فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں ریفریز کو۷۵۰۰۰؍ پاؤنڈ ( ایک کروڑ روپے کے قریب ) تک معاوضہ اور اضافی بونس مل سکتے ہیں۔
EPAPER
Updated: June 10, 2026, 5:03 PM IST | New York
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں ریفریز کو۷۵۰۰۰؍ پاؤنڈ ( ایک کروڑ روپے کے قریب ) تک معاوضہ اور اضافی بونس مل سکتے ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں ریفریز کو۷۵۰۰۰؍ پاؤنڈ ( ایک کروڑ روپے کے قریب ) تک معاوضہ اور اضافی بونس مل سکتے ہیں، جبکہ فیفا وی اے آر (ویڈیو اسسٹنٹ ریفری) کے نظام میں بڑی تبدیلیاں اور وقت ضائع کرنے کے خلاف سخت قوانین متعارف کرا رہا ہے۔
۲۰۲۶ء کے ورلڈ کپ میں صرف کھلاڑی ہی مالی فائدہ حاصل نہیں کریں گے، بلکہ دنیا کے سب سے بڑے فٹبال ٹورنامنٹ کی نگرانی کرنے والے آفیشلز بھی بھاری معاوضہ حاصل کریں گے۔ بعض ریفری صرف پانچ ہفتوں میں اتنی کمائی کر سکتے ہیں جتنی وہ اپنے مقامی لیگ سیزن کے پورے سال میں کرتے ہیں۔
پریمیئر لیگ کے ریفری عام طور پر میچ فیس اور کارکردگی پر مبنی بونس سمیت سالانہ۱۷۰۰۰۰؍ سے ۱۸۰۰۰۰؍پاؤنڈ تک کماتے ہیں۔ تاہم، ورلڈ کپ میں منتخب ہونا ان کے لیے ایک انتہائی منافع بخش موقع ثابت ہوتا ہے۔
دی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں ہر ریفری کو صرف ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے ایک لاکھ امریکی ڈالر (تقریباً ۷۵؍ہزار پاؤنڈس) دیے جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ رقم ۲۰۱۴ء کے برازیل ورلڈ کپ میں دی جانے والی ادائیگی سے تقریباً دوگنی ہے۔یہ اضافہ فیفا کی جانب سے بہترین ریفریوں کو متوجہ کرنے، ۴۸؍ ٹیموں پر مشتمل توسیع شدہ ٹورنامنٹ کے تقاضوں اور بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:`فلم ’’الفا‘‘کا طاقتور ٹیزر جاری، عالیہ بھٹ نے ایکشن اوتار سے مداحوں کو حیران کر دیا
یہ یقینی ادائیگی صرف آغاز ہے۔ ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنے والے ریفریز کو ہر راؤنڈ میں اضافی بونس ملے گا، جبکہ۱۹؍ جولائی کو ہونے والے فائنل کے لیے منتخب آفیشلز کو سب سے زیادہ انعام دیا جائے گا۔ٹورنامنٹ کے لیے منتخب پریمیئر لیگ ریفریزمیں مائیکل اولیور اور انتھونی ٹیلر شامل ہیں، جنہیں انگلینڈ کے بہترین ریفریز میں شمار کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں اس سیزن میں پریمیئر لیگ، ایف اے کپ اور یوئیفا چیمپئن لیگ کے میچز سے تقریباً ۲۵۰۰۰۰؍پاؤنڈس پہلے ہی کما چکے ہیں لہٰذا ورلڈ کپ ان کی سالانہ آمدنی میں مزید نمایاں اضافہ کرے گا۔آسٹریلوی ریفری جارڈ گیلیٹ، جو پریمیئر لیگ میں بھی فرائض انجام دیتے ہیں، کو خصوصی وی اے آر کردار کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ٹورنامنٹ میں میچوں کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور وقت ضائع کرنے کی روک تھام کے لیے کئی اہم قواعد بھی متعارف کرائے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:انجری کے بعد میسی کی شاندار واپسی، ارجنٹائنا نے آئس لینڈ کو ۰۔۳؍گول سے ہرا دیا
وقت ضائع کرنے کے خلاف پہلے سے کہیں زیادہ سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ متبادل کھلاڑیوں کو میدان چھوڑنے کے لیے صرف ۱۰؍ سیکنڈ دیے جائیں گے، جبکہ علاج کے لیے میدان سے باہر جانے والے کسی بھی کھلاڑی کو واپس آنے سے پہلے مکمل ایک منٹ تک باہر رہنا ہوگا۔ اس کے علاوہ، تھرو اِن اور گول کِک کے لیے پانچ سیکنڈ کی الٹی گنتی ہوگی، اور جو کھلاڑی آفیشلز کے ساتھ بحث کے دوران اپنا منہ ڈھانپیں گے انہیں فوری طور پر میدان بدر کیا جا سکتا ہے۔ ۱۰۴؍ میچوں کی نگرانی کے لیے ۵۲؍ ریفری، ۸۸؍ اسسٹنٹ ریفری اور وی اے آر ۳۰؍ آفیشلز تعینات کیے جائیں گے، جو ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے بڑا آفیشیٹنگ آپریشن ہوگا۔