اداکار اکشے اوبیرائے فلم ’’لَو لاٹری‘‘ میں کام کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ یہ فلم جینڈر سے جڑے پیچیدہ مسائل کو اجاگر کرتی ہے اور معاشرے میں عرصے سے قائم تصورات کو چیلنج کرتی ہے۔
EPAPER
Updated: April 22, 2026, 1:01 PM IST
اداکار اکشے اوبیرائے فلم ’’لَو لاٹری‘‘ میں کام کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ یہ فلم جینڈر سے جڑے پیچیدہ مسائل کو اجاگر کرتی ہے اور معاشرے میں عرصے سے قائم تصورات کو چیلنج کرتی ہے۔
اداکار اکشے اوبیرائے فلم ’’لَو لاٹری‘‘ میں کام کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ یہ فلم جینڈر سے جڑے پیچیدہ مسائل کو اجاگر کرتی ہے اور معاشرے میں عرصے سے قائم تصورات کو چیلنج کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آبنائے ہرمز کے لیے فوجی منصوبہ بندی کیلئے برطانیہ اور فرانس کی عالمی کانفرنس
ایک ترقی پسند اور سوچنے پر مجبور کرنے والی فلم کے طور پر فلم ’’لَو لاٹری‘‘ ایک اہم اور کم زیرِ بحث سوال اٹھاتی ہے: کیا مرد بھی مظلوم ہو سکتے ہیں؟ یہ فلم جذباتی کمزوری، سماجی توقعات اور صنف کے مختلف تجربات کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ منفرد اور چیلنجنگ کرداروں کے لیے مشہور اکشے اس بار ایک ایسے حساس مگر نہایت اہم موضوع کو چھو رہے ہیں، جو معاشرے کے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔ یہ فلم ناظرین کو ایک متوازن نقطۂ نظر دینے کی کوشش کرتی ہے تاکہ ہمدردی اور خود احتسابی کو فروغ مل سکے۔
یہ بھی پڑھئے:علی فضل۲۰۲۶ء میں متضادرول اداکرنے کے لیے پرجوش
اکشے اوبیرائے نے کہاکہ ’’میرے لیےفلم ’’لَو لاٹری‘‘ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ فلم ایسے سوالات اٹھانے کی ہمت کرتی ہے جو اکثر لوگوں کو بے چین کر دیتے ہیں۔ آج کے دور میں جینڈر کے حوالے سے گفتگو بدل رہی ہے، لیکن کئی بار یہ بات چیت یک طرفہ یا محدود رہ جاتی ہے۔ یہ فلم کسی ایک فریق کو درست ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتی بلکہ لوگوں کی سوچ کو وسعت دینے کی کوشش کرتی ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ درد، کمزوری اور جذباتی کشمکش کسی ایک جینڈر تک محدود نہیں ہوتے۔ کئی بار مرد بھی ایسے حالات سے گزرتے ہیں جہاں ان کی آواز سنی نہیں جاتی یا ان کے تجربات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور اسے تسلیم کرنا کسی اور کے دکھ کو کم نہیں کرتا بلکہ گفتگو کو مزید گہرا بناتا ہے۔‘‘