امریکہ اوراسرائیل کی ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے اثرات اب مقامی سطح پر بھی شدت سے محسوس کئے جانے لگے ہیں۔امبرناتھ اور ڈومبیولی جیسے بڑے صنعتی علاقوں میں ایندھن اور خام مال کی فراہمی میں تعطل کے باعث مینو فیکچرنگ سیکٹر کو شدید بحران کا سامنا ہے۔
گیس سلنڈر کی قلت اور مزدوروں کی کمی کی وجہ سےکئی کمپنیاں بند ہو گئی ہیں۔تصویر:آئی این این
امریکہ اوراسرائیل کی ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے اثرات اب مقامی سطح پر بھی شدت سے محسوس کئے جانے لگے ہیں۔امبرناتھ اور ڈومبیولی جیسے بڑے صنعتی علاقوں میں ایندھن اور خام مال کی فراہمی میں تعطل کے باعث مینو فیکچرنگ سیکٹر کو شدید بحران کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں ماہانہ تقریبا ایک ہزار کروڑ روپے سے زائد کامالی نقصان ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امبرناتھ اور ڈومبیولی ایم آئی دی سی میں واقع کیمیکل، انجینئرنگ، ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو مشرقی وسطی میں جاری جنگ نے بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان علاقوں میں قائم تقریباً ۲۰۰۰ ؍چھوٹی بڑی فیکٹریوں میں صنعتی گیس (پی این جی) کی سپلائی ۵۰؍ فیصد تک کم ہوگئی ہے۔پیداواری لاگت میں بے تحاشہ اضافے اور دوگنی قیمت پر گیس کی خریداری نے صنعتکاروں کی کمر توڑ دی ہےجس سے مجموعی پیداوار میں ۴۰ ؍سے ۵۰؍ فیصد تک کی بڑی گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔بحران کا سب سے افسوسناک پہلو مزدور طبقے پر پڑنے والے اثرات ہیں۔ کمرشل ایل پی جی سلنڈرکی قلت کے باعث صنعتی علاقوں کی کینٹینیں بند ہوگئی ہیں جبکہ مقامی سطح پر کھانے پینے کی قیمتوں میں اضافے نے مہاجر مزدوروں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یوپی اور بہار سے تعلق رکھنے والے تقریباً ۲۵؍فیصد مزدور کام چھوڑ کر اپنے آبائی علاقوں کو لوٹ رہے ہیں جس سے صنعتوں کو افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
ایڈیشنل امبرناتھ مینوفیکچرر اسوسی ایشن کے صدر امیش تائڈے اور کلیان۔امبرناتھ اسوسی ایشن کے صدر دیوین سونی نےصورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ صنعتکاروں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ بینکوں کے سود میں کمی اور بجلی و گیس پر خصوصی سبسڈی دی جائے،جی ایس ٹی کی ادائیگی کیلئے ۶؍ماہ کی رعایت دی جائے،گیس کی عدم دستیابی کی صورت میں ڈیزل کے صنعتی استعمال کو آسان بنایا جائے۔صنعتی کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر حفاظتی اقدامات نہ کئے تو لاکھوں خاندانوں کا معاشی مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال نے مقامی تاجروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔