھ اپنے تعلق کو ایک جذباتی لگاؤ کے طو رپر پیش کرتی ہیں۔ ان کے مطابق الیکشن لڑنے کا ان کا مقصد عہدہ حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کی خدمت کے اس سلسلے کو جاری رکھنا ہے جو ان کی والدہ شہیدہ ہارون خان ادھورا چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔
واضح رہے کہ یہاں سے سابق کارپوریٹر شہیدہ ہارون کے انتقال کے بعد عوام کے مطالبہ پرشیوسینا (اُدھو) نے سبا خان کو امیدوار بنایا ہے۔ ان کے والدہارون رشید خان ورسووا کے مقبول اور ہردلعزیز ایم ایل اے ہیں۔ اس سوال پر کہ الیکشن لڑنے کیلئے شیوسینا(اُدھو) کا پلیٹ فارم ہی کیوں استعمال کیا، سبا خان نے اس کیلئے بی جےپی کے سامنے نہ جھکنے کےاُدھو ٹھاکرے کے موقف کا حوالہ دیا۔انہوں نے کہا کہ ’’ آج جب پارٹیاں بی جےپی کے آگے گھٹنے ٹیک چکی ہیں یا اس کی بی ٹیم کی طرح کام کررہی ہیں، ادھو بالاصاحب ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا چٹان کی طرح اس کے سامنے کھڑی ہے۔‘‘
انہوں نے پارٹی کی موجودہ قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ اقلیتوں کے حق اور حفاظت کیلئے یہ پارٹی سب سے مضبوط متبادل ہے۔‘‘ سبا خان جن کا انتخابی نشان مشعل ہے، نے الیکشن کے تعلق سے اپنے موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میرے کیلئے سیاست کا مقصد عہدہ کا حصول نہیں بلکہ عوام کی خدمت ہے جو اپنے آپ میں عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ میں نے اپنی والدہ کو دن رات عوام کی خدمت میں مشغول دیکھا ہے اور انہی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے میں ان کے کام کو آگے بڑھانا ہی میرا مقصد ہے۔‘‘