Inquilab Logo Happiest Places to Work

میگھالیہ: ویسٹ گارو ہلز میں تشدد، ۲؍افراد ہلاک، مسجد میں توڑ پھوڑ، کرفیو نافذ

Updated: March 13, 2026, 11:31 AM IST | Shillong

میگھالیہ کے مغربی گارو ہلز ضلع کے پھولباری میدانی علاقے کے قصبہ چبینانگ میں جمعرات کی رات دیر گئے ہونے والے تشدد میں دو مسلمان ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ واقعہ گارو ہلز خود مختار ضلع کونسل (جی ایچ اے ڈی سی) کے انتخابات میں غیر قبائلی امیدواروں کی شرکت کے معاملے پر بڑھتی کشیدگی کے درمیان پیش آیا۔

Rioters set several vehicles on fire in West Garo Hills. Photo: INN
ویسٹ گارو ہلز میں فسادیوں نے کئی گاڑیوں کو نذرآتش کردیا۔ تصویر: آئی این این

میگھالیہ کے مغربی گارو ہلز ضلع کے پھولباری میدانی علاقے کے قصبہ چبینانگ میں جمعرات کی رات دیر گئے ہونے والے تشدد میں دو مسلمان ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ واقعہ گارو ہلز خود مختار ضلع کونسل (جی ایچ اے ڈی سی) کے انتخابات میں غیر قبائلی امیدواروں کی شرکت کے معاملے پر بڑھتی کشیدگی کے درمیان پیش آیا۔واقعہ کے بعد ضلع میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ گارو ہلز کے پانچوں اضلاع میں ۴۸ ؍گھنٹے کے لیے انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئی ہیں۔ حالات پر قابو پانے کے لیے اضافی سیکورٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ملک میں ایل پی جی، تیل اور پیٹرولیم کی کوئی کمی نہیں: پوری

اطلاعات کے مطابق تشدد اس وقت بھڑک اٹھا جب پھولباری کے سابق رکن اسمبلی عصمتور مومنین اور ایک دیگر غیر قبائلی امیدوار جی ایچ اے ڈی سی انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی داخل کرنے تورہ میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر پہنچے۔ گارو کے چند پریشر گروپ پہلے ہی کونسل انتخابات میں غیر قبائلیوں کی شرکت کی مخالفت کر چکے تھے۔ اسی دوران مظاہرین نے مبینہ طور پر دونوں امیدواروں پر حملہ کر دیا جس کے بعد صورت حال کشیدہ ہو گئی اور تشدد پھیل گیا۔تشدد تورہ مارکیٹ تک جا پہنچا جہاں بعض دکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور دکانداروں کو دوکانیں بند کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس دوران تورہ مسجد کے امام پر بھی حملہ کیے جانے کی اطلاع ہے جبکہ شہر کی جامع مسجد کے احاطے میں توڑ پھوڑ اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

 بعد ازاں مشتعل ہجوم نے چبینانگ مارکیٹ کے علاقے میں بعض دکانوں اور گارو اسٹوڈنٹس یونین کے دفتر کو آگ لگا دی۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مغربی گارو ہلز کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ابراہم ٹی سنگما نے بتایا کہ جائے وقوع سے دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ہلاکتیں پولیس فائرنگ سے نہیں بلکہ گروہی تصادم کے دوران ہوئیں۔ تورہ سول اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے بعد معلوم ہوا کہ ایک شخص کو تیز دھار ہتھیار سے قتل کیا گیا جبکہ دوسرے کے جسم پر گولی کے زخم پائے گئے جو مبینہ طور پر دیسی ساختہ رائفل سے لگے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: کیلے کے باغات لگائےبغیر بیمہ کروالیا گیا، کروڑوں کے غبن کی کوشش

پولیس کے مطابق صورت حال کو قابو میں لانے کے لئے  خالی فائر کیے گئے اور اس بات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ تصادم میں ملوث افراد کے پاس غیر قانونی ہتھیار کیسے پہنچے۔ادھر ضلع انتظامیہ نے حساس قرار دیے گئے ۳۷؍گاؤں میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ جی ایچ اے ڈی سی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا عمل ۹ مارچ سے ۱۶؍ مارچ تک جاری رہے گا اور تمام نامزدگی مراکز پر سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر وبھور اگروال نے تورہ کے سرکٹ ہاؤس میں امن کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جس میں چرچ لیڈر، این جی اوز کے نمائندوں اور مقامی ترقیاتی کمیٹیوں کو شامل کیا گیا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK