Updated: October 21, 2026, 4:03 PM IST
| Tel Aviv
حنظلہ فاؤنڈیشن کے بانی اور سربراہ دیاب ابو جہجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ میٹا نے اسرائیلی بوٹس کی جانب سے بڑے پیمانے پر رپورٹنگ کی مہم کے بعد ان کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس مستقل طور پر بند کردیے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر مواد کی نگرانی اور پابندیوں کے یکساں اطلاق پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے اکاؤنٹس سنسر کیے جارہے ہیں، جب کہ ان کے بقول اسرائیلی فوجی اپنے جنگی جرائم کی ویڈیوز انہی پلیٹ فارموں پر پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔
دیاب ابو جہجہ۔ تصویر: یوٹیوب
حنظلہ فاؤنڈیشن کے سربراہ دیاب ابو جہجہ نے سوشل میڈیا کمپنی میٹا پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اسرائیلی بوٹس کی جانب سے بڑے پیمانے پر رپورٹنگ کی مہم کے بعد ان کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس مستقل طور پر ختم کردیے ہیں۔ ابو جہجہ کے مطابق ان اکاؤنٹس کی بندش سے ان کی آواز اور فاؤنڈیشن کی آن لائن موجودگی متاثر ہوئی ہے، جب کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے جنگی جرائم کی ویڈیوز شائع کیے جانے کا معاملہ بھی اٹھا رہے ہیں۔ ابو جہجہ نے کہا، ’’میرے اکاؤنٹس سنسر کردیے گئے ہیں، جب کہ اسرائیلی فوجی اپنے جنگی جرائم انہی پلیٹ فارموں پر پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔‘‘ ان کا بیان میٹا کے مواد کی نگرانی سے متعلق طریقۂ کار پر سوال اٹھاتا ہے، خصوصاً اس حوالے سے کہ سیاسی اور انسانی حقوق کے موضوعات پر مواد شائع کرنے والے افراد کے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کس بنیاد پر کی جاتی ہے اور شکایات کے نظام کو منظم انداز میں استعمال کیے جانے کے الزامات سے کیسے نمٹا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیل کے حملے میں ۵؍ افراد جاں بحق
تاہم، اسرائیلی بوٹس کی جانب سے اجتماعی رپورٹنگ اور اس کے نتیجے میں اکاؤنٹس بند کیے جانے کا دعویٰ ابو جہجہ کا الزام ہے؛ اس کی آزادانہ تصدیق یا میٹا کی جانب سے اس مخصوص فیصلے کی وجہ کی تفصیلات فراہم کیے بغیر اسے ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسی طرح اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے جنگی جرائم کی ویڈیوز شائع کرنے سے متعلق ان کا بیان بھی ان کے مؤقف کے طور پر ہی بیان کیا جانا چاہیے۔ دیاب ابو جہجہ حنظلہ فاؤنڈیشن کے بانی اور سربراہ ہیں۔ یہ فاؤنڈیشن اسرائیلی کارروائیوں کے لیے جواب دہی اور فلسطینیوں کے حقوق کے حوالے سے سرگرم ہے۔ ان کے اکاؤنٹس کی بندش کا معاملہ اس وسیع تر بحث سے جڑتا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں متنازع سیاسی مواد، انسانی حقوق سے متعلق دستاویزات اور مسلح تنازعات کی ویڈیوز کے بارے میں اپنے ضوابط کس طرح نافذ کرتی ہیں۔ اس بحث میں ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا پلیٹ فارموں کے شکایتی نظام کو منظم رپورٹنگ کے ذریعے کسی فرد یا تنظیم کی رسائی محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ابو جہجہ اور ان کے خاندان کی سلامتی کے بارے میں خدشات سامنے آئے ہوں۔ حنظلہ فاؤنڈیشن نے ۲۰۲۵ء میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ابو جہجہ اور ان کے اہلِ خانہ کو ’’سنگین اور فوری نوعیت کی سیکوریٹی دھمکیاں‘‘ موصول ہوئی تھیں۔ فاؤنڈیشن نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا: ’’معتبر معلومات سے اشارہ ملتا ہے کہ بلجیم کے شہر اینٹورپ میں سرگرم اسرائیلی سیکوریٹی نیٹ ورکس سے منسلک افراد، اور ممکنہ طور پر یہودی ڈیفنس لیگ جیسی انتہا پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے عناصر، اس دھمکی میں ملوث ہیں۔ یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ ایسے نیٹ ورکس کا تعلق اسرائیلی ریاست کے سرکاری اداروں سے ہوسکتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:غریب، کم تعلیم یافتہ آبادی کو دائمی بیماریوں کے زیادہ خطرات،علاج میں رکاوٹوں کا سامنا: ڈبلیو ایچ او
یہ بیان فاؤنڈیشن کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور خدشات کو ظاہر کرتا ہے۔ اس میں جن افراد، نیٹ ورکس اور ممکنہ ریاستی روابط کا ذکر کیا گیا، ان کے ملوث ہونے کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ فاؤنڈیشن نے ابو جہجہ اور ان کے خاندان کی سلامتی کے حوالے سے پہلے بھی سنگین خدشات ظاہر کیے تھے۔ ابو جہجہ کے موجودہ الزام میں دو الگ معاملات سامنے آتے ہیں: ایک ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی مستقل بندش اور اس کے پیچھے مبینہ اجتماعی رپورٹنگ، اور دوسرا ان کے خاندان کو پہلے موصول ہونے والی مبینہ سیکوریٹی دھمکیاں۔ ان معاملات کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت کرنے کے لیے مزید شواہد درکار ہوں گے۔ میٹا کی جانب سے اکاؤنٹس بند کرنے کی مخصوص وجہ، مبینہ رپورٹنگ مہم کے شواہد اور کمپنی کا اس معاملے پر مؤقف دستیاب معلومات میں واضح نہیں ہے۔ اس لیے فی الحال معاملے کا بنیادی نکتہ ابو جہجہ کا الزام اور سوشل میڈیا پر سیاسی و انسانی حقوق سے متعلق مواد کی نگرانی کے نظام پر اٹھنے والے سوالات ہیں۔