Inquilab Logo Happiest Places to Work

درخت گرنے کے واقعہ کے بعد اب مین ہول میں گرکرراہ گیرکی موت

Updated: July 03, 2026, 9:21 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

چمبور حادثہ کے ۲؍دن بعد ساکی ناکہ میں دوسرا اندوہناک حادثہ ۔بی ایم سی پھرتنقید کی زد پر۔ ایل وارڈ کے اسسٹنٹ میونسپل کمشنر سمیت ۴؍ افسرا ن معطل۔

Aslam Sheikh, Who Was Passing By While Talking On The Phone. A Man Is Telling About The Manhole In Which Aslam Sheikh Died After Falling.Photo: PTI
اسلم شیخ جو فون پر گفتگو کرتے ہوئے گزررہے تھے۔ایک شخص وہ مین ہول بتارہا ہے جس میں گرکراسلم شیخ کی موت ہوگئی۔ تصویر: پی ٹی آئی
چمبور میں اسکول بس پر درخت گرنے کے حادثہ کے بعد اب ساکی ناکہ کے ایک کھلے مین ہول میں گرکر  راہ گیر کی موت ہوگئی ۔۲؍دن میں ۲؍ اندوہناک حادثہ کے بعد شہری انتظامیہ تنقید کی زد پر ہے۔اس معاملے میں بی ایم سی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایل وارڈ کے اسسٹنٹ میونسپل کمشنرسمیت ۴؍افسران کو معطل کردیا ہے جبکہ متوفی کے اہل خانہ کو ۱۰؍لاکھ روپے معاوضہ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔   ۵۵؍ سالہ متوفی اسلم اسحٰق شیخ ساکی ناکہ کا رہنے والا تھا۔ اس حادثہ کے بعد شہر کی سیاست گرم ہوگئی ہے ۔
۲؍ سال پرانا ٹھیکہ لیکن کام ادھورا
ممبئی کی میئر ریتو تائوڑے نے جائے حادثہ کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مین ہول میں حفاظتی جالی بچھانے کیلئے اس گٹر کا ڈھکن ہٹایا گیا تھا تبھی اسلم شیخ فون پر بات کرتے ہوئے وہاں سے گزر رہے تھے، اگرچہ وہاں موجود بی ایم سی اسٹاف نے انہیں آواز دے کر متنبہ کیا لیکن ناکافی حفاظتی انتظامات کی وجہ سے وہ اس میں گر گئے۔ میئر نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ جالیاں نصب کرنے کا ٹھیکہ دو برس قبل دیا گیا تھا اور ان ۲؍ برسوں میں گرمیوں اور دیگر موسم میں یہ کام نہیں کیا گیا۔ جمعرات کو محکمہ موسمیات نے ۳؍ گھنٹوں کیلئے ریڈ الرٹ جاری کیا تھا اور اس دوران شدید بارش ہورہی تھی ، اسی وقت جالی نصب کرنے کیلئے مین ہول کھولا گیا تھا جس سے یہ حادثہ پیش آیا۔
واضح رہے کہ حادثہ کے وقت مین ہول میں پانی کا بہاؤ  بہت تیز تھاجس کی وجہ سے  اسلم شیخ   کس سمت   بہہ گئے  ، یہ  وہاں موجود اہلکاروں جو انہیں بچانے کی کوشش کررہے تھے ، کو پتہ نہیں چلا۔ بہر حال بعد میں فائر بریگیڈ کی مدد اور جدید آلات کے استعمال سے ان کی لاش کو باہر نکالا گیا۔
ٹھیکیدار کے خلاف ایف آئی آر درج
جمعرات کے حادثہ نے بی ایم سی کی کارکردگی پر کئی سوال کھڑے کردیئے ہیں کیونکہ منگل کی دوپہر چمبور میں ایک   اسکول بس پر درخت گر جانے کی وجہ سے   ۱۱؍ سالہ طالب علم کی موت ہوگئی تھی اور  ۴؍ بچے زخمی ہوگئے تھے۔ شہر  کےدرختوں کے تحفظ کی ذمہ داری بھی بی ایم سی کی ہے اور اسکول بس والے حادثے کے سلسلے میں بی ایم سی نے ۲؍ افسران کو معطل کرکے حادثہ کی تفتیش کیلئے ۲؍ میونسپل افسران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اسلم شیخ کے مین ہول میں گرنے کے معاملے میں بھی بی ایم سی نے ان کے پسماندگان کیلئے ۱۰؍ لاکھ روپے معاوضہ کا اعلان کرنے کے ساتھ اس وارڈ کے ۴؍   افسران کو معطل کرنے، ٹھیکیدار کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے اور اس معاملے کی تفتیش کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کے احکام جاری کردیئے ہیں ۔دریں اثناء میونسپل کمشنر نےمتوفی  اسلم شیخ کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے اظہارِ تعزیت کیا۔
اپوزیشن کا مستقل حل کا مطالبہ
اس حادثہ کے بعد بی ایم سی میں کانگریس کے گروپ لیڈر اشرف اعظمی اور شیوسینا (یوبی ٹی) کی گروپ لیڈر کشوری پیڈنیکر نے میونسپل کمشنر اشوینی بھیڈے سے ملاقات کرکے مطالبہ کیا کہ ۴۸؍ گھنٹوں میں اسکول بس پر درخت گرنے سے ایک طالب علم اور مین ہول میں گرنے سے ایک شخص کی موت  کے  واقعات  ہوئے ہیں اور شہری انتظامیہ کے افسران اور بی ایم سی میں حکمراں محاذ کی لگاتار ناکامیاں سامنے آرہی ہیں اس لئے اس تعلق سے کارپوریٹروں کا خصوصی اجلاس بلایاجائے تاکہ بی ایم سی کے کاموں کا احتساب کیا جاسکے۔ اشرف اعظمی نے اس مطالبہ کا ایک خط بھی اشوینی بھیڈے کو دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۲۰۱۷ء میں  ڈاکٹر دیپک امراپورکر کی مین ہول میں گرنے سے موت ہوئی تھی جس کے بعد سے ۴۰؍ سے  زائدافراد مین ہول میں گرکرہلاک ہوچکے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK