Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہنگولی: ضلع پریشد اسکول میں ٹیچرس کا فقدان ، سرپرستوںکا احتجاج

Updated: August 04, 2026, 10:14 AM IST | Z. A. Khan | Hingoli

قلم نوری تعلقے کے ایک گائوں میں ضلع پریشد اسکول کی ۶؍ جماعتوں کیلئے صرف ۳؍ ٹیچرس ہیں جس کی وجہ سے طلبہ کی تعلیم متاثرہو رہی ہے۔

Parents of students questioning an education officer (yellow uniform). Photo: INN
طلبہ کے والدین ایجوکیشن افسر ( پیلا لباس) سے باز پرس کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

ہنگولی ضلع کے   قلم نوری تعلقہ میں واقع جٹال واڑی گاؤں کے ضلع پریشد اسکول میں اساتذہ کی کمی کے سبب بچوں کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے۔ اس سے ناراض طلبہ کے سرپرستوں نے پیر کے روز    ایجوکیشن آفیسر آساوری کالے کا گھیراؤ کیا۔ دیہاتیوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اساتذہ کی تقرری کی جائے، ورنہ سات دن کے اندر اسکول کو تالہ لگا دیا جائے گا۔ مذکورہ اسکول میں ۶؍   جماعتوں کیلئے  صرف ۳؍ اساتذہ ہیں۔ اس کی  وجہ سے طلبہ کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

اطلاع کے مطابق قلم نوری  تعلقہ کے جٹال واڑی گائوں  میں ضلع پریشد کے زیر انتظام اسکول میں  پہلی  تا  چھٹی جماعت تعلیم دی جاتی ہے۔   اس وقت اسکول میں ۱۰۶؍  طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ تاہم اس اسکول میں اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ ایک استاد کو سینگاؤں تعلقہ میں ڈیپوٹیشن پر بھیجے جانے کے بعد اب یہاں صرف ۳؍ اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جالنہ میں گئو کشی کے بہانے بجرنگ دل کا ہنگامہ،کشیدگی کے دوران ایک زخمی

والدین کا کہنا ہے کہ ۶؍ جماعتوں کیلئے صرف ۳؍ اساتذہ کافی نہیں ہیں، جس سے بچوں کا تعلیمی نقصان ہو رہا ہے۔  دیہاتیوں نے بتایا کہ ۳؍ جولائی کو  ایجوکیشن آفیسر سے  مطالبہ کیا گیا تھا کہ سینگاؤں تعلقہ میں ڈیپوٹیشن پر بھیجے گئے استاد کو واپس جٹال واڑی اسکول میں تعینات کیا جائے۔ اس وقت محکمہ تعلیم نے یقین دہانی کروائی تھی کہ اس سلسلے میں گروپ ایجوکیشن آفیسر کے دفتر کو مطلع کیا جائے گا، لیکن جب والدین نے قلم نوری کے گروپ ایجوکیشن آفیسر سے رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ جٹال واڑی اسکول کیلئے فی الحال کوئی استاد دستیاب نہیں ہے۔ اس صورتحال پر ناراض والدین اور گاؤں کے لوگ پیر کے روز براہِ راست ضلع پریشد دفتر پہنچے اور ایجوکیشن آفیسر آساوری کالے کا گھیراؤ کرتے ہوئے فوری طور پر استاد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے محکمہ تعلیم کو سابقہ یقین دہانی بھی یاد دلائی اور خبردار کیا کہ اگر سات دن کے اندر اضافی استاد فراہم نہ کیا گیا تو وہ اسکول کو تالہ لگا دیں گے۔بعد ازاں ایجوکیشن آفیسر آساوری کالے نے یقین دہانی کروائی کہ ڈیپوٹیشن پر بھیجے گئے استاد کو دوبارہ جٹال واڑی اسکول بلایا جائے گا، جس کے بعد دیہاتیوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا۔ یاد رہے کہ ریاست کے الگ الگ حصوں سے ضلع پریشد اسکول میں اساتذہ کی کمی کی شکایتیں ملتی رہتی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK