الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں بی جے پی لیڈر کے خلاف پوسٹ پر ایک ٹیچر کی معطلی کو من مانا، ناقابل قبول اور غیر قانونی قرار دیا، پردیپ سنگھ نے ایک پوسٹ کی تھی جس میں مبینہ طور پر بی جے پی لیڈر کی بد عنوانی کو آشکار کیا تھا۔
EPAPER
Updated: August 04, 2026, 7:08 PM IST | Allahabad
الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں بی جے پی لیڈر کے خلاف پوسٹ پر ایک ٹیچر کی معطلی کو من مانا، ناقابل قبول اور غیر قانونی قرار دیا، پردیپ سنگھ نے ایک پوسٹ کی تھی جس میں مبینہ طور پر بی جے پی لیڈر کی بد عنوانی کو آشکار کیا تھا۔
لائیو لاء کی رپورٹ کے مطابق، الہ آباد ہائی کورٹ نے جمعہ کو ایک ہائی اسکول ٹیچر کی معطلی منسوخ کر دی، جو اس وقت معطل کیے گئے تھے جب انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ ڈالی تھی جس میں مبینہ طور پر ایک بی جے پی لیڈر کی بدعنوانیوں کو اجاگر کیا گیا تھا۔ عدالت نے اس معطلی کو من مانا، غیر قانونی اور قانوناً ناقابلِ تسلیم قرار دیا۔جسٹس منجو رانی چوہان کی سربراہی میںیک رکنی بنچ نے ٹیچر پردیپ سنگھ کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کا نوٹس لیتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ سنگھ کی معطلی ’’من مانی، غیر قانونی اور قانوناً ناقابلِ تسلیم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مردم شماری میں او بی سی کیلئے علاحدہ کالم شامل کرنے کا مطالبہ
واضح رہے کہ پردیپ سنگھ، جو پرائمری اسکول بھدنادوم ، ڈیولپمنٹ بلاک ایکا، ضلع فیروزآباد میں معاون ٹیچر تھے، کو۴؍ جولائی کو ضلع بیسک ایجوکیشن آفیسر، فیروزآباد نے ان کی سوشل میڈیا پوسٹ کی وجہ سے معطل کر دیا تھا، جس میں مبینہ طور پر بی جے پی کے ضلع صدر، فیروزآباد، ادے پرتاپ سنگھ کی بدعنوانیوں کو اجاگر کیا گیا تھا۔پٹیشن کے مطابق، یہ معطلی کا حکم بی جے پی لیڈر ادے پرتاپ سنگھ کے کہنے پر جاری کیا گیا تھا، جب ٹیچر پردیپ سنگھ نے بی جے پی لیڈر کی جانب سے مبینہ غلط کاریوں اور خرد برد کا الزام لگانے والی سوشل میڈیا پوسٹس کو حذف کرنے سے انکار کر دیا تھا، باوجود اس کے کہ انہیں ضلع بیسک ایجوکیشن آفیسر کی طرف سے ایسا کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔عدالت نے نوٹ کیا کہ اگرچہ پٹیشنرکو شو کاز نوٹس جاری کیا گیا تھا اور اس نے تفصیلی جواب جمع کرایا تھا، لیکن معطلی کا حکم اس کی وضاحت پر غور کیے بغیر اور بغیر مناسب دلائل کے جاری کیا گیا۔دونوں فریقین کو سننے کے بعد، عدالت نے کہا کہ پٹیشنر کی سوشل میڈیا پوسٹس آئین ہند کے آرٹیکل۱۹؍(۱؍)(اے) کے تحت ضمانت یافتہ اظہارِ رائے اور آزادیٔ گفتار کے بنیادی حق کا استعمال تھیں، اور انہیں بذات خود بدانتظامی نہیں سمجھا جا سکتا۔ اور اس لیے یہ تادیبی کارروائی کا جواز نہیں بناتیں، جب تک کہ یہ اظہار قانوناً ممنوع یا کسی قابلِ اطلاق سروس رول کی خلاف ورزی ثابت نہ ہو۔