جاپان: ۱۶۱۱ء میں بنائے گئے ۳۶۰؍ ٹن وزنی ہیروساکی کیسل کو ۱۸۰۰؍ افراد نے ہاتھ سے کھینچا تاکہ اس کی مرمت کی جاسکے، ان افراد نے کیسل کو ۲؍ میٹر سے زائد فاصلے تک کھینچا۔
EPAPER
Updated: August 26, 2026, 7:59 PM IST | Tokyo
جاپان: ۱۶۱۱ء میں بنائے گئے ۳۶۰؍ ٹن وزنی ہیروساکی کیسل کو ۱۸۰۰؍ افراد نے ہاتھ سے کھینچا تاکہ اس کی مرمت کی جاسکے، ان افراد نے کیسل کو ۲؍ میٹر سے زائد فاصلے تک کھینچا۔
شمالی جاپان میں تقریباً۱۸۰۰؍ افراد نے ایک بڑے تحفظی منصوبے کے تحت۳۶۰؍ ٹن وزنی کیسل (قلعے) کو اپنے ہاتھوں سے دو میٹر سے زیادہ منتقل کرنے میں مدد کی۔ سنیچر کوضاکاروں کی ٹیموں نے باری باری اوموری پریفیکچر میں واقع ہیروساکی کیسل کے برج (کیپ) سے منسلک۳۰؍ میٹر لمبی رسیوں کو کھینچا اور اسےایک اعشاریہ ۱۳؍ میٹر اور اتوار کو مزیدایک اعشاریہ صفر ۹؍ میٹر آگے بڑھایا۔ یہ برج جو کیسل کے اندر ایک مضبوط مینار ہے، کو۲۰۱۵ء میں اس کی اصل جگہ سے ہٹایا گیا تھا تاکہ مزدور ایک بڑے زلزلے سے تباہ کیسل کی دیوار کی مرمت کر سکیں۔
بعد ازاں حکام نے قومی سطح پر نامزد ’’ثقافتی ورثے‘‘ کو گرائے بغیر، ’’ہِکیا‘‘ نامی ایک قدیم جاپانی تکنیک استعمال کی، جس میں عمارتوں کو رولر یا پٹریوں پر رکھ کر سالم منتقل کیا جاتا ہے۔ اب دیوار کو دوبارہ تعمیر کر دیا گیا ہے اور تمام۲۱۸۵ء پتھر اپنی اصل جگہوں پر واپس رکھ دیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ’’ ہکیا‘‘ تکنیک، جو کبھی شہری ترقی، سڑکوں کو چوڑا کرنے اور دیگر تعمیراتی منصوبوں کے لیے استعمال ہوتی تھی، اب جاپان میں تاریخی عمارتوں کو محفوظ رکھنے کے لیے تیزی سے استعمال ہو رہی ہے، ورنہ انہیں گرانا یا تباہ کرنا پڑتا۔
🚨 Japanese people are moving Hirosaki Castle in Aomori using the traditional Hikiya technique, a historic method of relocating buildings by carefully sliding them along the ground.
— RDS NETWORK (@rdsnetwor_k) August 26, 2026
A remarkable blend of traditional engineering, precision and cultural heritage. pic.twitter.com/ndswdlzUWN
گارجین کے مطابق، ہیروساکی شہر کے پارک اور سبزہ جات ڈویژن کے سربراہ کینسوکے ہیاساکا نے بتایا، ’’ہمیں گزشتہ دو دنوں میں۱۸۰۰؍ نشستوں کے لیے تقریباً۸۰۰۰؍ درخواستیں موصول ہوئیں، جو تقریباً چار گنا زیادہ تھیں، اس لیے سبھی شرکت نہیں کر سکے۔ درخواست دینے والے نہ صرف شہر سے بلکہ پورے جاپان اور بیرون ملک سے تھے، جن میں جنوب مشرقی ایشیا، یورپ اور شمالی امریکہ سے کافی تعداد شامل تھی۔‘‘اس مہینے میں تقریباً ۴۱۰۰؍ افراد برج کو ہاتھوں سے کل۵؍ میٹر منتقل کرنے میں مدد کریں گے، جبکہ مشینری باقی۷۳؍ میٹر کا فاصلہ طے کرے گی۔ ’’کیوڈو نیوز ‘‘کے مطابق، ایک شخص جس کی شناخت می اُومیتسو کے نام سے ہوئی، نے کہا،’’میں نے۱۱؍ سال پہلے (مرمت کے لیے اصل جگہ سے) اسے کھینچا تھا۔ اب دوبارہ حصہ لے کر مجھے جذباتی طور پر بہت اچھا لگ رہا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی رکن پارلیمان نے مقبوضہ مغربی کنارہ میں موجود فلسطینی میموریل کو توڑا
ذہن نشین رہے کہ یہ جاپان کے صرف۱۲؍ بچ جانے والےکیسل (قلعہ )برجوں میں سے ایک ہے اور اسے تین کونے کی برجوں اور دوسری باہری دیوار میں پانچ قلعہ دروازوں کے ساتھ، جاپان میں ’’اہم ثقافتی ورثہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ جاپان نیشنل ٹورازم آرگنائزیشن (JNTO) کے مطابق، ہیروساکی کیسل کا برج اصل میں پانچ منزلہ تھا، لیکن یہ۱۶۲۷ء میں بجلی گرنے سے تباہ ہو گیا۔ موجودہ تین منزلہ ڈھانچہ۱۸۱۱ء میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ ٹورازم آرگنائزیشن کے مطابق،۱۸۶۸ء میں سامورائی دور کے خاتمے کے بعد زیادہ تر جاپانی کیسل ختم کر دیے گئے یا دوسری جنگ عظیم کے دوران تباہ ہو گئے، جس کا مطلب ہے کہ آج نظر آنے والے بہت سے قلعے جنگ کے بعد کے دور میں دوبارہ تعمیر کیے گئے تھے۔ تاہم ہیروساکی کیسل توہوکو علاقے میں منفرد ہے کیونکہ یہ ایڈو دور ۱۶۰۳ء تا ۱۸۶۷ء کے دوران بنایا گیا واحد قلعہ ہے جو آج بھی کھڑا ہے۔۲۰۰۶ء میں، اسے جاپان کی۱۰۰؍ بہترین کیسل کی فہرست میں جاپان کیسل فاؤنڈیشن نے شامل کیا تھا۔