Inquilab Logo Happiest Places to Work

نتن گڈکری کا فوری طور پر استعفیٰ لیا جائے : ہرش وردھن سپکال

Updated: August 04, 2026, 10:11 AM IST | Mumbai

مہاراشٹر کانگریس کے صدر نے کہا ای ۲۰؍ پالیسی مودی، گڈکری اور فرنویس کی ملی بھگت سے کیا گیا گھوٹالا ہے۔

Harsh Vardhan Sapkal. Photo: INN
ہرش وردھن سپکال۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نےای ۲۰؍پالیسی کو مودی ۔ گڈکری ۔ فرنویس کا بڑا گھوٹالہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی وزیر نتن گڈکری فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پیٹرول میں ایتھنال ملا کر  چند بااثر افراد اور ان کے خاندانوں کو کروڑوں روپے کا فائدہ پہنچایا گیا، جبکہ اس کا خمیازہ لاکھوں گاڑی مالکان کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اس ماہ ای کے وائی سی نہیں ہوا تو اگلے ماہ ٹیچرس کو تنخواہ نہیں ملے گی

ممبئی کے تلک بھون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ای ۲۰؍ منصوبہ اصل میں ۲۰۳۰ء میں نافذ ہونا تھا، لیکن چند مفاد پرست عناصر کو فائدہ پہنچانے کیلئے مودی حکومت نے اسے قبل از وقت نافذ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں کہ ایتھنال کی آڑ میں پیٹرول میں پانی ملایا جا رہا ہے، جس سے گاڑیوں میں تکنیکی خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خلیجی ممالک میں ایندھن کی قلت سے فائدہ اٹھانے کیلئے بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی گئی ہے۔ اس پورے معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئے۔ سپکال نے کہا کہ ایتھنال پالیسی کے سب سے بڑے حامی نتن گڈکری رہے ہیں اور ان کے اصرار کی وجہ سے ہزاروں گاڑیاں متاثر ہوئیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس گھوٹالے میں کئی دلال بھی شامل ہیں، جن کے نام بھی جلد سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت وصول کر کے پانی فروخت کرنا عوام کے ساتھ سنگین دھوکہ ہے، اسلئے وزیر اعظم مودی کو ملک سے معافی مانگنی چاہئے۔ایک سوال کے جواب میں ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ دیویندر فرنویس کو دہلی بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے اور وہ خود بھی جلد دہلی جانا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ہندی زبان کو مسلط کرنے کا فیصلہ بھی اسی منصوبے کا حصہ تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مہایوتی حکومت میں فرنویس کا سیاسی کردار محدود کیا جا رہا ہے اور حقیقت میں مہاراشٹر کے اصل وزیر اعلیٰ امیت شاہ ہیں، جبکہ دیویندر فرنویس محض ’شیڈو وزیر اعلیٰ‘ ہیں۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس اپنے ایجنڈے کو نافذ کرنے کیلئے فرنویس کو دہلی میں اہم ذمہ داری دینا چاہتے ہیں۔ سپکال کے مطابق منوسمرتی کے نظریات، چاتروَرن (چار طبقاتی) نظام اور آئین و تعلیمی نظام میں تبدیلیوں کیلئے انہیں موزوں سمجھا جا رہا ہے، اسی لئے انہیں مرکزی وزیر تعلیم بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK