• Mon, 21 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنسی زیادتی کے ملزم کو سیاسی سرپرستی حاصل ہونے کا الزام!

Updated: September 21, 2026, 10:43 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Mumbai

بی جے پی کے سابق ایم ایل اے نریندر پوار کی گرفتاری کب ہوگی؟ورون سردیسائی کا سوال۔

Varun Sardesai speaking to the media. Photo: INN
ورون سردیسائی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

کلیان اور ڈومبیولی کے تنظیمی دورے پر پہنچے شیو سینا (ادھو) کے رکن اسمبلی ورون سردیسائی نے جنسی زیادتی کے ایک معاملے میں نامزد بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی نریندر پوار کی گرفتاری نہ ہونے پر سوالات اٹھاتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ سنگین نوعیت کے معاملے میں نامزد ہونے کے باوجود نریندر پوار آزادانہ طور پر گھوم رہے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی وجہ مبینہ طور پر انہیں حاصل حکومتی سرپرستی ہے۔سردیسائی نے سوال کیا کہ اگر قانون سب کیلئے یکساں ہے تو پھر نریندر پوار کے معاملے میں گرفتاری سے گریز کیوں کیا جا رہا ہے؟

یہ بھی پڑھئے:نیپال میں تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں کا رضااکیڈمی کا سہ روزہ دورہ

شیو سینا ( ادھو) کے رکن اسمبلی ورون سردیسائی نے کلیان ( مغرب) کے منگیشی ہال میں منعقدہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت اور بی جے پی پر سخت تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ اگر حزبِ اختلاف کے کسی رہنما پر کوئی معمولی الزام بھی لگ جائے تو حکمران جماعت کے ترجمان آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں اور گھنٹوں میڈیا ٹرائل چلایا جاتا ہے۔ لیکن جب بی جے پی سے وابستہ کسی سابق رکن اسمبلی پر اجتماعی زیادتی جیسے گھناؤنے اور لرزہ خیز جرم کا الزام لگتا ہے تو اسے کھلم کھلا سیاسی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔جنسی زیادتی کے ملزم کو آخر کب گرفتار کیا جائے گا؟ملزم کو کسی قسم کی سیاسی پناہ دئیے بغیر فی الفور سلاخوں کے پیچھے بھیجا جائے۔ 

ورون سردیسائی کے بقول شیوسینا لیڈر آدتیہ ٹھاکرے پر جان بوجھ کر بغیر کسی ثبوت کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں جن میں کسی طرح کی سچائی نہیں ہے۔سردیسائی نے کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) میں قائد حزب اختلاف اور نو منتخب کونسلر کی تقرریوں میں تعطل پر بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ شندے سینا اور بی جے پی کی آپسی کھینچ تان کے باعث عوامی مسائل بری طرح نظر انداز ہو رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK