Inquilab Logo Happiest Places to Work

اعضا عطیہ کرنے کے معاملے میں جنوبی ہند کی ریاستیں سب سے آگے، تمل ناڈو سر فہرست

Updated: August 04, 2026, 10:07 PM IST | New Delhi

تمل ناڈو ۲۶۶ متوفی عطیہ دہندگان کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جبکہ تلنگانہ ۲۰۵ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ دہلی مجموعی طور پر ۴۵۶۴ اعضاء کی پیوند کاری کے ساتھ سب سے آگے رہا، اس کے بعد تمل ناڈو (۲۷۹۶)، مہاراشٹر (۲۱۳۶)، تلنگانہ (۱۵۲۳) اور کیرالا (۱۴۸۹) کا نمبر آتا ہے۔ تمل ناڈو نے ۲۰۲۵ء میں کی جانے والی مجموعی پیوند کاری کے معاملے میں ملک بھر میں دوسرا مقام حاصل کیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے پیر کے روز ”نوٹو سالانہ رپورٹ ۲۶-۲۰۲۵“ (NOTTO Annual Report) جاری کی، جس کے مطابق جنوبی ہند کی ریاستوں میں سب سے زیادہ اعضاء عطیہ کرنے کے معاملات درج کئے گئے ہیں۔ تمل ناڈو، تلنگانہ اور کرناٹک ۲۰۲۵ء میں متوفی افراد کے اعضاء کے سب سے زیادہ عطیات کے معاملے میں ملک میں سرفہرست رہے۔ یہ اعداد و شمار ۱۶ ویں ’انڈین آرگن ڈونیشن ڈے‘ کے موقع پر جاری کئے گئے۔

’نوٹو‘ (NOTTO) کے اعداد و شمار کے مطابق، تمل ناڈو ۲۶۶ متوفی عطیہ دہندگان کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جبکہ تلنگانہ ۲۰۵ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ دہلی مجموعی طور پر ۴۵۶۴ اعضاء کی پیوند کاری کے ساتھ سب سے آگے رہا، اس کے بعد تمل ناڈو (۲۷۹۶)، مہاراشٹر (۲۱۳۶)، تلنگانہ (۱۵۲۳) اور کیرالا (۱۴۸۹) کا نمبر آتا ہے۔ تمل ناڈو نے ۲۰۲۵ء میں کی جانے والی مجموعی پیوند کاری کے معاملے میں ملک بھر میں دوسرا مقام حاصل کیا۔

یہ بھی پڑھئے: تعلیم کے معمار اور سابق گورنر ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل کا ۹۰؍ برس کی عمر انتقال

۲۰۲۵ء میں پورے ملک میں مجموعی طور پر ۲۰۱۳۸ اعضاء کی پیوند کاری کی گئی، جو ایک ہی سال میں ریکارڈ کی گئی اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس رپورٹ نے صنف کی بنیاد پر تفاوت کو بھی اجاگر کیا: تمام زندہ عطیہ دہندگان میں خواتین کا تناسب ۶۸ فیصد (۱۱۳۱۶) تھا، جبکہ مرد ۳۲ فیصد (۵۲۹۸) تھے۔ اس کے برعکس، پیوند کاری حاصل کرنے والوں میں مردوں کا تناسب ۷۸ فیصد (۱۲۹۰۳) تھا، جبکہ خواتین کا تناسب صرف ۲۲ فیصد (۳۷۰۷) رہا۔ گردے کی پیوند کاری (Kidney transplants) تمام پیوند کاریوں کا ۶۲ فیصد تھی، جس کے بعد جگر کی پیوند کاری (Liver transplants) ۴۶ء۲۰ فیصد رہی۔

صحت و خاندانی بہبود کی مرکزی وزیرِ مملکت انوپریہ پٹیل نے کہا کہ زندہ عطیہ دہندگان کے اعضاء کی پیوند کاری میں امریکہ اور چین کے بعد ہندوستان تیسرے نمبر پر ہے۔ انہوں نے اعضاء کے عطیات میں اضافہ کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کو ”قومی ترجیح“ قرار دیا اور کہا کہ اعضاء کے عطیات کو فروغ دینے کیلئے ایک سال طویل ملک گیر بیداری مہم ’جگ جگ جیو ابھیان‘ کا آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید لوگوں کو اس میں حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہوئے اسے ”ہمدردی کا اعلیٰ ترین اظہار“ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: مردم شماری میں او بی سی کیلئے علاحدہ کالم شامل کرنے کا مطالبہ

پٹیل نے کہا کہ کوئی بھی بڑا مذہب اعضاء کے عطیے سے منع نہیں کرتا۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام مذاہب ہمدردی اور انسانی جان بچانے کی تعلیم دیتے ہیں اور اس بات کو تقویت دیتے ہیں کہ اعضاء کا عطیہ ”زندگی کا سب سے بڑا تحفہ“ ہے۔ انہوں نے اس تقریب کے دوران نوٹو موبائل ایپ (NOTTO Mobile App) کا بھی افتتاح کیا اور ’نیشنل برین اسٹیم ڈیتھ سرٹیفکیشن گائیڈ لائنز‘ نیز ’نیشنل گائیڈ لائنز آن سواپ ٹرانسپلانٹیشن‘ کا بھی اجراء کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK