Updated: June 18, 2026, 9:19 AM IST
| Nagpur
کاکرو چ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے ایک روز قبل ناگپور میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں احتجاج کیا اورمرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے استعفے کا مطالبہ بھی کریں گے۔
ابھیجیت دپکے کے احتجاج میں شدت آتی جا رہی ہے۔ تصویر: آئی این این
کاکرو چ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے ایک روز قبل ناگپور میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں احتجاج کیا اورمرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے استعفے کا مطالبہ بھی کریں گے۔ یاد رہے کہ دپکے کی قیادت میں ملک کے مختلف علاقوں میں کاکرو ج پارٹی کے زیر اہتمام احتجاج کیا جا رہا ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں نوجوان جمع ہو رہے ہیں۔
منگل کی رات ناگپور میں احتجاج کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ابھیجیت دپکے نے کہا’’ وزیر اعظم مودی ملک اور دنیا کے حالات پر روزانہ ٹویٹ کرتے رہتے ہیں لیکن نیٹ پیپر لیک ہونے، امتحانات میں دھاندلی ہونے اور طلبہ کے خودکشی کرنے پر انہوں نے ایک بھی ٹویٹ نہیں کیا۔‘‘ انہوں نے کہا’’ وزیر اعظم اپنے من کی بات کرتے ہیں لیکن انہیں ملک کے طلبہ کے من کی بات بھی سن لینی چاہئے۔‘‘نوجوان لیڈر نے کہا ’’ نیٹ جیسے ملک کے اہم ترین امتحان کا پرچہ لیکن ہونے پر کسی بھی عہدیدار کی ذمہ داری طے نہیں کی گئی۔ اتنے بڑے گھوٹالے کے بعد بھی حکومت نے صرف چند لوگوں کی گرفتاریوں کے ذریعے مرہم پٹی کرنے کی کوشش کی۔ اصل مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔‘‘ دپکے نے کہا کہ ’’ ہمارا احتجاج وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لئے بغیر ختم نہیں ہوگا۔ اس کیلئے ۲۰؍جون کو ملک بھر کے نوجوان دہلی میں جمع ہوں گے۔ ‘‘ ابھیجیت دپکے نے یہ کہہ کر اہم دعویٰ کیا کہ ’’ وزیر تعلیم کے استعفے کے بعد ہم وزیر اعظم مودی کے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔‘‘انہوں نے کہا کہ حکومت مجھے ہلکے میں لے رہی ہے(کم سمجھ رہی ہے) مگر حکومت اس ملک کے عوام کو ہلکے میں نہ لے ورنہ عوام انہیں ان کی جگہ دکھا دیں گے۔‘‘ ابھیجیت دپکے نے سوال کیا کہ حکومت اپنے ترقیاتی کاموں پر منتخب ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن اسٌ ملک میں کتنے ترقیاتی کام ہوئے ہیں ۱۲؍ سال سے بلٹ ٹرین کا صرف اعلان ہی ہو رہا ہے۔ آج تک ایک بھی بلٹ ٹرین دوڑ نہیں پائی ہے۔
جے پور میں اپنے اوپر ہونے والے حملے پر بات کرتے ہوئے ابھیجیت دپکے نے کہا کہ اس حملے سے واضح ہو جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں بے روزگاری کس قدر بڑھ چکی ہے۔ آج نوجوان دو ڈھائی ہزار روپے کیلئے کچھ بھی کرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ اگر ان نوجوانوں کے ہاتھوں میں روزگار ہوتا تو تھوڑے سے پیسوں کیلئے وہ اس طرح کسی کے اوپر ہاتھ نہیں اٹھاتے۔ ابھیجیت دپکے انہوں نے ملک میں اسمارٹ سٹی کے نعروں پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اب تک کتنے اسمارٹ سٹی تیار ہوئے اور وہ کہاں ہیں؟
یاد رہے کہ ابھیجیت دپکے امریکہ کے بوسٹن میں تعلیم حاصل کر رہے تھے لیکن چیف جسٹس کی جانب سے نوجوانوں کو کاکروچ کہے جانے پر وہ اپنی پڑھائی چھوڑ کر احتجاج کیلئے ہندوستان واپس آئے ہیں۔