ہدایات کے مطابق تقریبات، سیمینارز، جشن، سرکاری ظہرانوں، عشائیوں اور تفریحی سرگرمیوں پر سرکاری اخراجات سے گریز کیا جائے گا۔
EPAPER
Updated: June 11, 2026, 11:57 AM IST | Chandigarh
ہدایات کے مطابق تقریبات، سیمینارز، جشن، سرکاری ظہرانوں، عشائیوں اور تفریحی سرگرمیوں پر سرکاری اخراجات سے گریز کیا جائے گا۔
کووڈ کے بعد عالمی اقتصادی بحالی، روس-یوکرین جنگ اور مغربی ایشیا کے جاری بحران کے باعث پیدا ہونے والی عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر، ہریانہ حکومت نے ایندھن کے تحفظ، توانائی کی بچت اور سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے وسیع پیمانے پر کفایتی ہدایات جاری کی ہیں۔
چیف سیکریٹری آفس کی جانب سے جاری کردہ یہ ہدایات ستمبر ۲۰۲۶ء تک نافذ العمل رہیں گی اور ریاست کے تمام محکموں، بورڈز، کارپوریشنز، بلدیاتی اداروں اور سرکاری اتھارٹیز پر لاگو ہوں گی۔چیف سیکریٹری آفس کے ایک سینئر افسر کے مطابق، ایندھن کی فراہمی پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور درآمدی اخراجات میں اضافے کے باعث یہ اقدامات ضروری سمجھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ان عالمی حالات اور ان کے ریاستی مالیات پر اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے، توانائی کے تحفظ، ایندھن کے استعمال میں کمی اور سرکاری اخراجات کو محدود کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنا دانشمندانہ فیصلہ ہے۔
غیر ملکی سفر پر پابندی، آن لائن اجلاس لازمی
سب سے سخت اقدامات میں سے ایک سرکاری ملازمین کے لیے سرکاری اور ذاتی دونوں مقاصد کے لیے بیرونِ ملک سفر کی منظوری پر مکمل پابندی ہے، جو ستمبر ۲۰۲۶ء تک برقرار رہے گی۔ صرف طبی علاج کے لیے استثنیٰ رکھا گیا ہے۔حکومت نے محکموں کو ہدایت دی ہے کہ کم از کم ۵۰؍ فیصد اجلاس ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد کیے جائیں اور جہاں ممکن ہو سرکاری سفر کو کم سے کم رکھا جائے۔ حکم نامے میں کہا گیا’’ سرکاری سفروں میں کمی اور ورچوئل رابطوں میں اضافہ فوری طور پر ایندھن کے استعمال اور متعلقہ اخراجات کو کم کرے گا۔‘‘
سرکاری تقریبات، ریلیوں اور وی وی آئی پی قافلوں میں کمی
ہدایات کے مطابق تقریبات، سیمینارز، جشن، ورکنگ لنچ، عشائیوں اور تفریحی سرگرمیوں پر سرکاری اخراجات سے اجتناب کیا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ اس عرصے میں ریلیوں، گاڑیوں کے جلوسوں، روڈ شوز اور بڑے عوامی اجتماعات کی اجازت نہ دی جائے۔
سرکاری سیکوریٹی انتظامات میں ایندھن کے استعمال کو کم کرنے کے لیے وی وی آئی پی قافلوں میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی تعداد میں ۵۰؍ فیصد کمی کا حکم دیا گیا ہے، تاہم یہ سیکوریٹی جائزوں سے مشروط ہوگی۔ مزید برآں، محکمہ خزانہ ستمبر ۲۰۲۶ء تک تمام محکموں کے پیٹرولیم، آئل اور لبریکنٹس (POL) کے اخراجات میں مجموعی طور پر ۲۰؍ فیصد کمی نافذ کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے:’’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘ کیلئے اکشے کا نیا فیس ماڈل، معاوضہ کے بجائے منافع پر نظر
ماحول دوست نقل و حمل اور خریداری میں تبدیلیاں
گرین موبیلیٹی کے فروغ کے لیے حکومت نے تمام سرکاری محکموں، بورڈز، کارپوریشنز اور کمیشنز کی جانب سے غیر برقی (نان الیکٹرک) گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔محکموں کو الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے چارجنگ انفراسٹرکچر میں اضافہ کرنے اور شہری علاقوں میں سائیکل لینز اور عوامی سائیکل شیئرنگ نظام کو فروغ دینے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
چیف سیکریٹری آفس کے مطابق’’یہ خریداری پابندی الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی کو تیز کرنے اور درآمدی ایندھن پر ریاست کے انحصار کو کم کرنے کے لیے نافذ کی گئی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:نجکاری اور سرکاری املاک کی فروخت کی تیاری
سرکاری عمارتوں میں توانائی کی بچت
سرکاری دفاتر میں توانائی کے استعمال کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔تمام محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ سرکاری عمارتوں میں ایئر کنڈیشنرز کا درجہ حرارت ۲۴؍ سے۲۶؍ ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رکھا جائے، غیر ضروری اور آرائشی روشنی کے استعمال کو کم کیا جائے اور قدرتی روشنی سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے دفتری اوقات میں تبدیلی پر غور کیا جائے۔ حکم نامے کے مطابق، ان اقدامات سے بجلی کی طلب اور بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن کی کھپت میں نمایاں کمی آئے گی۔