Updated: August 26, 2026, 8:00 PM IST
| Sydney
آسٹریلیا میں اب کسی گانے کو آفیشل میوزک چارٹس میں جگہ بنانے کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ اس کی تخلیق میں انسانی کردار نمایاں اور بنیادی ہو یعنی مکمل طور پر یا بڑی حد تک مصنوعی ذہانت (اے آئی ) سے تیار کیے گئے گانے چارٹس میں شامل ہونے کے اہل نہیں ہوں گے۔
اے آئی میوزک۔ تصویر:آئی این این
آسٹریلیا میں اب کسی گانے کو آفیشل میوزک چارٹس میں جگہ بنانے کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ اس کی تخلیق میںانسانی کردار نمایاں اور بنیادی ہو یعنی مکمل طور پر یا بڑی حد تک مصنوعی ذہانت (اے آئی ) سے تیار کیے گئے گانے چارٹس میں شامل ہونے کے اہل نہیں ہوں گے۔ آسٹریلیا کے میوزک چارٹس سے متعلق ادارے نے واضح کیا ہے کہ چارٹس میں شامل ہونے والے گیتوں کو بنیادی طور پر انسانی تخلیق کا نتیجہ ہونا چاہیے۔ اس اقدام کا مقصد موسیقی میں انسانی تخلیق، فنکارانہ صلاحیت اور حقیقی موسیقاروں کے کام کی اہمیت کو برقرار رکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کیرتی سینن کی اشتہار پر تنازع، سوشل میڈیا ردعمل کے بعد جیوانے اشتہار ہٹا دیا
حالیہ برسوں میں اے آئی ٹیکنالوجی نے موسیقی کی دنیا میں تیزی سے جگہ بنائی ہے۔اے آئی کی مدد سے آواز، دھن، بول اور حتیٰ کہ کسی معروف گلوکار جیسی آواز بھی تیار کی جا سکتی ہے۔ اس کے باعث میوزک انڈسٹری میں یہ بحث تیز ہوئی ہے کہ اے آئی سے بنائے گئے گانوں کو حقیقی فنکاروں کے ساتھ ایک ہی چارٹ میں جگہ دی جانی چاہیے یا نہیں۔نئے اصول کے تحت صرف اے آئی کے استعمال کی بنیاد پر کسی گانے کو لازماً خارج نہیں کیا جائے گا۔ تاہم گانے کی مجموعی تخلیق میں **انسانی تخلیقی کردار بنیادی ہونا ضروری ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:بی بی ایل کے نئے ضوابط کے تحت آسٹریلوی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو زیادہ رقم ملے گی
اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی گلوکار یا موسیقار اے آئی کو ایک معاون ٹول کے طور پر استعمال کرتا ہے، لیکن گانے کی تخلیق، کمپوزیشن، پرفارمنس اور حتمی فنکارانہ فیصلوں میں انسان کا اہم کردار موجود ہے تو ایسا گانا چارٹ میں شامل ہونے کے قابل ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب اگر کسی گانے کی زیادہ تر تخلیق اے آئی نے کی ہو اور انسانی تخلیقی کردار بہت محدود ہو تو اس کے چارٹس میں شامل ہونے پر سوال اٹھ سکتا ہے۔
میوزک چارٹس صرف مقبولیت کی فہرست نہیں ہوتے بلکہ وہ اس بات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں کہ کون سے فنکار اور گانے مارکیٹ میں نمایاں ہو رہے ہیں۔ اے آئی سے تیار ہونے والے گانوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ حقیقی موسیقاروں اور گلوکاروں کو مکمل طور پراے آئی سے تیار کردہ مواد سے غیر منصفانہ مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔آسٹریلیا کا یہ فیصلہ اس وسیع عالمی بحث کا حصہ ہے جس میں میوزک انڈسٹری اے آئی، کاپی رائٹ، فنکاروں کے حقوق اور انسانی تخلیق کی حدود طے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔