شہر میں۴۲؍ کروڑ۲۳؍ لاکھ روپے سے زائد رقم بقایا۔ بائیکلہ ای وارڈ کے علاقے میں سب سے زیادہ ۱۶؍کروڑ سے زائد رقم وصول کرنا باقی۔ دھاراوی، ماہم اور دادر دوسرے نمبر پر۔ بجلی چوری کے ساڑھے ۳؍ ہزار سے زائد معاملات کے باوجود ویجلنس ڈپارٹمنٹ پر رقم وصول نہ کرنے اور بد عنوانی میں ملوث ہونے کا الزام۔
صارفین کاؤنٹر پربجلی کا بل ادا کررہے ہیں۔ تصویر: آئی این این
شہر میں ایک طرف صارفین کیبل لائنوں کے انتہائی پرانی اور خستہ ہونے سے گھنٹوں بجلی کی آنکھ مچولی سے پریشان ہیں تو دوسری طرف مالی بحران اور مسلسل خسارے سے نبردآزما برہن ممبئی الیکٹرک سپلائی اینڈ ٹرانسپورٹ ( بیسٹ ) بجلی چوری کرنے والوں پر کیس درج کرنے کے باوجود کروڑوں روپے بجلی بل کی ادائیگی اور جرمانہ کی کروڑوں روپے کی رقم وصول کرنے میں بری طرح ناکام ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مکہ معاہدہ: سعودی وزیر دفاع، پاکستانی آرمی چیف کا دفاعی تعاون پر تبادلۂ خیال
شہر میں بجلی چوری بیسٹ انتظامیہ کیلئے جہاں مسلسل سر درد بنی ہوئی ہے وہیں تشویشناک بات یہ بھی ہے کہ شہر میں ۳؍ ہزار ۶۶۹؍ افراد کے خلاف بیسٹ کے ویجیلنس ڈپارٹمنٹ نے کیس تو درج کرلیا ہے لیکن ان پر عائد کردہ جرمانہ کی رقم وصول کرنے کےلئے نہ تو کوئی ٹھوس قدم اٹھایا ہے اور نہ ہی سخت کارروائی کی جارہی ہے ، نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ بجلی چوری کرنے والے لائن کاٹنے کے باوجود ڈائریکٹ لائن سے بجلی کی لائن جوڑ لیتے ہیں یا پڑوسیوں کے میٹر سے بجلی چوری کر لیتے ہیں۔ اس کا خمیازہ بڑے پیمانے پر باقاعدہ بجلی بل کی ادائیگی کرنے والے صارفین کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
بیسٹ محکمہ کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق بیسٹ انتظامیہ جو مسلسلمالی خسارے کا شکار ہے، کوشہر ا کے صارفین سے کل ۵۴؍ کروڑ ۲۶؍ لاکھ روپے وصول کرنا تھالیکن حیرت انگیز طور پرصرف ۱۲؍ کروڑ ۲؍لاکھ روپے وصول کیا جاسکا ہے ۔ اب بھی ۷۸؍ فیصد بقایا بل جو ۴۲؍ کروڑ ۲۴؍ لاکھ ہے، بیسٹ انتظامیہ وصول کرنے میں بری طرح ناکام ہے ۔ بیسٹ کمیٹی کے اکثر ممبران کا الزام ہے کہ ویجیلنس ڈپارٹمنٹ کے افسران و ملازمین اور ایجنٹوں کی ملی بھگت اوربد عنوانی کے سبب بیسٹ انتظامیہ نہ توجرمانہ اور بجلی کا بقایا بل وصول کرپارہا ہے اور نہ مالی بحران سے نکل پارہاہے ۔
بقایا بل کی وصولیابی اور بجلی چوری کے مسئلہ کو حل کرنے میں ناکامی پر بیسٹ کمیٹی ممبران نے اسے ویجیلنس ڈپارٹمنٹ کی لاپروائی اورتساہلی کا نتیجہ قرار دیا ہے ساتھ ہی ویجیلنس افسران کی بدعنوانی کے سبب بجلی چوری کا مسئلہ برقرار ہونے کا الزام لگایا ہے ۔ بیسٹ کمیٹی کے رکن رما کانت گپتا کے بقول بیسٹ ویجیلنس محکمہ کے بجلی چوری کرنے والوں کے خلاف صرف کیس درج کرنے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ سخت کارروائی کے ساتھ ساتھ جرمانہ اور بجلی کے بقایا بل کی ادائیگی کیلئے ٹھوس قدم اٹھانا بھی از حد ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسلام کی تعریف پر کرناٹک کے وزیر کو بھگوا عناصر کی برہمی کا سامنا
بجلی چوری اور ۴۲؍ کروڑ سے زائد بجلی بل کی بقایا رقم وصول کرنے میں ناکامی پر جب بیسٹ کے چیئر پرسن ترشنا وشواس راؤ اور جنرل منیجر سونیا سیٹھی سے فون پر ان کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی تو انہوں نےاس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ۔
ای وارڈ میں سب سے زیادہ بل بقایا
بیسٹ انتظامیہ کے ترتیب کردہ ریکارڈ کے مطابق بائیکلہ ، آگری پاڑہ ، مدنپورہ اورمجگاؤں علاقے جو ای وارڈ کی حدود میں شامل ہیں، میںشہر کے دیگر وارڈوں کے مقابلے سب سے زیادہ بجلی بل بقایا ہے ۔ای وارڈ میں بجلی چوری کے ۵۱۱؍ کیس درج کئے گئے ہیں جبکہ بجلی کا کل بل ۱۶؍ کروڑ ۹۷؍ لاکھ روپے بقایا تھا لیکن اس میں اب بھی ۱۴؍ کروڑ ۸۶؍ لاکھ روپے وصول کرنا باقی ہے۔
دیگر وارڈوں میں بقایابل
دوسرے مقام پر جی نارتھ وارڈ ہے جس میں دھاراوی ، ماہم اور دادر کا علاقہ شامل ہے جس کا بقایا بل ۱۵؍ کروڑ۹۶؍ لاکھ تھا ۔ اس میں سے ۳؍ کروڑ ۶۵؍ لاکھ روپے وصول کئے گئے ۔ یہاں بجلی چوری کے ایک ہزار ۱۳؍ کیس درج ہیں ۔ اسی طرح اے ، بی ، سی ، ڈی ، جی اور ایف ساؤتھ اور نارتھ وارڈ میں بھی بجلی کی چوری پر جرمانہ اور کروڑوں روپے کا بل وصول نہیں کیا گیا ہے۔