Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کا امریکہ و اسرائیل پر جارحیت کا الزام، حملو ں کے خلاف ضمانت کا مطالبہ

Updated: April 28, 2026, 6:05 PM IST | New York

اقوام متحدہ میں ایران نے امریکہ و اسرائیل پر جارحیت کا الزام عائد کیا ساتھ ہی حملو ں کے خلاف قابل اعتمادضمانت، اور ایران کے جائز خودمختار حقوق کے مکمل احترام کا مطالبہ کیا۔

Iran`s UN envoy Amir Saeed Ervani. Photo: X
اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب امیر سعید ایروانی۔ تصویر: ایکس

اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ’’ اس سے پہلے کہ وہ خلیجِ فارس میں سلامتی کو یقینی بنا سکے ایران کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ دوسرے حملے کے خلاف قابل اعتماد ضمانت کی ضرورت ہے ۔‘‘ انہوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ خلیجِ فارس اور خطے میں پائیدار استحکام اسی وقت ممکن ہے جب ایران کے خلاف جارحیت کا مستقل خاتمہ ہو، اس کے ساتھ دوبارہ حملہ نہ کرنے کی قابل اعتماد ضمانتیں اور ایران کے جائز خودمختار حقوق کا مکمل احترام کیا جائے۔  

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ایران کو پائپ لائنز کی تباہی کی وارننگ دی؛ تہران کی جانب سے ’چار گنا‘ جوابی حملے کی دھمکی

بعد ازاں ایروانی نے شکایت کی کہ بحرین کی جانب سے طلب کردہ اس اجلاس میں درجنوں ممالک نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو تنقید کا نشانہ بنایا، لیکن کسی نے امریکہ کی طرف سے عائد کردہ بحری ناکہ بندی کی مذمت نہیں کی۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی بحری راستوں پر تشویش کا اظہار کرنے والے ممالک میں سے کوئی بھی اس دہشت گردانہ فعل کی مذمت کرنے کی جرات نہیں کر رہا۔مزید برآں ایروانی نے امریکہ اور اسرائیل پر ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر ناجائز  جارحانہ جنگ شروع کرنے کا الزام عائد کیا اور انہیں کشیدگی بڑھانے اور آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی درہم برہم کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ۲۸؍ فروری سے امریکہ اور اسرائیلی حکومت ایران کے خلاف ناجائز جارحانہ جنگ کر رہے ہیں، جو اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہے اور علاقائی و عالمی استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عراقچی نے پوتن سے ملاقات کی

ایروانی نے امریکہ پر بحری ناکہ بندی، ایرانی تجارتی جہازوں کی ضبطی اور عملے کو حراست میں لینے کا الزام بھی لگایا، جسے انہوں نے غیر قانونی اور قزاقی کے مترادف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خطرناک اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور جارحیت کے زمرے میں آتے ہیں۔ تاہم ایروانینے واضح کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے متصل ساحلی ریاست ہونے کے ناطے بحری راستوں کی حفاظت اور انہیں دشمنانہ فوجی مقاصد کیلئے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ضروری اور عملی اقدامات کیے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK