• Sat, 31 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ویمل الائچی اشتہار تنازع: اجے دیوگن بامبے ہائی کورٹ پہنچے

Updated: October 31, 2026, 7:10 PM IST | Mumbai

ویمل الائچی کے اشتہار کو ممنوعہ ویمل پان مسالہ کی بالواسطہ تشہیر قرار دینے کے مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے اقدام نے بالی ووڈ کے تین بڑے اداکاروں کو قانونی تنازع میں گھیر لیا ہے۔ اجے دیوگن نے محکمہ کے شوکاز نوٹس کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی اشتہار دینے والی کمپنی کے بجائے انہیں بطور اداکار نشانہ بناکر کی گئی ہے۔ دوسری جانب FDA کا کہنا ہے کہ تینوں اداکاروں کے خلاف تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں اور معاملہ جرمانے کے تعین کے لیے اگلے مرحلے میں پہنچ رہا ہے۔

Bollywood actor Ajay Devgn. Photo: X
بالی ووڈ اداکار اجے دیوگن۔ تصویر: ایکس

بالی ووڈ اداکار اجے دیوگن نے ویمل الائچی کے اشتہار میں اپنی موجودگی پر مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹس کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ اداکار نے اپنی عرضی میں محکمہ کی کارروائی کو من مانا قرار دیتے ہوئے اعتراض کیا ہے کہ نوٹس اشتہار میں کام کرنے والے اداکار کو جاری کیا گیا، جب کہ اصل کارروائی متعلقہ مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی کے خلاف ہونی چاہیے تھی۔ چیف جسٹس مہیش چندر ترپاٹھی اور جسٹس ادویت سیٹھنا پر مشتمل ڈویژن بنچ کے سامنے اس معاملے کی سماعت ۴؍ نومبر کو متوقع ہے۔ یہ تنازع ویمل الائچی کے اشتہار سے متعلق ہے، جس میں اجے دیوگن کے ساتھ شاہ رخ خان اور ٹائیگر شروف بھی نظر آتے ہیں۔ مہاراشٹر FDA کا الزام ہے کہ ویمل الائچی کی تشہیر دراصل ویمل پان مسالہ کی بالواسطہ یا متبادل تشہیر ہے۔ محکمہ کے مطابق ویمل برانڈ کا عوامی سطح پر پان مسالہ سے مضبوط تعلق ہے، اس لیے الائچی کے نام سے اسی برانڈ کی تشہیر ممنوعہ مصنوعات کو فروغ دینے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اسی بنیاد پر تینوں اداکاروں کو نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہائی کورٹ نے مالونی کے۱۴؍ غیرقانونی اسکولوں کی تفصیلات طلب کیں

ایف ڈی اے  نے ۱۱؍ اگست ۲۰۲۶ء کو اجے دیوگن، شاہ رخ خان اور ٹائیگر شروف کو شوکاز نوٹس جاری کیے تھے۔ محکمہ نے ان سے اشتہار میں اپنے کردار کی وضاحت طلب کی اور یہ جاننا چاہا کہ تشہیر سے پہلے انہوں نے مصنوعات اور برانڈ کے پس منظر کی جانچ کس حد تک کی تھی۔ اداکاروں سے اشتہاری معاہدوں، مہم کے بریف اور دیگر دستاویزات بھی طلب کی گئی تھیں تاکہ یہ جانچا جاسکے کہ ویمل الائچی واقعی ایک الگ مصنوعات ہے یا اس کے ذریعے ویمل پان مسالہ کی تشہیر کی جارہی ہے۔ ہندستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق تینوں اداکاروں نے اپنے جوابات میں پان مسالہ کی تشہیر سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے صرف الائچی کی تشہیر کی ہے۔ اس معاملے میں ایف ڈی اے نے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ ۲۰۰۶ء کی دفعہ ۲۴؍ اور دفعہ ۵۳؍ کا حوالہ دیا ہے۔ دفعہ ۲۴؍ کے تحت کھانے پینے کی مصنوعات سے متعلق گمراہ کن یا دھوکہ دہی پر مبنی اشتہارات پر پابندی عائد ہے، جب کہ دفعہ ۵۳؍ کے تحت گمراہ کن اشتہار کی اشاعت یا تشہیر میں شریک ہونے والوں پر ۱۰؍ لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ محکمہ نے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (ایڈورٹائزنگ اینڈ کلیمز) ریگولیشنز ۲۰۱۸ء کو بھی اپنی کارروائی کی بنیاد بنایا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ کسی مشہور شخصیت کی جانب سے کسی مصنوعات کی تشہیر کرتے وقت اس کے قانونی اور تجارتی پس منظر کی جانچ بھی اہم ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اقلیتی تعلیمی اداروں کو راحت، اقلیتی درجہ کی سند پرعائد پابندی ختم

ایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈے نے ۳۰؍ اکتوبر کو بتایا کہ تینوں اداکاروں کے خلاف محکمہ کی سطح پر تحقیقات اور سماعت مکمل ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ افسر نے اپنی کارروائی مکمل کرکے معاملہ اگلے ہفتے جوائنٹ کمشنر کے سامنے فیصلہ سازی کے لیے پیش کرنے کی تیاری کی ہے۔ منڈے نے یہ بھی واضح کیا کہ اجے دیوگن کی جانب سے بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے باوجود محکمہ اپنی کارروائی جاری رکھے گا۔ اس طرح ایک طرف اداکار نے عدالتی تحفظ طلب کیا ہے، جب کہ دوسری طرف ایف ڈی اے نے انتظامی کارروائی روکنے سے انکار کیا ہے۔ اس تنازع کی ایک قانونی کڑی دہلی ہائی کورٹ تک بھی پہنچ چکی ہے۔ ویمل الائچی کی مینوفیکچرنگ کمپنی PB Agro نے ستمبر ۲۰۲۶ء میں شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو جاری کیے گئے نوٹس منسوخ کرانے کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ تاہم عدالت نے یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کردی کہ معاملے کا تعلق مہاراشٹر FDA کی ممبئی میں کی گئی کارروائی سے ہے، اس لیے دہلی ہائی کورٹ کو اس تنازع کی سماعت کا علاقائی اختیار حاصل نہیں۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ اس معاملے کے لیے مہاراشٹر کی عدالتیں مناسب فورم ہیں۔ اب اجے دیوگن نے اسی ریاست کی بامبے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ممبئی کے ساحلوں پر تیرتے اشتہاری ہورڈنگز لگانے کی تیاری، شہریوں میں شدید ناراضگی

مہاراشٹر میں گٹکھا اور تمباکو یا نکوٹین پر مشتمل پان مسالہ کی تیاری، ذخیرہ اندوزی، نقل و حمل، تقسیم اور فروخت پر پابندی ۲۰۱۲ء سے نافذ ہے، جس کی ہر سال تجدید کی جاتی ہے۔ موجودہ پابندی ۱۳؍ جولائی ۲۰۲۶ء سے ایک سال کے لیے نافذ ہوئی ہے۔ ان مصنوعات کے خلاف کارروائی کے دوران ایف ڈی اے نے ۲۵؍ مئی سے ۳۱؍  جولائی ۲۰۲۶ء کے درمیان ۶۵۸؍ مقامات پر چھاپے مارے، ۱۱ء۱۵؍ کروڑ روپے مالیت کا ممنوعہ سامان ضبط کیا، ۵۱۹؍ ایف آئی آر درج کیں اور ۷۰۱؍ افراد کو گرفتار کیا۔ محکمہ نے ممنوعہ سامان کی نقل و حمل میں استعمال ہونے والی ۷۸؍ گاڑیاں بھی ضبط کیں، جن کی مالیت تقریباً ۶ء۶؍ کروڑ روپے بتائی گئی۔ ویمل الائچی کی تشہیر پر اعتراضات بھی پہلی مرتبہ سامنے نہیں آئے ہیں۔ ۲۰۱۸ء میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز نے اسی برانڈ کی تشہیر کے سلسلے میں کمپنی کو نوٹس جاری کیے تھے اور الزام لگایا تھا کہ الائچی کی تشہیر کے ذریعے تمباکو مصنوعات کی بالواسطہ تشہیر کی جارہی ہے۔ بعد میں قانونی کارروائی کے دوران عدالتوں میں یہ سوال زیر بحث رہا کہ تمباکو سے پاک مصنوعات کی تشہیر کو کب ممنوعہ تمباکو مصنوعات کی متبادل تشہیر تصور کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ تنازع میں بھی یہی بنیادی سوال اہم ہے کہ آیا ویمل الائچی ایک الگ مصنوعات کی تشہیر ہے یا اس کے ذریعے ممنوعہ ویمل پان مسالہ کے برانڈ کو عوام کے ذہنوں میں برقرار رکھا جارہا ہے۔ بامبے ہائی کورٹ میں اجے دیوگن کی عرضی پر ہونے والی سماعت اس قانونی بحث کو مزید اہمیت دے سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK