Inquilab Logo Happiest Places to Work

احمد رشیدشیروانی کا جانا ایک شخص کا جانا نہیں بلکہ ایک انجمن کا اٹھ جانا ہے

Updated: March 04, 2026, 11:30 PM IST | Javed Ahmed | Mumbai

ملک کے اس عظیم مجاہدتعلیم اور قوم کے بے لوث خادم و محسن نے ایک بھرپور زندگی جی، طویل عمرپائی، ثقل سماعت اور دیگرعوارض لاحق تھے اسکے باوجود نہ تو وہ ملک و ملت کے مسائل سے غافل تھے

Late Ahmed Rashid Sherwani
مرحوم احمد رشید شیروانی

آہ! احمد رشید شیروانی گزشتہ دنوں حیدرآباد میں اس دارفانی سے کوچ کر گئے جہاں وہ کئی سال سے بیگم نصرت شیروانی اور بیٹی آسیہ کے ساتھ مقیم تھے۔دو تین ہفتے قبل وہ ایک ہاسپیٹل کے آئی سی یومیں داخل کروائے گئے تھے۔ ۹۴؍ سال کی عمر میں کولہے کے فریکچر کی تاب کون لاتاہے؟ کاش! وہ ۶؍ سال اور جیتے تو ہمارے درمیان اپنی ۱۰۰؍ ویں سالگرہ مناتے، مگر ایک دن سب کو جانا ہے، وہ بھی چلے گئے لیکن ان کا جانا ایک شخص کا جانا ہرگز نہیں، ایک انجمن کا اٹھ جانا ہے، وہ ہندوستان میں مسلمانوں کی  ایک بڑی طویل جدوجہد کی علامت تھے۔ملک کے اس عظیم مجاہدِتعلیم اور قوم کے بے لوث خادم و محسن  نے ایک بھرپور زندگی جی، طویل عمرپائی، ثقل سماعت اور دیگرعوارض لاحق تھے، ضعیف العمری نقل و حرکت میں مانع تھی، اسکے باوجود نہ تو وہ ملک و ملت کے مسائل سے غافل تھے نہ گوشے میں آشیانے کے عافیت تھی بلکہ وہ اوروں سے زیادہ اور پہلے سے بڑھ کر بے چین و فکر مند تھے۔ وہ اب بھی جبکہ سن نہیں سکتے تھے، لکھنے پڑھنے میں بھی کسی کی مدد لینی پڑتی تھی، سیاسی و سماجی امور پر لوگوں سے بات کرتے، مشورے دیتے، خبرلیتے، خطوط کے جواب دیتے اور اپنی رہائش گاہ پر ملاقاتیں بھی کرتے تھے۔
 یہ ۱۹۷۰ءکا زمانہ تھا۔ احمدرشید شیروانی کے ہاتھ ایک رپورٹ آئی جو بتاتی تھی کہ مرکزی حکومت کی سروسیز میں مسلمانوں کی تعداد صرف دو فیصد ہے۔ ان کیلئے یہ ایک نہایت حیران کن اور ناگوار واقعہ تھا کیونکہ وہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس نے ملک کی آزادی کیلئے قربانیاں دی تھیں۔ ان کا دُکھ یہ تھا کہ مسلمانوں نے کیا اسی دن کیلئے پنڈت نہرو اور ان کے بعد ان کی بیٹی کے ہاتھ کو مضبوط کیا؟ اگر یہ سیکولرازم ہے تو سیکولرازم ایک فریب اور دھوکہ کے سوا کچھ نہیں ۔ کانگریس کے بجائے اگرجن سنگھ کی حکومت ہوتی تو کیا ان کی حالت اس سے بدتر ہو سکتی تھی؟ یہ وہ بے چینی تھی جو ان کے قلم سے نکل کر اخبارات تک پہنچ گئی، ۵۰؍ سے زائد اردو اخبارات میں ان کا یہ مضمون شائع ہوا، بڑے پیمانے پر ان کے خیالات کی تائید کی گئی اور مسئلہ بحث کا موضوع بن گیا۔  چونکہ ان کو صرف ایک پرجوش نوجوان یا ایک اور مسلم جنونی کے طورپر الگ رکھ کر نہیں دیکھا جا سکتاتھا، پی ایم او میں طلب کیا گیا۔ وزیراعظم  نے ان سے کہا کہ وہ سرکاری خدمات میں مسلمانوں کے تناسب پر ان کی تشویش کو سمجھتی ہیں بلکہ اس میں شریک ہیں۔ مگر ان کا غصہ اس وقت اور بڑھ گیا جب محترمہ گاندھی  نے کہا کہ ’آپ اس کی اصل وجہ کو نظرانداز کررہے ہیں۔‘وہ اسکی بنیادی وجہ مسلمانوں میں اعلیٰ تعلیم کی کمی کو ٹھہرا رہی تھیں اور یہ اس کو عذر گناہ بدتر از گناہ سمجھ رہے تھے، لیکن ان کا غصہ اس وقت کچھ کم ہوا جب وزیر اعظم نےان کوکچھ کاغذات دیئےاور کہا کہ یہی سچ ہے۔ ہندوستان میں گریجویشن کرنے والوں میں مسلمانوں کا تناسب مشکل سے ۳؍فیصد ہے تو پبلک سروس میں ان کو زیادہ جگہ کیسے مل سکتی ہے؟ شیروانی صاحب مطمئن نہیں تھے۔ انہوں نے اب یونیورسٹیوں کے مسلم گریجویٹس کی فہرستوں کے اعداد و شمار کھنگالے، سی بی ایس ای کے دفتر گئے، جہاں کئی دنوں تک اس کے رجسٹروں میں ان مسلمانوں کی گنتی کی جو دہلی کے اسکولوں سے دسویں کے بورڈ امتحانات میں شریک تھے۔ تقریباً ۷۰؍ ہزار طلبہ میں صرف ۱۲۰۰؍ مسلمان تھے یعنی صرف ۱ء۷؍ فیصد۔ اب ان کے غصہ کی جگہ ندامت نے  لے لی۔ انہوں نے دوبارہ پی ایم ہاؤس جاکر وزیر اعظم سے اپنی سخت کلامی کی معافی مانگی اور تہیہ کرلیا کہ اعلی تعلیم میں مسلمانوں کی نمائندگی بڑھانے کیلئے ان سے جو کچھ بن پڑے گا، کریں گے۔ پھر وہ جیتے جی کبھی چین سے نہ بیٹھے۔
 شیروانی صاحب نے اخباروں کو تعلیمی بیداری کا وسیلہ بنایا، اسکولوں  کے نتائج امتحانات سامنے رکھ کر کمیونٹی کو احساس دلایاکہ اس کی تعلیمی حالت کیا۔ مسلم بچے اور بچیوں میں اعلیٰ تعلیم کی حوصلہ افزائی کیلئے انعامات کا سلسلہ شروع کیا اور اسکولوں کے مابین مسابقت کا جذبہ پیدا کیا۔  وہ چاہتے تھے کہ مسلمان بیٹھ کر شکایت کرنے کے بجائے نئے اسکول شروع کریں اور کمیونٹی کی تعلیم کی ذمہ داری سنبھالیں۔ جب وہ اپنے کھانے کپڑے کیلئے بھیک نہیں مانگتے تو پھر بچوں کی تعلیم کیلئے غریبی کا رونا کیوں روتے ہیں؟ اپنی آخری سانسوں تک جس تسلسل اور تندہی  سے انہوں نے یہ کام کیا، ملک میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ وہ دہلی میں کریسنٹ اسکول کے بانیوں میں شامل تھے، دہلی ایجوکیشن سوسائٹی کے سیکریٹری رہے، بہت سے اسکولوں کی توسیع، ترقی اور قیام میں ان کا کلیدی کردار تھا اور وہ لڑکیوں کی تعلیم کے ایک بہت مضبوط وکیل تھے۔ اپنے تئیں کوئی پتھر نہیں چھوڑا جس کو پلٹنے کی سعی نہ کی ہو لیکن بدقسمتی سے تعلیم کی حوصلہ افزائی میں ان کی کامیابیوں کا نہ تو حکومت نے نوٹس لیا اور نہ ہی قومی میڈیا نےخبرلی۔ وہ یہ دکھ لئے ہوئے اس دنیا سے گئے کہ کبھی خبروں میں یہ بھی آتا کہ ۲۰؍ سال پہلے صرف ایک مسلم لڑکی نے فرسٹ ڈویژن حاصل کی تھی لیکن اس سال(۲۰۰۶ء)ایک ہزار ۹۳۳؍ مسلم لڑکیوں نے فرسٹ ڈیویژن حاصل کیا۔ خود مسلم دانشوروں کا رویہ بھی کم افسوسناک نہیں تھا۔ شیروانی صاحب بجاطورپر بے چین رہتے تھے کہ گزشتہ ۴۰۔۴۵؍ سال  کے دوران مسلمانوں کی تعلیمی حالت پر ایک ہزارسے زائد آل انڈیا کانفرنسیں، ہوئی ہوں گی جن سے کچھ بھی نہیں نکلا جبکہ اگر صورتحال کے بارے میں فکر مند افراد میں سے ہر ایک نے ۵؍ اسکولوں کی بھی خبرگیری کی ہوتی تو اس کا خاطرخواہ اثر پڑتا۔ 
 آج اُس کام کی اہمیت و معنویت کا صحیح صحیح ادراک کرنا شاید آسان نہ ہو جو شیروانی صاحب  نے ۱۹۷۰ء کی دہائی میں شروع کیا تھا۔ جب ہرطرف مایوسی ہی مایوسی تھی، وہ تنہا آگے آئے اور ایک بھولاہوا سبق لوگوں کو یاد دلایا اور مہم چلائی کہ تعلیم ہی امپاورمنٹ کا واحد راستہ ہے۔ شیروانی صاحب نے اسی ایک مقصد کیلئے ۲۰۔۲۵؍برسوں میں تقریباً ۶؍ ہزار مضامین، رپورٹس وغیرہ لکھے ۔ ان میں سے تقریباً ایک ہزار خصوصی طور پر لکھے گئے تھے جو صرف ایک اخبار یا جریدے میں شائع ہوئے جن میںنئی دنیاجیسےکثیرالاشاعت اخبارات شامل تھے۔ باقی پانچ ہزار یا اس سے زائد مضامین سائیکلوسٹائل کر کے تقریباً ۲۰۰؍ اردو اخبارات و جرائد کو بھیجے جاتے تھے جن میں زیادہ چونکانے والےمضامین تقریباً ڈیڑھ سو اخبارات میں شائع ہوتے۔ کچھ نسبتاً مدھم ۵۰؍ کے قریب اشاعتیں شائع کرتیں۔ اوسطاً ایک رپورٹ ایک سو اخبارات میں شائع ہوتی تھی۔ اس طرح یہ ۵؍ لاکھ اشاعتیں ہوتی ہیں جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے، جوکسی ایک شخص کے نام درج ہے۔
  شیروانی صاحب ہندوستان کے ایک خوشحال صنعتی گھرانےمیں پیدا ہوئے جسکا سیاسی اثرورسوخ بھی اتناہی اونچاتھا۔ ایک طرف شیروانی انڈسٹریز سنڈیکیٹ لمٹیڈ کا صنعتی دنیا میں طوطی بولتا تھا تو دوسری طرف ان کے چچا تصدق احمد اور نثار احمد کانگریس کے قدآور لیڈروں، گاندھی جی اور پنڈت نہرو کے قریبی رفیقوں، ارکان پارلیمنٹ اور نہرو کابینہ کے وزیروں میں شامل تھے جبکہ ان کے والد فدا احمد شیروانی چینی ملوں کے مالک تھے۔ وہ بڑے آرام سے بحیثیت صنعتکار، تاجر یا سیاستداں ایک کامیاب زندگی بسر کرسکتے تھے لیکن سماجی ذمہ داری کے احساس اور خدمت خلق کے جذبے  نے ان کو ہمیشہ  بےچین رکھا۔ وہ ایک ماہر تعلیم، مصنف اور سوشل ورکر کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے لیکن صحیح معنوں میں وہ ایک مجاہد تعلیم تھے، مایوسی کی اندھیری رات میں ایک شمع رہبانی، جس نے گوناگوں مسائل اورجاں سوز مسابقتوں میں گردن گردن تک ڈوبے ایک جمہوری معاشرے میں ہندوستانی مسلمانوں کو جدوجہد اور امید کی راہ دکھائی۔
آسماں تیری لحَد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نَورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK