Inquilab Logo Happiest Places to Work

اکولہ : شیوسینا( شندے) کے لیڈرمحسن شیخ کی موت سڑک حادثہ نہیں، قتل تھی ؟

Updated: July 28, 2026, 7:54 AM IST | Akola

اہل خانہ کا الزام ہے کہ شیوسینا (شندے) لیڈر منگیش کالے نے خود شراب پی کر اپنی گاڑی سے محسن شیخ کو اڑا دیا ، ایکناتھ شندے نے خود معاملے کا نوٹس لیا اور باز پرس کی

Crowd gathered outside the police station, inset: Mohsin Sheikh
پولیس اسٹیشن کے باہر جمع بھیڑ، انسیٹ: محسن شیخ

شیوسینا (شندے ) کے اکولہ ضلع اقلیتی سیل کے صدر محسن شیخ گزشتہ دنوں سڑک حادثے میں بری طرح زخمی ہو گئے تھے۔ سنیچر کو ناگپور کے ایک اسپتال میں علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی۔ اب ان کے اہل خانہ نے الزام لگایا کہ یہ کوئی سڑک حادثہ نہیں ہے بلکہ باقاعدہ قتل ہے۔ شیوسینا (شندے) ہی کے ایک لیڈر نے انہیں اپنی گاڑی سے اڑا یاہے۔ اہل خانہ کے اس الزام کے بعد اکولہ کے سیاسی حلقوں میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ 
  اطلاع کے مطابق محسن شیخ ۲۳؍ جولائی کو نہرو پارک علاقے میں ایک گاڑی کے حادثے میں شدید زخمی ہو گئے تھے۔ابتدائی طور پر ان کا اکولہ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں علاج کیا گیا تھا۔ تاہم ان کی حالت نازک ہونے کی وجہ سے انہیں بہتر علاج کیلئے ناگپور منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود انہوں نے ۲۵؍ جولائی کودم توڑ دیا۔ ان کی موت کی خبر سامنے آتے ہی شیوسینا کے عہدیداروں، کارکنوں اور حامیوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ البتہ اتوار کی رات محسن شیخ کے اہل خانہ نے سنگین الزامات عائد کئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض سڑک حادثہ نہیں بلکہ منصوبہ بند قتل تھا۔ مقامی شیوسینا (شندے) لیڈر منگیش کالے نے شراب کے نشے میں گاڑی چلاتے ہوئے پیچھے سے آکر محسن شیخ کو اڑا دیا۔ اتوار کی رات کھدان پولیس اسٹیشن کے سامنے دھرنا دیا گیا اور اس معاملے میں قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ شیوسینا(شندے) کے کچھ سینئر لیڈروں پر بھی سازش کا الزام ہے۔ ان الزامات نے کیس کو ایک نیاموڑ دیا ہے اور شہر میں اس پر بحث چھیڑ دی ہے۔
  دریں اثناء ان الزامات پر منگیش کالے کا   کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔البتہ کھدان پولس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے تفتیش تیز کر دی ہے۔ اہل خانہ کا موقف سننے کے بعد ملزمین کی تلاش کیلئے دو خصوصی ٹیمیں مقرر کر دی گئی ہیں۔ پولیس نے کہا کہ حادثے کے تمام پہلوؤں اور دستیاب شواہد کی جانچ جاری ہے اور واقعے کی اصل نوعیت تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔ ملزمین کو جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا اور قانونی کارروائی کی جائے گی، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بی چندرکانت ریڈی نے بتایا۔ دریں اثناء نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے واقعہ کا نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے شیو سینا کے خصوصی ضلع انچارج للت وانکھیڈے سے فون پر رابطہ کیا اور انہیں محسن شیخ کے اہل خانہ کو ضروری مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ شیوسینا  محسن شیخ کی دونوں بیٹیوں کی تعلیم کے تمام اخراجات برداشت کرے گی۔ اس فیصلے سے سوگوار خاندان کو کچھ راحت ملی ہے، اور مالی اور سماجی مدد فراہم کرنے میں پارٹی کے کردار کو واضح کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK