ریاستی حکومت نے آدھار کارڈ کی بنیاد پر بنائے گئے تمام’ جعلی‘ پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔ مبینہ دھوکہ دہی کو روکنے کیلئے ایسے تمام مشتبہ سرٹیفکیٹ کو منسوخ کر دیا جائے گا، اس کیلئے انتظامیہ کو ریاست بھر میں سخت نگرانی رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اب ملک میں آدھار کی اہمیت ختم ہو رہی ہے (فائل)
ریاستی حکومت نے آدھار کارڈ کی بنیاد پر بنائے گئے تمام’ جعلی‘ پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔ مبینہ دھوکہ دہی کو روکنے کیلئے ایسے تمام مشتبہ سرٹیفکیٹ کو منسوخ کر دیا جائے گا، اس کیلئے انتظامیہ کو ریاست بھر میں سخت نگرانی رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام کے ذریعے ریاست میں فراڈ اور جعلی شناخت کے بڑھتے ہوئے معاملات کو روکنے میں مدد ملے گی۔
یاد رہے کہ۲۰۲۴ء کے پارلیمانی الیکشن کے بعد سے مہاراشٹر حکومت نے برتھ سرٹیفکیٹ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے معاملے میں خصوصی طور پر چھان بین کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ بی جے پی لیڈرکریٹ سومیا خاص طور سے ریاست کے مسلم علاقوں میں جا کر مقامی حکام سے شہریوںکے برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی چھان بین کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کئی لوگوں کے سرٹیفکیٹ منسوخ بھی کروائے ہیں۔
اب مہاراشٹر حکومت نے آدھار سے منسلک پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں کے نام پر تمام’ مشتبہ سرٹیفکیٹ‘ کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ریاست میں جعلی سرٹیفکیٹ کی ایک بڑی تعداد تیار کی جا رہی تھی، جن کا استعمال مختلف سرکاری فوائد، دستاویزات اور شناخت سے متعلق عمل کیلئے کیا جا رہا تھا۔ اس کی روشنی میں ریاستی انتظامیہ کو تمام اضلاع میں فوری طور پر تحقیقات تیز کرنے اور سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
مہاراشٹر حکومت کی طرف سے ہدایات دی گئی ہے کہ (۱) صرف آدھار کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے’ثبوت‘ کے طور پر جاری کردہ پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ منسوخ کر دیئے جائیں ۔ (۲) وہ سرٹیفکیٹ جو درخواست دہندگان کے آدھار کی تفصیلات اور آدھار ڈیٹا سے میل نہیں کھاتے ہیں فوری طور پر منسوخ کر دیئے جائیں (۳) حکام اب ہر سرٹیفکیٹ کو ڈیجیٹل طور پر ٹریک کریں اور مشکوک کیسوں کی نشاندہی کے بعد رپورٹ پیش کریں۔ اکولہ اور امراوتی سمیت۱۴؍ اضلاع کو خصوصی ’واچ لسٹ‘ میں رکھا گیا ہے۔ ان اضلاع میں مبینہ طور پر سب سے زیادہ سر ٹیفکیٹ اور بے ضابطگیوں کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان میں اکولہ، امراوتی، چندرپور، ناندیڑ، لاتور، عثمان آباد، بلڈانہ، بیڑ، گوندیا، گڈچرولی اور احمد نگر شامل ہیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ جعلی سرٹیفکیٹ نہ صرف انتظامیہ کیلئے خطرہ ہیں ، بلکہ بہت سے افراد کے ذریعے ان کا غلط استعمال بھی کیا جا رہا ہے، جیسے کہ عمر بدلنا، غیر قانونی دستاویزات بنانا، اور سرکاری اسکیموں کا غلط استعمال کرنا۔ اس سے نمٹنے کیلئے اب ریاست بھر میں خصوصی مہم چلائی جائے گی۔ حکام کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جعلی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں اور تمام ریکارڈ کی ڈیجیٹل طور پر دوبارہ تصدیق کریں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ مہم جامع ہوگی اور اس دوران کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔