کہا: بعض علاقوں میں پوری آبادی تہس نہس ہوگئی ہے۔ کئی کئی فٹ ملبہ اور خاص طور پر ریت اٹا پڑا ہے۔ تعفن سے برا حال ہے۔
EPAPER
Updated: September 21, 2026, 10:47 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
کہا: بعض علاقوں میں پوری آبادی تہس نہس ہوگئی ہے۔ کئی کئی فٹ ملبہ اور خاص طور پر ریت اٹا پڑا ہے۔ تعفن سے برا حال ہے۔
’’نیپال میں تاریخ کے انتہائی تباہ کن سیلاب نے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے کہ کئی دن گزرنے کے باوجود حالات انتہائی بھیانک ہیں۔ اس سیلاب نے ایسی تباہی مچائی ہے کہ بعض علاقوں میں پوری آبادی تہس نہس ہوگئی، اس کا نام ونشان مٹ گیا۔ جہاں کل تک ہنستی کھیلتی زندگی دکھائی پڑتی تھی، علاقے آباد تھے وہاں اب سناٹے کا بسیرا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ جگہوں پر اس قدر تعفن پھوٹ رہا ہے کہ وہاں تھوڑی دیر رکنا بھی محال ہوجاتا ہے۔ ‘‘
رضااکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری دیگر علماء کے ساتھ سہ روزہ نیپال کے دورے سے واپس لوٹے ہیں، انہوں نے نمائندہ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے مذکورہ آنکھوں دیکھا حال بتایا۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ سیلاب سے متاثر ہونے والے کئی علاقوں کا جائزہ لیا ۔ انقلاب نے ان سے یہ جاننے کی کوشش کہ انہوں نے کن علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں کیا کچھ دیکھا۔
یہ بھی پڑھئے:بچوں کے ڈبہ بند دُودھ پر گمراہ کن دعویٰ، نیسلے کیخلاف کارروائی
محمد سعید نوری نے بتایا کہ سیلاب کو تقریباً ایک ماہ ہونے والا ہے پھر بھی وہاں اب بھی حالات ابتر ہیں۔
ان کے مطابق حیران کن منظر یہ تھا کہ کئی کئی فٹ ریت اور کیچڑ عمارتوں میں جمع ہے اور تعفن پھوٹ رہا ہے ۔ بڑی بڑی عمارتوں کے ساتھ کچھ مساجد کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔
ان کےمطابق مقامی متاثر ہ افراد امداد کے منتظر ہیں جبکہ نیپال حکومت کے لئے راحت رسانی اور متاثرین کی زندگی معمول پر لانا بڑا چیلنج ہے۔محمد سعید نوری کے مطابق ہم لوگ نیپال میں بیدور پور نگر پالیکا میں بتار قصبہ میں پہنچے ۔ یہاں بہت زیاہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ یہاں امام مسجد نے بتایا کہ الحمد للہ ، مسجد کو نقصان نہیں پہنچا مگر ۲۰۰؍گھروں کو زبردست نقصان پہنچا۔ یہاں۱۱؍ گھر مسلمانوں کے تھے جو اب مسجد کے قریب پناہ لئے ہوئے ہیں۔
سعید نوری نے مزیدبتایاکہ اس کے بعد ڈونگے گاؤں گئے ، یہاں اور بھی زیادہ نقصان پہنچا ہے اور تقریباً پورا گاؤں ختم ہوگیا ہے، یہاں محض چند افراد دکھائی دیئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری آبادی ختم ہوگئی ہے اس لئے لوگ یہاں سے چلے گئے ہیں۔ اس گاؤں میں تعفن حد سے زیادہ تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ شاید لاشیں ملبے میں دبی ہوں اور سڑنے کے سبب تعفن پھوٹ رہا ہو۔
اس کے بعد گھما علاقے میں گئے، یہاں کیمپوں میں لوگ پناہ لئے ہوئے تھے اور اکثریت غیر مسلم بھائیوں کی تھی، یہاں ان میں نقد رقم تقسیم کی گئی۔ اس کے بعد ترشولی علاقے میں پہنچے ، یہ وہ علاقہ ہے جہاں سب سے زیادہ سیلاب نے تباہی مچائی تھی۔ وہاں ایک مسجد کے محض باقیات نظر آئے اور مدرسہ و قبرستان بھی ختم ہوگیا تھا محض نشانات تھے، پوری آبادی ختم ہوگئی ہے۔ یہاں بریج بھی بہہ گیا ہے جس سے رابطہ بھی ختم ہوگیا ہے۔ یہاں متاثرین کے درمیان کھانا اور نقد رقم تقسیم کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:حاجی علی: تیز رفتار کار کوسٹل روڈ بریج سے نیچے گرگئی، ۳؍افراد ہلاک
محمد سعید نوری کے مطابق حالات دیکھ کر خود پر قابو رکھنا مشکل ہو رہا تھا، بعض علاقوں میں تو ایسا لگا جیسے جو کتابوں میں پڑھا تھا کہ فلاں آبادی صفحہ ہستی سے مٹادی گئی، بالکل وہی حالات تھے۔ سیلاب سے اس قدر بھیانک تباہی اس سے قبل ہم نے نہیں دیکھی تھی۔ مجھے سب سے زیادہ حیرانی کئی کئی فٹ جمع ریت پر تھی کہ آخر اس قدر ریت کہاں سے آئی؟
رضااکیڈمی کی جانب سے متاثرین کے درمیان پانی، راشن، بسکٹ، کھانا اور نقد رقم تقسیم کی گئی۔ تمام جگہوں پر متاثرین کی راحت رسانی میں مجموعی خرچ تقریباً۵؍ لاکھ روپے ہوا۔
نیپال کے مذکورہ سیلاب زدہ علاقوں کے تین روزہ دورے میں الحاج محمد سعید نوری، مولانا اعجاز کشمیری، ڈاکٹر رئیس احمد رضوی (مالیگاؤں)، مصطفی رضا عرف امن میاں، قاری ثناء اللہ (کرلا) ، قاری عبدالرحمن ضیائی(گوونڈی) وغیرہ اور مقامی علماء شامل تھے۔