ایک ماہ کے اندر حکم کی تعمیل نہ ہونے پر پرنسپل سکریٹری کو توہین عدالت کے تحت پیش ہونے کا انتباہ، مزید وقت طلب کرنے کی اپیل کیلئے ایک ماہ کی مہلت۔
EPAPER
Updated: November 04, 2026, 12:36 PM IST | Hamidullah Siddiqui | Luckhnow
ایک ماہ کے اندر حکم کی تعمیل نہ ہونے پر پرنسپل سکریٹری کو توہین عدالت کے تحت پیش ہونے کا انتباہ، مزید وقت طلب کرنے کی اپیل کیلئے ایک ماہ کی مہلت۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو ہدایت دی ہے کہ مئو ضلع کے مدرسہ اسلامیہ سفینۃ الہدایہ کو ایک ماہ کے اندر سرکاری گرانٹ کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں عدالتی حکم پر عمل درآمد کا حلف نامہ داخل نہیں کیا گیا تو ریاست کی پرنسپل سکریٹری سنیکتا سمدار کو توہین عدالت کے الزامات طے کرنے کے لئے عدالت میں ذاتی طور پر حاضر ہونا ہوگا۔جسٹس پیوش اگروال نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے ریاستی حکومت کی جانب سے مزید وقت طلب کرنے کی درخواست پر ایک ماہ کی مہلت دی اور اگلی سماعت ۱۶؍ نومبر ۲۰۲۶ء کو مقرر کی ہے۔
سماعت کے دوران ریاستی حکومت نے ایک حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا کہ مدرسے کو گرانٹ کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز کابینہ کے سامنے پیش کی جانی ہے، جس کیلئے مزید ایک ماہ کا وقت درکار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’یوپی میں گائے، بیل کی نقل و حمل کیلئے اجازت کی ضرورت نہیں‘‘
حکومت نے بتایا کہ ۳۰؍ مئی ۲۰۲۲ء کے حکومتی حکم نامے کے ذریعے کابینہ کی منظوری سے نئے مدارس کو گرانٹ فہرست میں شامل کرنے کی پالیسی ختم کر دی گئی تھی۔ اسلئے کسی نئے مدرسے کو گرانٹ دینے کیلئے کابینہ کی منظوری ضروری ہے۔تاہم ہائی کورٹ نے حکومت کی اس دلیل سے اتفاق نہیں کیا۔ عدالت نے کہا کہ کابینہ کی منظوری کا انتظار کرنے کی یہی دلیل پہلے بھی دی جا چکی ہے اور عدالت اسے مسترد کر چکی ہے۔
عدالت نے ۱۱؍ اپریل۲۰۲۲ء کے اپنے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ رِٹ کورٹ کے فیصلے کو کابینہ کے غور و خوض سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔ ریاستی حکام کیلئے عدالتی حکم پر عمل کرنا لازمی ہے۔ہائی کورٹ نے نشاندہی کی کہ ریاستی حکومت اس معاملے میں ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کر چکی ہے، لیکن وہاں سے بھی اسے کوئی راحت نہیں ملی۔اس کے باوجود عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ گزشتہ دو سماعتوں کے دوران بھی حکومت نے اسی طرح مزید وقت مانگا تھا، لیکن کوئی ایسا دستاویز پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ حکم پر عمل درآمد کیلئے سنجیدہ کوششیں کی گئی ہیں۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل منیش گوئل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ایک ماہ کے اندر عدالتی حکم پر عمل درآمد کر دیا جائے گا۔