اپوزیشن لیڈر کیشوری پیڈنیکر اور تعلیمی کمیٹی کے رکن پریانک رائوت نے بیاضوں میں مقررہ تعداد سے کم صفحات ہونے کا الزام عائد کیا۔
EPAPER
Updated: September 06, 2026, 2:40 PM IST | Mumbai
اپوزیشن لیڈر کیشوری پیڈنیکر اور تعلیمی کمیٹی کے رکن پریانک رائوت نے بیاضوں میں مقررہ تعداد سے کم صفحات ہونے کا الزام عائد کیا۔
برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) میں اپوزیشن لیڈر کیشوری پیڈنیکر اور ساتھی شیو سینا (یو بی ٹی) کارپوریٹر اور تعلیمی کمیٹی کے رکن پریانک رائوت نے بی ایم سی محکمہ تعلیم کی جانب سے طلبہ کو دی جانے والی بیاضوں کے ٹینڈر میں نامزد کردہ مقررہ صفحات سے کم ہونے کا الزام عائد کیا ہے جس سے شہری انتظامیہ کو مبینہ طور پر ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
اطلاع کے مطابق پریانک راؤت نے جمعہ کو دہیسر میں تار پارک نامی بی ایم سی اسکول کا دورہ کیاتھا جہاں اساتذہ طلبہ میں نوٹ بک تقسیم کر رہے تھے۔ ان نوٹ بُک کی جانچ کرنے پر یہ انکشاف ہو ا کہ۱۹۶؍ صفحات کی بیاض میں ۱۸۰؍ اور ۹۰؍ صفحات کی بُک میں ۸۸؍صفحات ہی موجود ہیں ۔ اسکول سے لوٹنے کے بعد پریانک رائوت نے بی ایم سی میں یہ معاملہ اُٹھایا۔
رائوت نے الزام لگایا ہے کہ ’’بی ایم سی محکمہ تعلیم اسکول شروع ہونے کے ڈھائی تین مہینے بعد نوٹ بک تقسیم کر رہی ہے۔ اس کے باوجود، نوٹ بک میں مقررہ تعداد سے کم صفحات ہیں۔ یہ عوام کے پیسے سے ہونے والی بدعنوانی ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: صارفین بجلی کی آنکھ مچولی اور بیسٹ بجلی چوری سے پریشان
تعلیمی کمیٹی کے رکن رائوت کے مطابق’’ بی ایم سی نے شہری اسکولوں میں طلبہ کو نوٹ بکس کی فراہمی کیلئے ۲۱ء۱۸؍ کروڑ روپے کا ٹینڈر جاری کیا تھا۔ ٹینڈر کے تحت ساتویں جماعت کے طلبہ کو ۱۹۶؍ صفحات کی ۷؍، ۹۶؍ صفحات کی ۳؍، ۴۰؍ اور ۳۲؍صفحات پر مشتمل ایک نوٹ بُک ملنی تھی۔ مجموعی طور پر، ان بیاضوں میں ایک ہزار ۷۸۰؍ صفحات ہونا چاہئے تھا جس کی لاگت فی صفحہ ۱۷؍ پیسے ہوتی ہے۔ اس اعداد وشمار کے مطابق اگر سبھی جماعتوں میں فراہم کردہ نوٹ بک میں صفحات کم ہیں تو نقصان کئی لاکھ تک پہنچ جاتا ہے جبکہ تمام اسکولوں میں یہ نقصان ایک کروڑ روپے سے زیادہ ہوسکتا ہے۔ ‘‘
انہوں نے اس مبینہ بدنظمی کیلئے ٹھیکیدار کو ذمہ دار ٹھہرایا اور مطالبہ کیا کہ نقصانات کی وصولی کیلئے جرمانہ عائد کیا جائے۔
کیشوری پیڈنیکر نے اس معاملے پر شہری انتظامیہ پر بھی تنقید کی اور تفصیلی انکوائری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا ’’ جولوگ اقتدار میں ہیں وہ تعریف بٹورنے میں مصروف ہیں اور طلبہ کے مسائل کو بھولے بیٹھے ہیں۔ نوٹ بک کے معاملے کی تفصیلی انکوائری کی جانی چاہئے۔ ‘‘
بی ایم سی کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ’’انتظامیہ نوٹ بک کے صفحات میں کمی سے متعلق الزامات کی جانچ اور مزید کارروائی کرنے سے پہلے حقائق کی تصدیق کرے گی۔ ‘‘