فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون سے ٹیلیفون پر ایرانی صدر پزشکیان نے کہا:’’ امریکہ نے مذاکرات کےساتھ پیٹھ میں چھرا بھی گھونپا ہے۔‘‘
EPAPER
Updated: May 08, 2026, 1:44 PM IST | Tehran
فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون سے ٹیلیفون پر ایرانی صدر پزشکیان نے کہا:’’ امریکہ نے مذاکرات کےساتھ پیٹھ میں چھرا بھی گھونپا ہے۔‘‘
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سپریم لیڈرآیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق اس حوالے سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بتایا ہے کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے میری ملاقات اعتماد، عاجزی، گہرے خلوص سے بھرپور ماحول میں ہوئی۔انہوں نے بتایا ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے اندازِ گفتگو، نقطۂ نظر، نہایت عاجزانہ اور گہرے مخلصانہ رویے نے مجھے بہت متاثر کیا۔ایرانی صدر نے مزید کہا کہ اعلیٰ ترین اتھارٹی کی عاجزی اور اخلاقی برتاؤ ملک کے انتظامی نظام کے لیے مثال ہیں۔ مسعود پزشکیان نے یہ بھی بتایا ہے کہ میری سپریم لیڈر سے تقریباً ڈھائی گھنٹے ملاقات جاری رہی۔
یہ بھی پڑھئے: اسپین: پیڈرو سانچیز نے فرانسسکا البانیز کو’’آرڈر آف سول میرٹ‘‘ سے نوازا
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں انہوں نے امریکی رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ایرانی صدر نے گفتگو کے دوران کہا کہ ایران نے دو مرتبہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا، مگر افسوسناک طور پر ہر بار ان مذاکرات کے ساتھ ہی ایران کے خلاف فوجی جارحیت بھی کی گئی۔انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی مؤثر مذاکرات کے لیے پہلی شرط جنگ کا خاتمہ اور اس بات کی ضمانت ہے کہ مستقبل میں ایران کے خلاف دوبارہ کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اسے کھولنے سے متعلق کسی بھی قسم کے مذاکرات کے لیے امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ لازمی ہے۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ اگر ایرانی مسلح افواج کوئی عسکری قدم اٹھاتی ہیں تو اس کا باقاعدہ اور واضح اعلان کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب فرانسیسی صدر نے جنگ بندی کے فریم ورک کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فرانس مذاکرات کو آگے بڑھانے اور تہران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے عمل میں تعاون کے لیے پوری طرح تیار ہے۔