ملک میں ہونے والی مردم شماری کی ذمہ داری اب صرف سرکاری اسکولوں کے اساتذہ تک محدود نہیں رہے گی۔
حکومت کے اس فیصلے سے کم تنخواہ پر کام کرنے والوں کو کافی دقت ہوگی۔ تصویر: آئی این این
ملک میں ہونے والی مردم شماری کی ذمہ داری اب صرف سرکاری اسکولوں کے اساتذہ تک محدود نہیں رہے گی۔ مرکزی حکومت نے اس کام کیلئے پرائیویٹ اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو بھی شامل کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ اس کیلئے مردم شماری کے ضابطہ۱۹۹۰ء میں ترمیم کی گئی ہے۔ نئے التزام کے تحت امداد یافتہ اور غیر امداد یافتہ پرائیویٹ اسکولوں، کالجوں، سوسائٹیوں اور ٹرسٹوں سے وابستہ اساتذہ کو بھی مردم شماری کی ڈیوٹی سونپی جا سکے گی۔
اس کے ساتھ ہی سرکاری شعبے کے اداروں (پی ایس یو)، بینکوں اور سرکاری و غیر سرکاری محکموں کے کلرکوں اور دیگر ملازمین کو بھی اس کام پر لگایا جا سکتا ہے۔ اس سے مردم شماری کے لیے دستیاب ملازمین کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور انتظامیہ کو مختلف اداروں سے ملازمین حاصل کرنے کا متبادل ملے گا۔خیال ر ہے کہ آئندہ مردم شماری کے پیش نظر ملازمین کی دستیابی اہم ہے۔ یہ ملک گیر سطح پر ایک بڑی مہم ہوگی، جس کیلئے لاکھوں ملازمین کی ضرورت پڑے گی۔ ایسے میں مردم شماری کے کارکنوں کے زمروں میں اضافہ کرنے سے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ڈیوٹی کے لیے زیادہ متبادل ملیں گے۔