Updated: May 08, 2026, 1:50 PM IST
| Tehran/Washington
سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کیلئےامریکہ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی، محمدبن سلمان کےساتھ ٹیلیفون پررابطہ، اتفاق نہ ہونے کی وجہ سےٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم کو روک دیا،عمانی حکام سے رابطہ کر کے ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔
بحر عرب میں تعینات امریکی جنگی بیڑہ یو ایس ایس جارج ڈبلیو بش دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر: آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو متنازع منصوبے ’پروجیکٹ فریڈم‘ پر اچانک یوٹرن لینا پڑ گیا جس کی وجہ سعودی عرب کی جانب سے فوجی تعاون اور فضائی حدود کے استعمال سے انکار بتایا جا رہا ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق این بی سی نیوز نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ وہ پرنس سلطان ایئر بیس سے امریکی طیاروں کی پرواز یا اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا، اس فیصلے کے بعد منصوبے پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا تاہم معاملہ حل نہ ہو سکا۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وہائٹ ہاؤس اہلکار کا کہنا ہے کہ بعض قریبی خلیجی اتحادیوں کو بھی پروجیکٹ فریڈم سے پہلے آگاہ نہیں کیا گیا تھا جس پر حیرانی ظاہر کی گئی ہے، بعد میں امریکی حکام نے عمانی حکام سے رابطہ کر کے ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ منصوبہ عارضی طور پر اسلئے معطل کیا گیا تاکہ خطے میں اہم فضائی رسائی برقرار رکھی جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: اسپین: پیڈرو سانچیز نے فرانسسکا البانیز کو’’آرڈر آف سول میرٹ‘‘ سے نوازا
’’ہمیں ایران کے ساتھ خراب معاہدے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا‘‘
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں جلد بازی نہیں کرے گا اور کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ واشنگٹن کو ’خراب معاہدے‘ پر مجبور کرے۔عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹومی پگوٹ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے واضح طور پر سفارتی راستے کو ترجیح دینے کا اعلان کیا ہے، تاہم امریکہ صرف ایسا معاہدہ قبول کرے گا جو امریکی مفادات کے مطابق ہو۔انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ امریکی عوام کے لیے اچھی ڈیل کرنا چاہتے ہیں اور ان کا موقف بالکل واضح ہے کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور پابندیوں میں نرمی سے متعلق مختلف سفارتی خبریں گردش کر رہی ہیں۔حالیہ دنوں میں بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ایک ممکنہ فریم ورک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم امریکی حکام اب بھی ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہازوں اور ایرانی فورسیزکے درمیان فائرنگ
جنوبی کوریائی جہاز پر حملے میں ہمارا کوئی کردار نہیںـ :ایران
ایران نے آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کے زیر انتظام ایک بحری جہاز پر حملے اور آگ لگنے کے واقعے میں ملوث ہونے کے الزامات کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔سیول میں ایرانی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اسلامی جمہوریہ کی مسلح افواج کے جنوبی کوریائی جہاز کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہونے کے تمام الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور ایران دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔