• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

القاعدہ نے حمزہ بن لادن کی نئی ویڈیو جاری کی، امریکہ کا ہلاکت کا دعویٰ مشکوک

Updated: September 12, 2026, 5:01 PM IST | Washington

۱۱؍ستمبر۲۰۰۱ء کے دہشت گرد حملوں کی۲۵؍ویں برسی پر القاعدہ نے اپنے میڈیا ونگ ’السحاب‘ کے ذریعے ایک نیا ویڈیو جاری کیا ہے جس میں اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کی مبینہ طور پر پہلے کبھی نہ دیکھی گئی فوٹیج شامل ہے۔ ویڈیو کے نشر ہونے کے بعد حمزہ کی ہلاکت سے متعلق پرانے دعووں پر ایک بار پھر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں کیونکہ امریکہ۲۰۱۹ء میں اس کی ہلاکت کی تصدیق کرچکا تھا، جبکہ بعد میں اس کے زندہ ہونے کی رپورٹس بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

Image taken from alleged video of Hamza bin Laden: X
حمزہ بن لادن کے مبینہ ویڈیو سے لی گئی تصویر: ایکس

امریکہ میں ۱۱؍ ستمبر۲۰۰۱ء کے حملوں کی۲۵؍ویں برسی کے موقع پر القاعدہ نے۵۰؍ منٹ پر مشتمل ایک پروپیگنڈا ویڈیو جاری کی ہے، جس میں تنظیم کے بانی اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کی پہلے کبھی منظر عام پر نہ آنے والی ویڈیو فوٹیج شامل ہے۔ یہ فوٹیج القاعدہ کے میڈیا ونگ ’السحاب‘ نے جاری کی ہے۔ القاعدہ نے، جس نے حمزہ بن لادن کی ہلاکت کی کبھی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی، حمزہ سے متعلق ویڈیو ’A Quarter Century of the 11 September Raids‘ کے عنوان سے جاری کی۔ ویڈیو میں القاعدہ کے سابق سربراہ ایمن الظواہری کی بھی پہلے کبھی سامنے نہ آنے والی تصاویر شامل ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ویڈیو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کی گئی ہے یا اس میں پرانی فوٹیج استعمال کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ورزش سے قبل سوشل میڈیا کا استعمال جسمانی کارکردگی متاثر کر سکتا ہے: ڈینش ماہرین

امریکہ کا کہنا تھا کہ حمزہ ہلاک ہوچکا ہے
۲۰۱۹ءمیں وہائٹ ہاؤس نے تصدیق کی تھی کہ حمزہ بن لادن پاکستان کے علاقے میں ہلاک ہوچکا ہے۔ ۱۴؍ ستمبر ۲۰۱۹ء کو جاری ہونے والے وہائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق حمزہ کو امریکہ کی انسدادِ دہشت گردی کارروائی کے دوران افغانستان اور پاکستان کے خطے میں ہلاک کیا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ اسامہ بن لادن کے بیٹے کی ہلاکت سے القاعدہ اپنی اہم قیادتی صلاحیتوں سے محروم ہوگئی۔ وہائٹ ہاؤس کے مطابق حمزہ مختلف دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا اور متعدد دہشت گرد گروہوں کے ساتھ رابطے میں تھا۔ امریکہ نے جنوری ۲۰۱۷ء میں اسے ’خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد‘ قرار دیا تھا۔ باضابطہ تصدیق سے قبل امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے بھی اعلان کیا تھا کہ حمزہ ہلاک ہوچکا ہے، تاہم مزید تفصیلات پوچھے جانے پر انہوں نے خاموشی اختیار کی۔ اس کے بعد امریکی میڈیا نے انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ حمزہ گزشتہ دو برس کے دوران کسی امریکی کارروائی میں ہلاک ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک: نائن اِلیون کی ۲۵؍ ویں برسی، مسلمانوں کے خلاف مارچ

اس وقت حمزہ کی عمر تقریباً ۳۰؍سال تھی اور وہ القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کے۱۵؍ بیٹوں میں سے ایک تھا۔ وہائٹ ہاؤس کے مطابق حمزہ القاعدہ کے نیٹ ورک میں ایک اہم لیڈرکے طور پر ابھر رہا تھا۔ اس کی شادی ابو محمد المصری کی بیٹی سے ہوئی تھی، جن پر۱۹۹۸ء میں تنزانیہ اور کینیا میں امریکی سفارت خانوں پر بم حملوں میں مبینہ ملوث ہونے کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ 
۲۰۲۴ءمیں حمزہ کے زندہ ہونے کی رپورٹس
تاہم ۲۰۲۴ءمیں ایسی رپورٹس سامنے آئیں کہ حمزہ بن لادن نے القاعدہ کی قیادت سنبھال لی ہے اور مغربی ممالک میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ’ڈیلی میل‘ نے دفاعی ماہرین کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ حمزہ بن لادن زندہ ہے اور خفیہ طور پر دہشت گرد تنظیم چلا رہا ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا کہ حمزہ نے القاعدہ کی قیادت سنبھال لی ہے اور اسے عراق جنگ کے بعد اپنی سب سے مضبوط بحالی کی جانب لے جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اسامہ بن لادن کو۲؍ مئی ۲۰۱۱ء کو پاکستان کے ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا تھا، تاہم اس وقت اس کا بیٹا حمزہ اس کمپاؤنڈ میں موجود نہیں تھا۔ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ ایران میں نظر بندی میں تھا۔ ۲۰۱۵ء میں حمزہ نے امریکہ، فرانس اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کیلئے حملوں کی اپیل کی تھی۔ اس کا آخری معلوم بیان مارچ۲۰۱۸ءمیں سامنے آیا، جب اس نے جزیرۂ عرب کے عوام سے سعودی عرب کی موجودہ حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کی اپیل کی تھی۔ 
رواں سال کے آغاز میں سعودی عرب نے حمزہ بن لادن کی شہریت بھی منسوخ کردی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK