Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی سیکوریٹی مارکیٹ میں تیزی، ۲۰۲۷ء تک ۸ء۴؍ارب ڈالر پہنچنے کا امکان

Updated: August 26, 2026, 8:00 PM IST | New Delhi

مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے استعمال میں تیزی کے ساتھ دنیا بھر میں اے آئی سسٹمز کی سیکوریٹی پر ہونے والا خرچ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ گارٹنر کی نئی رپورٹ کے مطابق اے آئی سیکوریٹی کا عالمی بازار ۲۰۲۷ء تک تقریباً ۸ء۴؍ ارب ڈالرس تک پہنچ سکتا ہے، جو۲۰۲۶ء کے مقابلے میں ۷ء۶۸؍ فیصد زیادہ ہوگا۔

Ai Defence.Photo:INN
اے آئی سیکوریٹی۔ تصویر:آئی این این

مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے استعمال میں تیزی کے ساتھ دنیا بھر میں اے آئی سسٹمز کی سیکوریٹی  پر ہونے والا خرچ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔  گارٹنر  کی نئی رپورٹ کے مطابق اے آئی سیکوریٹی  کا عالمی بازار  ۲۰۲۷ء تک تقریباً ۸ء۴؍ ارب ڈالرس تک پہنچ سکتا ہے، جو۲۰۲۶ء کے مقابلے میں ۷ء۶۸؍ فیصد زیادہ  ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۸ء تک یہ مارکیٹ بڑھ کر تقریباً ۷ء۷؍ ارب ڈالرس تک پہنچنے کا امکان ہے۔
گارٹنر کے سینئر پرنسپل اینالسٹ  شیلیندر اپادھیائے  کے مطابق اس تیز رفتار ترقی کی بڑی وجہ کمپنیوں کے لیے اے آئی سسٹمز کو محفوظ بنانا ایک بڑھتی ہوئی ضرورت بن جانا ہے۔کمپنیاں اب صرف اے آئی کو اپنے کاروبار میں شامل کرنے پر توجہ نہیں دے رہیں بلکہ اس سے پیدا ہونے والے  سائبر سیکوریٹی خطرات، کمزوریوں اور نئے نوعیت کے حملوں  سے بچاؤ بھی ان کی ترجیح بن چکا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اے آئی منصوبوں میں  تھرڈ پارٹی اور اوپن سورس سافٹ ویئر  کا استعمال بڑھنے سے سیکوریٹی کے نئے چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:بی بی ایل کے نئے ضوابط کے تحت آسٹریلوی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو زیادہ رقم ملے گی

سپلائی چین پر ہونے والے سائبر حملے اور اے آئی سسٹمز میں موجود کمزوریاں اداروں کے لیے بڑا خطرہ بن رہی ہیں۔ مناسب سیکوریٹی اور نگرانی نہ ہونے کی صورت میں اے آئی پر مبنی کئی منصوبوں کے ناکام ہونے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
 گارٹنر کے مطابق ۲۰۲۹ء تک اے آئی ایجنٹس پر ہونے والے نصف سے زیادہ کامیاب سائبر حملے  رسائی کے کنٹرول میں موجود کمزوریوں اور پرامپٹ انجکشن  جیسی تکنیکوں کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث مستقبل میں خصوصی اے آئی سیکوریٹی حل کی ضرورت مزید بڑھنے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۷ء میں اے آئی ایپلیکیشن سیکوریٹی   اخراجات کی سب سے بڑی کیٹیگری ہوگی۔ اس شعبے میں تقریباً  ۸۵۱؍ ملین ڈالرس خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ اس  کے بعداے یوسیج کنٹرول کا نمبر آئے گا، جس پر تقریباً  ۷۴۹؍ ملین ڈالرس خرچ ہونے کی توقع ہے۔شیلیندر اپادھیائے کے مطابق جیسے جیسے اے آئی رن ٹائم سیکوریٹی  اور خصوصی اے آئی گیٹ ویز زیادہ قابلِ اعتماد ہوتے جائیں گے، کمپنیوں کا ان ٹیکنالوجیز پر اعتماد اور استعمال بھی بڑھے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خودکار اور خودمختار اے آئی سسٹمز ایسی نئی کمزوریاں پیدا کر رہے ہیں جنہیں روایتی نگرانی اور سیکوریٹی ٹولز مکمل طور پر شناخت نہیں کر پاتے۔اسی لیے اداروں کو اے آئی ماڈلز کی شناخت، نگرانی اور تحفظ  کے لیے خصوصی  سیکوریٹی  حل اپنانے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے:کیرتی سینن کی اشتہار پر تنازع، سوشل میڈیا ردعمل کے بعد جیوانے اشتہار ہٹا دیا

گارٹنر کے مطابق اے آئی سیکوریٹی کی حکمت عملی صرف نئے سیکوریٹی ٹولز خریدنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ کمپنیوں کو اپنی موجودہ سائبر سیکوریٹی  کو خصوصی اے آئی سیکوریٹی حل کے ساتھ مربوط کرنا ہوگا۔ روایتی سائبر سیکوریٹی ٹولز اکثر اے آئی ایپلی کیشنز کو عام سافٹ ویئر کی طرح دیکھتے ہیں، جبکہ اے آئی سسٹمز کے خطرات مختلف نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے آنے والے برسوں میں کمپنیوں کو اپنی سیکوریٹی حکمت عملی میں بڑے پیمانے پر  اپ گریڈ اور تبدیلیاں  کرنا پڑیں گی۔ مجموعی طور پر، اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ اس کی سیکوریٹی بھی ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کا ایک اہم شعبہ بنتی جا رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK