Inquilab Logo Happiest Places to Work

سلنڈر کیلئے جھگڑا، ایس آر پی ایف جوان کی پٹائی

Updated: March 13, 2026, 11:07 PM IST | Dhule

دھولیہ میں وقت پر بکنگ کروانے کے بعد بھی سلنڈر نہ ملنے سے صارفین ناراض، ناگپور میں سلنڈر کی قلت، کیٹرنگ اور ٹفن سروس بند

Consumers and businesses are worried due to the shortage of cylinders (Photo: Agency)
سلنڈر کی قلت کے سبب صارفین اور کاروباری سبھی پریشان ہیں( تصویر: ایجنسی)

رسوئی گیس کی قلت کے سبب ریاست میں حالات دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف گیس ایجنسیوں کے سامنے صارفین کی قطاریں لگی ہوئی ہیں تو ساتھ ہی مہنگے داموں گیس کے سلنڈر بلیک کئے جانے کی خبریں بھی آ رہی ہے۔ حالات اس قدر بگڑ گئے ہیں کہ دھولیہ میں ایک گیس ایجنسی کے سامنے لگی بھیڑ میں جھگڑا ہو گیا اور کچھ لوگوں نے وہاں سیکوریٹی پر تعینات ایس آر پی ایف جوان کی پٹائی کر دی۔  
بکنگ کے باوجود سلنڈر نہ ملنے پر صارفین ناراض 
  ایران جنگ کے سبب ملک کے دیگر علاقوں کی طرح مہاراشٹر میںبھی گیس سلنڈر کی قلت ہے۔ لوگ اس بات سے ناراض ہیں کہ وقت پر بکنگ کروانےکے بعد بھی انہیں سلنڈر نہیں مل رہا ہے۔ ایسا ہی کچھ نظارہ دھولیہ شہر میں بھی تھا لوگ سلنڈر کیلئے قطار لگائے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ اس پر وہاں تعینات ایس آر پی ایف جوان نے ان کے ساتھ سختی کی کوشش کی جس پر لوگ ناراض ہو گئے اور انہوں نے جوان کی پٹائی کر دی۔ اس واقعہ کا ویڈیو وائرل ہو رہا ہے۔ پولیس نے فوراً کمک بلوائی اور گیس ایجنسی کے آس پاس مزید اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔ اب سخت پولیس بندوبست کے درمیان دھولیہ میں گیس کے سلنڈر کی تقسیم ہو رہی ہے۔ 
 ناگپور میں ٹفن سروس بند 
 اگرچہ حال ہی میں سلنڈر ٹرک کی آمد کی وجہ سے ناگپور میں سلنڈروں کی سپلائی شروع ہوئی ہے لیکن قلت کی وجہ سے یہاں کئی باروبار متاثر ہوئے ہیں۔ ہوٹلوں کے کاروبار میں فرق پڑا ہے جبکہ کیٹرنگ سروس ۱۵؍ تاریخ سے پوری طرح بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ۲؍ دن قبل ہی ناگپور کیٹرنگ ایسوسی ایشن نے اس کا اعلان کیا تھا کیونکہ اب ان کے پاس پکانے کیلئے سلنڈر نہیں ہے۔ طلبہ اور ملازمت پیشہ افراد کوکھانا پہنچانے والی ٹفن سروس یہاں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ بہت سے لوگوں کو اپنے کاروبار بند کرنے پڑے ہیں۔ سہیوگ میس اینڈ ٹفن سروس کے ڈائرکٹر ہیمنت مڑاوی نے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ‘میرے پاس فی الحال صرف ایک سلنڈر بچا ہے، جو بمشکل ۱۵؍ دن تک چلے گا۔ اگر سپلائی شروع نہ ہوئی تو ہمارے پاس پرانے زمانے کی طرح لکڑی یا کوئلے پر کھانا پکانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ ہم ایک متبادل کے طور پر الیکٹرک انڈکشن پر غور کر رہے ہیں، لیکن ان الیکٹرک چولہوں پر بڑے پیمانے پر کھانا پکانا مہنگا اور مشکل ہے۔ حکومت اور کمپنیوں کو فوری طور پر سپلائی بحال کرنی چاہیے، ورنہ ہم جیسے چھوٹے تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔یاد رہے کہ حکومت نے کمرشیل سلنڈروں کی سپلائی روک دی ہے جس کی وجہ سے کئی ریسٹورنٹ بند ہو چکے ہیں۔ 
 اورنگ آباد: مصنوعی قلت اور بلیک مارکیٹنگ
  اطلاع کے مطابق اورنگ آباد میں سلنڈروں کی مصنوعی قلت پیدا کر کے صارفین کی کھلے عام لوٹ جاری ہے۔ سپلائی میں رکاوٹ کا بہانہ کرکے سلنڈروں کی ذخیرہ اندوزی ہو رہی ہے اور بھاری قیمت پر بیچا جا رہا ہے۔  تجارتی گیس سلنڈر جس کی سرکاری قیمت تقریباً ۱۹۸۰؍ روپے ہے، اسے ہوٹل مالکان کو ۲۵۰۰؍روپے تک میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ لین دین ڈیجیٹل ذرائع سے ہو رہا ہے ، نقد رقم نہیں لی جا رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK