Inquilab Logo

تازہ روسی حملہ کے بعدیوکرین اور غزہ پرعالمی میڈیا کا دُہرا معیار پھر موضوعِ بحث

Updated: July 11, 2024, 12:14 PM IST | Mumbai

یوکرین پر ۲۴؍ گھنٹوں میں روس کے ۵۰؍ سے زائد حملوں، بچوں کے اسپتال کو نشانہ بنانےا ور ۳۱؍ ہلاکتوں  کے بعد میڈیا اورعالمی طاقتوں کا رویہ ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا ہے۔

New York Times coverage can be seen. Image: X
نیو یارک ٹائمز کا کوریج دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: ایکس

یوکرین پر ۲۴؍ گھنٹوں میں روس کے  ۵۰؍ سے زائد حملوں ، بچوں کے اسپتال کو نشانہ بنانےا ور ۳۱؍ ہلاکتوں  کے بعد میڈیا اور عالمی طاقتوں کا رویہ ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا ہے۔ یوکرین  پر حملوں کی بین الاقوامی میڈیا کی   رپورٹنگ  اورعالمی طاقتوں  کے ردعمل کا  موازنہ غزہ میں  ۹؍ مہینوں  سے جاری اسرائیلی حملوں اور ۳۸؍ ہزار سے زائد اموات پر میڈیا  کے رویے سے کیا جا رہا ہے۔ ترکی کی خبر رساں  ایجنسی ’ٹی آر ٹی‘ نے دی گارجین،  سی این این اور نیویارک ٹائمز کی غزہ  اور یوکرین کی رپورٹوں کے تراشوں  کو’ایکس پوسٹ‘ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’سوشل میڈیا پر صارفین  غزہ اور یوکرین پر حملے  کے معاملے میں عالمی طاقتوں کے ردعمل میں  موجود فرق  پر تنقید کررہے ہیں۔‘‘ مغربی میڈیا کے رویے پر فلسطین میں  سماجی کارکن  روہن تالبوت نے ’القدس نیوز نیٹ ورک‘ سے گفتگو کرتےہوئے کہا ہے کہ’’غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے اسے معمول بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔اسرائیلی مظالم بڑھتے جا رہے ہیں مگر میڈیا میں رپورٹنگ کم ہوتی چلی جارہی ہے۔‘‘ انہوں  نے میڈیا کے رول پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم اسے معمول نہیں قرار دے سکتے،  فٹ بال کھیلتے بچوں   پر بمباری کرنا کوئی ایسی بات نہیں جسے  معمول سمجھا جائے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: فرانس میں حکومت سازی کیلئے رسہ کشی تیز، بایاں محاذ سرگرم

سوشل میڈیا صارفین نے یوکرین میں بچوں کے اسپتال کی رپورٹنگ کا موازنہ غزہ میں الشفاء اسپتال پراسرائیلی حملو ں کی رپورٹنگ سے کیا ہے۔ دی گارجین میں شائع خبروںکے  تراشے   کوشیئر کرتے ہوئے احمد نامی صارف نے لکھا ہے کہ ’’کبھی تو میڈیا کہتا ہے کہ اسپتالوں پر حملے کو بیان کرنے یا اس کا جواز فراہم کرنے  کیلئے الفاظ ہی نہیں ہیں، مگر اسی  میڈیا کے پاس (غزہ پر الشفاء اسپتال پر حملے کے وقت )  ایسے خوفناک حملوں کو صیح ٹھہرانے کیلئے بے شمار الفاظ آجاتے ہیں۔‘‘ علی اے علومی جنہوں نے ’ایکس‘ کے اپنے تعارفمیں خود کو مصنف، نائب پروفیسر اور مشرق وسطیٰ کامورخ ، لکھا ہے، نے پوسٹ کیاہے کہ ’’کتنا حقیقت پسندانہ ہے کہ یوکرین اور غزہ کی جنگیں ساتھ ساتھ ہورہی ہیں اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں کہ کن بچوں  کی جانیں اہم ہیں اور کن کی نہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK