روہت پوار کا نیا دعویٰ ،فضائی کمپنی کو بچانے کی کوشش کا الزام دہرایا،کمپنی کے مالکان کی تفتیش کو ضروری قرار دیا۔
روہت پوار: ایک اور پریس کانفرنس، ایک اور نیا الزام- تصویر:آئی این این
این سی پی ( شرد) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے اپنے چچا اور سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے مبینہ طیارہ حادثے کے معاملے میں ایک بار پھر تحقیقات پر سوال اٹھاتے ہوئے نئے الزامات عائد کئے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں اپنی تیسری پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحقیقات کی رپورٹ پر شدید شبہات ظاہر کئے۔
روہت پوار نے کہا کہ ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی) کی رپورٹ میں کئی سنگین تضادات نظر آتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وی ایس آر کمپنی کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ’ایرو کمپنی‘ نامی ایک ایوی ایشن فرم کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حادثے سے پہلے کچھ افراد نے مبینہ طور پر ہوائی اڈے کا جائزہ لیا تھا، اسلئے اس پہلو کی بھی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روہت پوار نے کہا کہ اس حادثے کی تحقیقات سنجیدگی سے نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد نہ وی ایس آر کمپنی کو نشانہ بنانا ہے اور نہ ہی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن کے خلاف کوئی ذاتی دشمنی ہے، لیکن چونکہ متعلقہ طیارہ وی ایس آر کمپنی کا تھا اور تحقیقات ڈی جی سی اے کے دائرہ اختیار میں ہیں، اسلئے ایرو کمپنی، اسکے مالکان اور ملازمین کے کردار کی مکمل جانچ ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کچھ بااثر افراد بعض حکام کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو تحقیقات کی شفافیت متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے کو فوجداری اور تکنیکی دونوں زاویوں سے دیکھنا ضروری ہے۔
روہت پوار نے کئی تکنیکی نکات کی طرف بھی اشارہ کیا۔۔ ان کے مطابق یہ پرواز پہلے سے طے شدہ نہیں تھی بلکہ رات دیر اس کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگرچہ کہا گیا تھا کہ طیارے کے انجن کے مزید ۸۵؍ فلائنگ گھنٹے باقی تھے، لیکن دراصل اس انجن نے تقریباً ۸؍ ہزار گھنٹے پرواز کر لی تھی، جو اس کی سرکاری مدت سے تقریباً ۳؍ ہزارگھنٹے زیادہ تھی۔ یاد رہے کہ روہت پوار اس سے ۲؍ بار ممبئی میں اور ایک بار دہلی میں پریس کانفرنس کر چکے ہیں۔