سلیکٹ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق کئی مبہم نکات کو نکال کر بل کو زیادہ واضح کیاگیا ہے، ٹی ڈی ایس کے ری فنڈ میں راحت کی امید۔
EPAPER
Updated: August 11, 2025, 1:15 PM IST | Agency | New Delhi
سلیکٹ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق کئی مبہم نکات کو نکال کر بل کو زیادہ واضح کیاگیا ہے، ٹی ڈی ایس کے ری فنڈ میں راحت کی امید۔
پارلیمنٹ میں پیر کو ترمیم شدہ انکم ٹیکس بل ۲۰۲۵ء پیش کیا جائے گا۔یاد رہے کہ راجیہ سبھا میں شدید احتجاج کے بعد اسے سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کردیاگیاتھا اور ۳۱؍ رکنی سلیکٹ کمیٹی کی تجاویز کے بعدجمعہ، ۸؍اگست کو وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے نیا انکم ٹیکس بل ۲۰۲۵ء واپس لے لیا تھا۔
۲۱؍ جولائی کو پارلیمنٹ میں پیش کی گئی سلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ میں کئی اہم تبدیلیوں کی سفارش کی گئی ہے۔ کمیٹی نے بل کی دفعات کو زیادہ واضح اور سخت بنانے اور غیر واضح نکات کو ہٹا نے نیز نئے قانون کو موجودہ فریم ورک کے ساتھ جوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔۴؍ ہزار ۵۸۴؍صفحات کی رپورٹ میں مجموعی طور پر ۵۶۶؍ تجاویز پیش کی گئی ہیں، ان میں بل میں کئی اصطلاحات اور قواعد کی غیر واضح تعریفوں کو واضح کرنا اور نئے بل کو موجودہ ٹیکس ڈھانچے اور جی ایس ٹی نیز کارپوریٹ ٹیکس سے متعلق موجودہ قوانین کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا مشورہ دیاگیاہے۔ اطلاعات کے مطابق نئے ترمیم شدہ بل میں کوشش کی گئی ہے کہ کوئی ابہام موجود نہ رہے۔
کمیٹی نےیہ بھی مشورہ دیا ہے کہ کچھ ٹیکس سلیب یا چھوٹ کی حد کو آسان بنایا جائے، خاص طور پر چھوٹے ٹیکس دہندگان اور متوسط طبقے کیلئے انہیں واضح اور زیادہ آسان کیا جائے۔ اس کے علاوہ انکم ٹیکس(ٹی ڈی ایس) ری فنڈ کے حوالے سے اس شرط کو ہٹانے کی سفارش کی گئی ہے کہ مقررہ تاریخ کے بعد انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرنے پر ری فنڈ نہیں ملے گا۔ پرانے بل میں ری فنڈ کیلئے وقت پر ریٹرن فائل کرنا لازمی تھا۔ اس کے علاوہ نئے انکم ٹیکس بل میں اس بات کا نظم کیاگیا ہے کہ انکم ٹیکس افسران نوٹس دینے اور ٹیکس دہندہ کا جواب ملنے کے بعد ہی کوئی کارروائی کر سکیں گے۔ اس طرح سے یہ ٹیکس دہندگان کی من مانی کی شکایتوں کا ازالہ ہے۔ نئے بل میں ڈجیٹل، آٹومیٹک اور افسران کا آمنا سامنا کئے بغیر کام کاج کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ ٹیکس دینے والوں کو سہولت ہو اور بدعنوانی کا امکان کم سے کم ہو جائے۔
نئے انکم ٹیکس کی ۴؍ اہم باتیں
انکم ٹیکس بل میں اسیس منٹ ایئر کو بدل کر ’’ٹیکس ’ایئر کردیاگیا ہے۔ بل کے صفحات۸۲۳؍ سے گھٹ کر۶۲۲؍ رہ گئے ہیں مگر اب بھی اس میں ۲۳؍ ابواب ہیں۔ دفعات کی تعداد۲۹۸؍ سے بڑھا کر۵۳۶؍ کر دی گئی ہے۔
کرپٹو اثاثوں کو بھی غیر اعلانیہ آمدنی کے زمرے میں شامل کیا جائے گا، جس طرح ابھی نقد رقم، سونا اور زیورات شامل ہیں۔ اس کا مقصد ڈیجیٹل لین دین کو شفاف اور قانونی دائرے میں لانا ہے۔
بل میں ’’ٹیکس دہندگان کا چارٹر ‘‘ بھی شامل کیا گیا ہے، جو انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت ٹیکس دہندگان کے حقوق اوران کے فرائض کو واضح کرتا ہے اور ٹیکس انتظامیہ کو مزید شفاف بنائے گا۔ یہ ٹیکس افسران کے اختیارات اور ذمہ داریوں کو بھی واضح کرے گا۔
تنخواہ سے متعلق کٹوتیو ں کو جیسے اسٹینڈرڈ ڈیڈکشن، گریجویٹی اور چھٹی کے عوض نقد رقم کو ایک ہی جگہ درج کر دیا گیا ہے۔ پرانے قانون میں موجود پیچیدہ وضاحتوں اور دفعات کو ہٹا دیا گیا ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کیلئے سمجھنا آسان ہو۔