اتر پردیش کی انتخابی فہرست میںایس آئی آر کے بعد تقریباً۲؍ کروڑ ۴؍ لاکھ نام حذف ہوئے ہیں، یہ کل ووٹرس کا تقریباً۲۴ء۱۳؍ فیصد ہے، پانچ ریاستوں میں سب سے زیادہ نام یہیں کاٹے گئے ہیں۔
EPAPER
Updated: November 04, 2026, 12:43 PM IST | Agency | New Delhi
اتر پردیش کی انتخابی فہرست میںایس آئی آر کے بعد تقریباً۲؍ کروڑ ۴؍ لاکھ نام حذف ہوئے ہیں، یہ کل ووٹرس کا تقریباً۲۴ء۱۳؍ فیصد ہے، پانچ ریاستوں میں سب سے زیادہ نام یہیں کاٹے گئے ہیں۔
ایس آئی آر اور انتخابی کمشنروں بالخصوص چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کیخلاف جہاں ملک گیر تحریک چل رہی ہے، وہیں ان پانچ ریاستوں کا جائزہ بھی لیا جانے لگا ہے کہ وہاں ایس آئی آر میں کتنے نام کاٹے گئے، اصلاح کے بعد دوبارہ کتنے نام جوڑے گئے، جہاں آئندہ کچھ مہینوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہ پانچ ریاستیں اتر پردیش، اتراکھنڈ، گوا، پنجاب اور منی پور ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق انتخابی فہرست کی’ایس آئی آر‘ کا عمل مکمل ہونے کے بعد مذکورہ ریاستوں میں ووٹرس کی تعداد میں ۱۳ء۲۴؍ فیصد تک کی کمی آئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ان۵؍ ریاستوں میں ووٹرس کی تعداد تقریباً۱۸؍ کروڑ ۷۱؍ لاکھ تھی جو گھٹ کر۱۶؍کروڑ ۴۳؍ لاکھ رہ گئی ہے۔ مطلب یہ کہ مجموعی طور پر ۲؍ کروڑ ۲۹؍ لاکھ ووٹرس کم ہوئے ہیں۔
انتخابی فہرست میں اصلاح کے ناموں میں کمی بیشی
حال ہی میں الیکشن کمیشن اور ریاستوں کے چیف الیکٹورل افسران کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان۵؍ ریاستوں میں ایس آئی آر کے بعد سب سے زیادہ اثر اتر پردیش میں دیکھنے کو ملا ہے۔ یہاں مجموعی کمی کا تقریباً۹۰؍ فیصد حصہ ہے۔ اتر پردیش میں ایس آئی آر کا کام دوسرے مرحلے میں ہوا تھا۔ ایس آئی آر سے پہلے ریاست میں۱۵؍ کروڑ ۴۴؍ لاکھ ووٹرس تھے۔ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں یہ تعداد گھٹ کر ۱۲؍کروڑ ۵۶؍ لاکھ رہ گئی ہے، تاہم حتمی ووٹر لسٹ میں اصلاح (ایس ایس آر) کے بعد بڑھ کر۱۳؍ کروڑ ۴۰؍ لاکھ ہو گئی ہے۔
اتر پردیش میں۲؍کروڑ سے زائد ووٹرس کے نام حذف
اتر پردیش کی ووٹر لسٹ میں اصلاح یعنی ناموں کو جوڑنے کے بعد تقریباً۲؍ کروڑ ۴؍ لاکھ ووٹرس کی کمی ہوئی ہے۔ یہ کل ووٹرس کا تقریباً۱۳ء۲۴؍ فیصد ہے اور پانچوں ریاستوں میں سب سے زیادہ کمی یہیں دیکھی گئی ہے۔ ڈرافٹ لسٹ سے تقریباً۲؍ کروڑ ۸۹؍ لاکھ نام ہٹائے گئے تھے، جن میں سے تقریباً۸۴؍ لاکھ یعنی قریب۲۹؍ فیصد نام دوبارہ شامل کئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کلیان: برسوں سے نظر انداز کنوؤں کی بحالی کا آغاز
پنجاب میں۱۴؍ لاکھ ووٹرس کے نام کٹے
پنجاب میں تیسرے مرحلے میں ایس آئی آر کیا گیا۔ ووٹرس کی تعداد ڈرافٹ لسٹ میں۲؍ کروڑ ۱۵؍ سے گھٹ کرایک کروڑ ۹۴؍ لاکھ رہ گئی اور پھر حتمی ووٹر لسٹ میں۲؍ کروڑ ایک لاکھ رہی۔ ووٹرس کی تعداد میں مجموعی کمی تقریباً۱۴؍لاکھ یعنی۶ء۳۴؍ فیصد رہی۔ یہاں سب سے زیادہ نام دوبارہ شامل کیے گئے۔ ڈرافٹ لسٹ سے ہٹائے گئے تقریباً ۲۱؍ لاکھ رائے دہندگان میں سے قریب۷؍ لاکھ ووٹرس کے نام دوبارہ فہرست میں شامل کیے گئے۔
اتراکھنڈ میں۸؍ لاکھ ووٹرس کے نام ہٹائے گئے
اتراکھنڈ میں تیسرے مرحلے میں ایس آئی آر ہوا۔ ووٹرس کی تعداد۸۰؍ لاکھ سے گھٹ کر۷۱؍ لاکھ رہ گئی۔ حتمی ووٹر لسٹ میں یہ تعداد۷۲؍ لاکھ ہو گئی۔ اس طرح ووٹرس کی مجموعی تعداد میں تقریباً۸؍ لاکھ یعنی۰۷ء۱۰؍ فیصد کی کمی آئی۔ ہٹائے گئے ناموں میں سے صرف۲۵؍ ہزار نام دوبارہ شامل کیے گئے۔
منی پور میں ۶ء۳۳؍ فیصد ووٹرس کم ہوئے
منی پور میں بھی تیسرے مرحلے میں ایس آئی آر ہوا، جہاں ووٹرس کی تعداد۲۰؍ لاکھ ۹؍ ہزار سے گھٹ کر۱۹؍ لاکھ ۳؍ ہزاررہ گئی اور آخر میں۱۹؍ لاکھ ۶؍ ہزار ہو گئی۔ اس طرح ریاست میں۶ء۳۳؍ فیصد ووٹرس کی کمی ہوئی۔ یہ کمی تقریباً پنجاب کے برابر ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ڈرافٹ لسٹ سے ہٹائے گئے تقریباً۱۷؍ فیصد نام یہاں پر دوبارہ شامل کر دیئے گئے۔
گوا میںایک لاکھ ۳۰؍ ہزار ووٹرس کے نام کٹے
گوا میں دوسرے مرحلے میں ایس آئی آر ہوا تھا۔ ووٹرس کی تعداد۱۱؍ لاکھ ۸۵؍ ہزار سے گھٹ کر۱۰؍ لاکھ ۸۵؍ ہزار رہ گئی۔ حتمی فہرست میں یہ مزید کم ہو کر۱۰؍ لاکھ ۵۸؍ ہزار رہ گئی۔ اس طرح گوا میں تقریباً ایک لاکھ ۳۰؍ ہزار یا۱۰ء۷۶؍ فیصد ووٹرس کی کمی ہوئی۔ ان پانچوں ریاستوں میں گوا واحد ریاست ہے جہاں حتمی ووٹر لسٹ میں ڈرافٹ لسٹ کے بعد مزید نام کم ہوئے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش اسمبلی (۴۰۳؍ اراکین اسمبلی) کی مدت کار آئندہ سال۲۲؍ مئی کو ختم ہو رہی ہے۔ دوسری جانب۶۰؍ اراکین والی منی پور۔۴۰؍ اراکین والی گوا،۱۱۷؍ اراکین والی پنجاب اور۷۰؍ اراکین والی اتراکھنڈ اسمبلی کی مدت کار مارچ۲۰۲۷ء میں الگ الگ تاریخوں پر ختم ہوگی۔