Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ میں ابو شریعہ خاندان کے ۱۱۲؍افراد کی اجتماعی تدفین، ہزاروں افراد کی شرکت

Updated: August 04, 2026, 7:08 PM IST | Gaza

غزہ میں ابو شریعہ الحسینہ خاندان کے ۱۱۲؍افراد کی اجتماعی تدفین نے جنگ کے انسانی المیے کی ایک اور دل دہلا دینے والی تصویر پیش کی۔ اس موقع پر ہزاروں فلسطینیوں نے شرکت کی، جبکہ خاندان نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک اس کے ۳۰۸؍ افراد جان سے جا چکے ہیں۔

Mass burial of members of the Abu Sharia family. Photo: X
ابو شریعہ خاندان کےافراد کی اجتماعی تدفین۔ تصویر: ایکس

غزہ شہر میں منگل کو ہزاروں فلسطینیوں نے ابو شریعہ الحسینہ خاندان کے۱۱۲؍ افراد کی اجتماعی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ ان افراد کی لاشیں ان گھروں کے ملبے سے نکالی گئیں جو غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی بمباری کے دوران تباہ ہوگئے تھے۔ شہدا میں بچے، خواتین، مرد اور بزرگ شامل تھے۔ ان کی میتوں کو فلسطینی پرچموں میں لپیٹ کر محلہ الصبرہ کے تباہ شدہ گھروں اور عمارتوں کے درمیان رکھا گیا، جس کے بعد جنازے کا جلوس وسطی غزہ میں واقع شیخ شعبان قبرستان کی جانب روانہ ہوا۔ جنازے کے دوران رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں بچوں نے کفنوں پر پھول نچھاور کئے اور لواحقین نے اشک بار آنکھوں سے اپنے عزیزوں کو الوداع کہا۔

یہ بھی پڑھئے: فرانس: خشک سالی کے باعث دریاؤں کے بہاؤ میں کمی، تین جوہری ری ایکٹر بند

یوسف ابو شریعہ نے بتایا کہ اسرائیلی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک خاندان کے۳۰۸؍افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق منگل کو سپردِ خاک کئے جانے والوں میں شیر خوار بچے، مائیں، باپ، نوجوان اور معمر افراد شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اسرائیلی میزائلوں نے کسی کو نہیں بخشا۔ ‘‘خاندان کے نمائندے ڈاکٹر جادو ابو شریعہ نے اس جنازے کو’معاصر فلسطینی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ‘ قرار دیا، جبکہ خاندان کے بزرگ علی ابو شریعہنے بتایا کہ۱۱۲؍ شہدا میں ۴۴؍ بچے، ۳۷؍ خواتین، ۲۳؍ معمر افراد اور۷؍معذور افراد شامل تھے۔ علی ابو شریعہ کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں نے جنگ کے آغاز ہی سے خاندان کے گھروں اور رہائشی بلاکس کو مسلسل نشانہ بنایا۔ پہلا بڑا حملہ۲۰؍ اکتوبر۲۰۲۳ءکو ہوا، جب خاندان کے پانچ منزلہ مکان پر بمباری کی گئی اور۱۴؍ افراد جاں بحق ہوگئے۔

یہ بھی پڑھئے: جاپان: ۳؍ سال سے غزہ کے حق میں تنہا احتجاج کرنے والے کارکن

انہوں نے بتایا کہ سب سے مہلک حملہ۲۲؍ نومبر۲۰۲۳ء کو ہوا، جب الصبرہ کے ایک رہائشی بلاک پر شدید بمباری کی گئی، جہاں خاندان کے تقریباً۳۰۰؍ افراد پناہ لئے ہوئے تھے۔ اس حملے میں درجنوں افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ ۷۰؍ لاشیں اس وقت دفنا دی گئی تھیں اور دیگر افراد ملبے تلے دبے رہے، جن کی لاشیں حال ہی میں نکالی گئی ہیں۔ ان کے مطابق بعد کے مہینوں میں بھی خاندان کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا۔ مئی۲۰۲۴ء میں ابو سالم ابو شریعہ عمارت پر حملے میں ۱۵؍ افراد مارے گئے، جبکہ اگست۲۰۲۵ءمیں غزہ شہر سے نکلنے کی کوشش کرنے والے خاندان کے افراد پر حملے میں ۸؍ افراد، جن میں بچے بھی شامل تھے، جاں بحق ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے: گوگل نے انٹرنیٹ کے بغیر کام کرنے والا روبوٹک اے آئی دماغ متعارف کیا

ابو شریعہ نے کہا کہ جاں بحق ہونے والوں میں معروف کاروباری شخصیات ابراہیم الحسینہ، جو ایک کنٹریکٹنگ کمپنی اور متعدد تجارتی عمارتوں کے مالک تھے، اور اسماعیل الحسینہ، جو ایک ایکسچینج آفس اور رئیل اسٹیٹ کمپنی کے مالک تھے، بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اموات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے عام شہری بھی حملوں کا نشانہ بنے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ خاندان اب تک۲۶۷؍ افراد کو سپردِ خاک کرچکا ہے، جبکہ ۴۱؍ افراد کا اب بھی کوئی سراغ نہیں ملا۔ ان کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ یا تو اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں یا شدید بمباری کے باعث ان کی باقیات بکھر چکی ہیں۔ طبی ذرائع کے مطابق غزہ میں جاری جنگ کے دوران اسرائیلی کارروائیوں میں ۲؍ ہزار ۲۷۶؍ فلسطینی خاندان مکمل طور پر ختم ہوگئے، جن کے۸؍ ہزار ۸۵۸؍افراد مارے گئے اور کوئی زندہ نہ بچا، جبکہ ۲؍ ہزار ۳۴۸ءدیگر خاندانوں میں صرف ایک ایک فرد زندہ بچا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران کے ساتھ گفتگو شروع ہونے کادعویٰ ، تہران کی تردید

نمازِ جنازہ میں ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی، جن میں ان فلسطینی خاندانوں کے نمائندے بھی شامل تھے جنہوں نے جنگ میں بھاری جانی نقصان اٹھایا، جن میں دغمش، ابو حصیرہ، الغول، المدهون، ابو القمصان، سالم، ابو نصر، البطش، ابو شمالہ، الاسطل اور الفرا خاندان شامل ہیں۔ سوگوار عبدالرحمن ابو حصیرہ نے بتایا کہ ان کے خاندان کے تقریباً ۵۰۰؍افراد غزہ شہر کے مختلف رہائشی علاقوں پر ہونے والے حملوں میں جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ۴؍ نومبر ۲۰۲۳ءکو ان کے خاندانی گھر پر حملے میں وہ واحد زندہ بچنے والے تھے، جبکہ ان کے والدین، چار بہن بھائیوں سمیت خاندان کے ۴۵؍افراد اس حملے میں مارے گئے۔ طبی ذرائع کے مطابق۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی کارروائیوں میں ۷۳؍ ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ دسیوں ہزار افراد زخمی یا لاپتا ہیں۔ اس دوران بمباری، بھوک اور وسیع پیمانے پر تباہی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK