Updated: July 05, 2026, 3:04 PM IST
| Edinburgh
دل کے معمول کے سی ٹی اسکینز پر مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے کی گئی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جن افراد کے سینے، کمر اور بنیادی (Core) پٹھے زیادہ مضبوط اور گھنے ہوتے ہیں، ان میں دل کا دورہ پڑنے اور قبل از وقت موت کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہوتا ہے۔ ایڈنبرا یونیورسٹی کے محققین نے ۱۷۲۲؍ مریضوں کے اسکینز کا تجزیہ کرتے ہوئے پایا کہ پٹھوں کا معیار، ان کے سائز سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
دل کی صحت کے حوالے سے ایک نئی اور اہم تحقیق نے یہ اشارہ دیا ہے کہ صرف زیادہ پٹھے ہونا کافی نہیں، بلکہ ان کا مضبوط اور گھنا ہونا دل کو زیادہ عرصے تک صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایڈنبرا یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے دل کے معمول کے سی ٹی اسکینز کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کے سینے، کمر اور بنیادی پٹھے زیادہ مضبوط اور گھنے تھے، ان میں نہ صرف دل کے دورے کا خطرہ کم تھا بلکہ آئندہ برسوں میں قبل از وقت موت کے امکانات بھی نمایاں طور پر کم دیکھے گئے۔ یہ تحقیق طبی جریدے Radiology میں شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا کہ پٹھوں کا معیار مستقبل میں دل کی بیماری کے خطرات جانچنے کے لیے ایک نئے حیاتیاتی اشارے (Biomarker) کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مرحوم خامنہ ای کے جنازے میں ۱۴؍ ماہ کی پوتی کا تابوت مرکز توجہ، سوشل میڈیا غمگین
تحقیق کے دوران ۱۷۲۲؍ ایسے مریضوں کے سینے کے سی ٹی اسکینز کا جائزہ لیا گیا جن کی اوسط عمر ۵۰؍ برس کے لگ بھگ تھی اور جنہیں سینے میں درد کی شکایت کے بعد کورونری سی ٹی انجیوگرافی کرائی گئی تھی۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے محققین نے سینے اور کمر کے پٹھوں، چربی، ہڈیوں اور دیگر اعضا کی پیمائش کی۔ تاہم انہوں نے صرف پٹھوں کے حجم پر نہیں بلکہ پٹھوں کی کثافت (Muscle Density) پر توجہ دی، کیونکہ زیادہ گھنے پٹھوں میں چربی کم ہوتی ہے اور وہ سی ٹی اسکین میں زیادہ واضح دکھائی دیتے ہیں۔ نتائج کے مطابق پٹھوں کی کثافت میں ہر ۱۰؍ پوائنٹس اضافے کے ساتھ دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ ۳۱؍ فیصد کم دیکھا گیا جبکہ آئندہ دس برس کے دوران موت کا امکان ۳۹؍ فیصد تک کم پایا گیا۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ صرف پٹھوں کا بڑا حجم دل کی بیماری یا بقا کے امکانات سے براہِ راست منسلک نہیں تھا، جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ پٹھوں کا معیار ان کے سائز سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
اگرچہ اس تحقیق میں شرکاء کی ورزش کی عادات کا براہِ راست جائزہ نہیں لیا گیا، تاہم محققین کا کہنا ہے کہ زیادہ گھنے پٹھے رکھنے والے افراد عموماً جسمانی طور پر زیادہ متحرک ہوتے ہیں اور ان کے بنیادی عضلات بہتر حالت میں ہوتے ہیں۔ تحقیق کی سینئر مصنف پروفیسر مشیل ولیمز نے کہا کہ اس تحقیق کے نتائج اتنے حوصلہ افزا ہیں کہ انہوں نے اپنی روزمرہ کی فٹنس روٹین بھی تبدیل کر لی ہے۔ ان کے مطابق وہ اب ہفتے میں دو مرتبہ جم جاتی ہیں، روزانہ تقریباً ایک گھنٹہ پیدل چلنے کی کوشش کرتی ہیں اور سائیکلنگ، پیلیٹس اور پلینک جیسی ورزشوں کو ترجیح دیتی ہیں، جو سینے، کمر اور بنیادی عضلات کو مضبوط بناتی ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ مختلف اقسام کی ورزشیں پٹھوں کی کثافت پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہیں اور آیا صرف پٹھوں کے معیار میں بہتری ہی دل کی بیماری کا خطرہ براہِ راست کم کرتی ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: شدید گرمی سے جنگلات میں آتشزدگی، ۹۰۰؍ ایکڑ اراضی خاکستر
ماہرین کے مطابق مستقبل میں دل کے معمول کے سی ٹی اسکینز کا اے آئی کے ذریعے تجزیہ ڈاکٹروں کو ایسے مریضوں کی بروقت شناخت میں مدد دے سکتا ہے جن کے پٹھوں کی کوالٹی کمزور ہونے کے باعث انہیں دل کی بیماری کا زیادہ خطرہ لاحق ہو۔ ایسے افراد کو ذاتی نوعیت کے ورزش پروگرام، قریبی طبی نگرانی اور مناسب ادویات کے ذریعے ابتدائی مرحلے میں علاج فراہم کیا جا سکتا ہے، جس سے دل کے دورے اور دیگر قلبی پیچیدگیوں کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔ ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگرچہ یہ تحقیق مضبوط پٹھوں اور بہتر دل کی صحت کے درمیان تعلق ظاہر کرتی ہے، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صرف مضبوط سینے یا کمر کے پٹھے ہی دل کے دورے کو روک دیتے ہیں۔ باقاعدہ ورزش، متوازن غذا، مناسب وزن برقرار رکھنا اور صحت مند طرزِ زندگی اب بھی دل کی بیماری سے بچاؤ کے بنیادی عوامل ہیں۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق مصنوعی ذہانت کو طب میں استعمال کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جو مستقبل میں دل کی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔