Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی اور بوٹس انسان سے زیادہ انٹرنیٹ ٹریفک پیدا کررہے ہیں : کلاؤڈفلیئر

Updated: June 09, 2026, 2:02 PM IST | California

ویب انفراسٹرکچر کمپنی Cloudflareکے تازہ اعداد و شمار کے مطابق تاریخ میں پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت اور خودکار بوٹس انسانوں سے زیادہ انٹرنیٹ ٹریفک پیدا کر رہے ہیں۔ کمپنی کے نیٹ ورک پر ویب سائٹس کو موصول ہونے والی ۴ء۵۷؍ فیصد درخواستیں اب بوٹس اور اے آئی ایجنٹس کی جانب سے آتی ہیں، جبکہ انسانی صارفین کا حصہ ۶ء۴۲؍ فیصد رہ گیا ہے۔

Artificial Intelligence. Photo: INN
مصنوعی ذہانت۔ تصویر: آئی این این

انٹرنیٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے خودکار نظاموں اور بوٹس نے ویب ٹریفک کے لحاظ سے انسانوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جسے ماہرین ڈجیٹل دنیا میں ایک اہم سنگِ میل قرار دے رہے ہیں۔ ویب انفراسٹرکچر کمپنی Cloudflare کی جانب سے جاری کردہ نئے اعداد و شمار کے مطابق اس کے عالمی نیٹ ورک پر ویب سائٹس کو موصول ہونے والی ۴ء۵۷؍ فیصد درخواستیں اب بوٹس اور اے آئی ایجنٹس کی جانب سے آتی ہیں، جبکہ انسانی صارفین صرف ۶ء۴۲؍ فیصد ٹریفک کے ذمہ دار ہیں۔ یہ تبدیلی مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس، خودمختار ڈجیٹل ایجنٹس اور ایسے سسٹمز کی تیز رفتار ترقی کا نتیجہ ہے جو انسانی مداخلت کے بغیر معلومات تلاش کرنے، ویب سائٹس کا جائزہ لینے اور مختلف آن لائن کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کلاؤڈ فلیئر کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر میتھیو پرنس نے اس پیش رفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’’یہ میری توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے ہوا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں سمجھتا تھا کہ یہ مرحلہ ۲۰۲۷ء کے آخر یا کم از کم ۲۰۲۷ء کے اوائل میں آئے گا، لیکن اے آئی ایجنٹس کی ٹریفک اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ اب پہلی مرتبہ بوٹس نے انسانی ٹریفک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔‘‘ میتھیو پرنس کے مطابق اے آئی سسٹمز معلومات کو انسانی صلاحیت کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی اور بڑے پیمانے پر پروسیس کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک عام صارف آن لائن خریداری سے پہلے اوسطاً پانچ ویب سائٹس کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ ایک اے آئی چیٹ بوٹ چند لمحوں میں ہزاروں صفحات کا موازنہ کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران اسرائیل کشیدگی:خامنہ ای نےکہا ’’صہیونی حکومت کے چند دن باقی ہیں‘‘

رپورٹ کے مطابق یہ رجحان صرف ویب سرچ یا آن لائن خریداری تک محدود نہیں رہا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی خودکار اکاؤنٹس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جو مواد تخلیق کرتے، تبصرے شائع کرتے اور بعض اوقات سیاسی یا نظریاتی مقاصد کے لیے رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی دوران مکمل طور پر مصنوعی ذہانت پر مبنی آن لائن ماحولیاتی نظام بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان میں ایک مثال Moltbook ہے، جو خصوصی طور پر اے آئی ایجنٹس کے لیے تیار کیا گیا پلیٹ فارم ہے۔ اطالوی خبر رساں ایجنسی اے این ایس اے کے مطابق اس پلیٹ فارم نے اپنے پہلے ہی ہفتے میں ۱۶؍ لاکھ خودمختار اے آئی ایجنٹس کو اپنی جانب متوجہ کیا، جنہوں نے انسانی شرکت کے بغیر باہمی رابطے اور کمیونٹی کے اپنے طریقے تشکیل دیے۔

یہ پیش رفت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو بھی مزید تقویت دے رہی ہے۔ این ویڈیا، مائیکروسافٹ اور اوپن اے آئی سمیت کئی ادارے ایسے ایجنٹک اے آئی سسٹمز پر کام کر رہے ہیں جو خودمختار انداز میں ویب سائٹس کو نیویگیٹ کر سکیں، فیصلے کر سکیں اور مختلف آن لائن سرگرمیاں انجام دے سکیں۔ میتھیو پرنس نے اس رجحان کو مشہور ’’Dead Internet Theory‘‘ سے بھی جوڑا، جس کے مطابق مستقبل میں بوٹس اور خودکار نظام آن لائن سرگرمیوں پر غالب آ سکتے ہیں اور انسانی تخلیق کردہ مواد نسبتاً کم نمایاں رہ جائے گا۔ تاہم انہوں نے اس تبدیلی کو مکمل طور پر منفی قرار دینے سے گریز کیا۔ ان کے مطابق اے آئی ایجنٹس انٹرنیٹ کے لیے نئے معاشی ماڈلز، نئی خدمات اور نئی کاروباری مواقع بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں بچوں کو نشانہ بنانے سے متعلق رپورٹ کو یورپی پریس پرائز ۲۰۲۶ء تفویض

انہوں نے کہا کہ ’’ایک نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ہم انٹرنیٹ کے ایک نئے سنہری دور کی دہلیز پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔‘‘ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کی تیز رفتار پیش رفت انٹرنیٹ کے ڈھانچے، ڈجیٹل معیشت، آن لائن سیکوریٹی اور معلومات کی ترسیل کے نظام کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ غلط معلومات، خودکار پروپیگنڈا، رازداری اور انسانی کردار میں کمی جیسے چیلنجز بھی شدت اختیار کر سکتے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے نئی پالیسیوں اور ضابطوں کی ضرورت ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK