Updated: April 07, 2026, 4:00 PM IST
| New Delhi
فٹ بال کے سب سے بڑے میلے کے آغاز میں صرف ۶۵؍ دن باقی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بار کون سی نئی ٹیم آغاز کر کے تاریخ رقم کرتی ہے۔فیفا ورلڈ کپ کے اسٹیج پر قدم رکھنا ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے، لیکن پہلی ہی بار میں دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دینا کسی کرشمے سے کم نہیں۔
سعودی عرب کی فٹبال ٹیم۔ تصویر:ایکس
فٹ بال کے سب سے بڑے میلے کے آغاز میں صرف ۶۵؍ دن باقی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بار کون سی نئی ٹیم آغاز کر کے تاریخ رقم کرتی ہے۔فیفا ورلڈ کپ کے اسٹیج پر قدم رکھنا ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے، لیکن پہلی ہی بار میں دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دینا کسی کرشمے سے کم نہیں۔ جہاں ٹورنامنٹ کے ابتدائی برسوں میں یوروگوئے (۱۹۳۰ء) اور اٹلی (۱۹۳۴ء) نے اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ میں فاتح بن کر ایک ناقابلِ تسخیر معیار قائم کیا، وہیں جدید دور کے فٹ بال میں نئے آنے والوں کے لیے یہ سفر کسی آگ کے دریا سے کم نہیں ہوتا۔ فٹ بال کی تاریخ میں کچھ ایسی ٹیمیں گزری ہیں جنہوں نے روایتی طاقتوں کے غرور کو خاک میں ملاتے ہوئے اپنے پہلے ہی قدم سے عالمی نقشہ بدل کر رکھ دیا۔
پرتگال کا۱۹۶۶ء کا ڈیبیو یادگار ترین مہمات میں سے ایک ہے۔ عظیم کھلاڑی یوسیبیو کی قیادت میں پرتگال نے دفاعی چمپئن برازیل کو ۱۔۳؍ سے ہرا کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔ کوارٹر فائنل میں شمالی کوریا کے خلاف ۰۔۳؍گول کے خسارے کے بعد یوسیبیو کے چار گولز کی بدولت ۳۔۵؍ سے فتح حاصل کرنا آج بھی ایک داستانِ پارینہ ہے۔ پرتگال نے اس ٹورنامنٹ میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔
یوگوسلاویہ سے آزادی کے بعد کروشیا نے ۱۹۹۸ء میں اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ میں دھوم مچا دی۔ گولڈن جنریشن نے کوارٹر فائنل میں جرمنی کو۰۔۳؍گول سے شکست دے کر سب کو دنگ کر دیا۔ ڈیور سوکر نے گولڈن بوٹ جیتا اور کروشیا نے ہالینڈ کو ہرا کر تیسری پوزیشن اپنے نام کی۔
سینیگال نے ۲۰۰۲ءکے افتتاحی میچ میں دفاعی چمپئن فرانس کو ۰۔۱؍گول سے ہرا کر فٹ بال کی دنیا میں زلزلہ برپا کر دیا۔ کوچ برونو میتسو کی نگرانی میں سینیگال کوارٹر فائنل تک پہنچنے والی دوسری افریقی ٹیم بنی۔ الجزائر (۱۹۸۲ء): خوبصورت کھیل اور ناانصافی ۔۱۹۸۲ء کے فیفا ورلڈ کپ میں الجزائر کی پہلی شرکت شاندار کارکردگی اور ناانصافی دونوں کی داستان بن گئی۔ انہوں نے دفاعی چیمپئن مغربی جرمنی کو۱۔۲؍گول سے شکست دے کر دنیا کو حیران کر دیا، جس میں رابح ماجر اور لخضر بلومی نے گول کیے۔
یہ بھی پڑھئے:جیلر۲: رجنی کانت کی ’’جیلر ۲‘‘ کے لیے شاہ رخ خان کی بڑی تیاری
اگرچہ الجزائر کو آسٹریا کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا، مگر انہوں نے چلی کو۲۔۳؍گول سے ہرا کر دوسرے مرحلے تک رسائی کی امید برقرار رکھی۔ لیکن قسمت نے ساتھ نہ دیا۔ مغربی جرمنی اور آسٹریا کے درمیان ایک متنازع میچ کھیلا گیا جس کا نتیجہ دونوں ٹیموں کے حق میں طے شدہ محسوس ہوا، اور اسی باعث الجزائر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔مغربی جرمنی کی ۰۔۱؍گول کی جیت کو بعد میں ’’ڈسگریس آف جیخون‘‘ کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ اس اسکینڈل کے بعد فیفا کو اپنے قوانین میں تبدیلی کرنا پڑی اور آئندہ ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں گروپ مرحلے کے آخری میچز بیک وقت کروانے کا اصول نافذ کیا گیا، تاکہ اس طرح کی ناانصافی دوبارہ نہ ہو سکے۔شمالی کوریا (۱۹۶۶ء): اٹلی کو ۰۔۱؍گول سے ہرا کر ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنے والی پہلی ایشیائی ٹیم بنی۔ نائیجیریا (۱۹۹۴ء): اپنی برق رفتار فٹ بال سے ارجنٹائن والے گروپ میں ٹاپ کیا اور راشد یکینی کا گول کے بعد جشن یادگار بن گیا۔
سعودی عرب (۱۹۹۴ء): سعید الاويران کا بلجیم کے خلاف میراڈونا اسٹائل گول، جو آج بھی ورلڈ کپ کی تاریخ کے بہترین انفرادی گولز میں شمار ہوتا ہے۔ ۱۹۹۴ء کے فیفا ورلڈ کپ میں سعودی عرب کی پہلی شرکت ایک ناقابلِ فراموش لمحے سے عبارت ہے، جب سعید العویران نے بلجیم کے خلاف ایک شاندار انفرادی گول کر کے تاریخ رقم کی۔ اپنے ہی ہاف سے گیند لے کر برق رفتاری سے آگے بڑھتے ہوئے انہوں نے دفاعی کھلاڑیوں کو چکمہ دیا اور گیند کو جال کی راہ دکھائی-یہ گول آج بھی ورلڈ کپ کے عظیم ترین گولز میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آئی پی ایل ۲۰۲۶ء: ایک نہیں، کے کے آر کے سامنے کئی مشکلات
اس فتح نے سعودی عرب کو راؤنڈ آف ۱۶؍ تک رسائی دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ٹیم نے مراکش کو بھی شکست دی اور گروپ میں بلجیم سے آگے رہی۔ اگرچہ ناک آؤٹ مرحلے میں سویڈن کے ہاتھوں ۱۔۳؍گول سے شکست ہوئی، مگر سعودی عرب نے اپنی جاندار کارکردگی سے ثابت کیا کہ وہ عالمی سطح پر ایک مضبوط حریف ہے۔ اس طرح وہ مراکش(۱۹۸۶ء) کے بعد گروپ مرحلے سے آگے بڑھنے والی دوسری عرب ٹیم بن گئی۔ کوسٹا ریکا (۱۹۹۰ء): برازیل، سویڈن اور اسکاٹ لینڈ جیسے گروپ سے نکل کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنائی۔ گھانا (۲۰۰۶ء): ۲۰۰۶ءکے ورلڈ کپ میں گروپ مرحلے سے آگے بڑھنے والی واحد افریقی ٹیم رہی۔