وزارتِ صحت کے قائم مقام سیکریٹری ماہر شامیہ نے بتایا کہ رفح کی سرحدی گزرگاہ فروری میں جزوی طور پر کھولی گئی تھی لیکن اسرائیل نے اسے کئی بار عارضی طور پر بند بھی کیا۔
عالمی برادری رفح گزرگاہ کومستقل طور پر کھولنےکا مطالبہ کر رہی ہے۔تصویر:آئی این این
غزہ کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل۱۷؍ ہزار ایسے فلسطینی مریضوں کو بیرونِ ملک علاج کے لئے جانے سے روک رہا ہے جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اکتوبر۲۰۲۳ء سے جاری جنگ کے دوران غزہ کا صحت کا نظام شدید تباہی کا شکار ہو چکا ہے۔فلسطینی مریضوں کے انخلاء میں تاخیر انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے قائم مقام سیکریٹری ماہر شامیہ نے کہا ہے کہ رفح کی سرحدی گزرگاہ فروری میں جزوی طور پر کھولی گئی تھی لیکن اسرائیل نے اسے کئی بار عارضی طور پر بند بھی کیا۔ ان کے مطابق فلسطینیوں کو ہفتے میں صرف۳؍ دن غزہ سے نکلنے کی اجازت دی جاتی ہے جبکہ طبی انخلاء کے لئے کرم ابو سالم کی گزرگاہ صرف ایک دن کھولی جاتی ہے۔ ماہر شامیہ نے بتایا ہے کہ رفح کی گزرگاہ کی مسلسل بندش کے باعث مریض شدید مشکلات کا شکار ہیں اور اس بحران کی مکمل ذمے داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔ اُنہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ مریضوں کو آزادانہ طور پر غزہ سے باہر علاج کے لئے جانے اور واپس آنے کی اجازت دی جا سکے۔
ماہر شامیہ نے کہا کہ اگر تباہ شدہ طبی ڈھانچے کی بحالی کی جائے تو بڑی تعداد میں مریضوں کا علاج غزہ کے اندر ہی ممکن ہے۔ دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کی تمام سرحدی گزرگاہیں فوری طور پر کھولی جائیں اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل یقینی بنائی جائے۔ رواں سال اپریل میں اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ غزہ کی ترقی۷۷؍سال پیچھے چلی گئی ہے اور بحالی و تعمیرِ نو کے لئے۷۱؍ ارب ڈالرز سے زائد درکار ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق ابتدائی۱۸؍ ماہ میں بنیادی خدمات، اہم انفرااسٹرکچر اور معیشت کی بحالی کے لئے۲۶؍ ارب ڈالرز کی ضرورت ہو گی۔
ادھر جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں جبکہ امدادی سامان کی فراہمی پر بھی تنازع برقرار ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق مصر میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا نیا دور شروع ہو چکا ہے لیکن جنگ کے خاتمے، اسرائیلی افواج کے انخلاء اور حماس کے ہتھیاروں کے مستقبل جیسے کئی اہم معاملات تاحال حل طلب ہیں۔