امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ ٹیرف کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو امریکہ ’برباد‘ ہو جائے گا، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے مخالف فیصلے سے زبردستی رقم کی واپسی کا عمل شروع ہو سکتا ہے، جو سنگین مالی بحران کا سبب بنے گا۔
EPAPER
Updated: January 13, 2026, 9:06 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ ٹیرف کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو امریکہ ’برباد‘ ہو جائے گا، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے مخالف فیصلے سے زبردستی رقم کی واپسی کا عمل شروع ہو سکتا ہے، جو سنگین مالی بحران کا سبب بنے گا۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیر کے دن ایک پوسٹ میں،امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر عدالت نے ان کی قومی سلامتی کی پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا تو امریکی کمپنیوں کو سینکڑوں اربوں ڈالر واپس کرنے پڑیں گے۔ٹرمپ نے لکھا، اور اس میں وہ رقم شامل نہیں ہے جو ممالک اور کمپنیاں اپنے سرمائے کاری کی واپسی کے طور پر مانگیں گی، تاکہ وہ ٹیرف کی ادائیگی سے بچ سکیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’جب ان سرمایہ کاری کو شامل کیا جائے گا تو ہم کھربوں ڈالر کی بات کر رہے ہوں گے،یہ ایک مکمل تباہی ہو گی، اور ہمارے ملک کے لیے اس کی ادائیگی تقریباً ناممکن ہو گی۔ بہ الفاظ دیگر ، اگر سپریم کورٹ نے قومی سلامتی کے اس معاملے پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے خلاف فیصلہ دیا تو ہم برباد ہو جائیں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’بورڈ آف پیس فار غزہ‘‘ تشکیل دیا جا رہا ہے: ٹرمپ
واضح رہے کہ امریکی سپریم کورٹ سے بدھ کو اپنے فیصلوں کا اعلان کرنے کی توقع ہے، اور ٹیرف کا مقدمہ ،جس پر نومبر میں بحث ہوئی تھی، ان فیصلوں میں شامل ہو سکتا ہے۔بعد ازاں زبانی دلائل کے دوران، ججوں نے ٹرمپ کے ہنگامی اختیارات کے استعمال پر شک کا اظہار کیا جس کے تحت انہوں نے تقریباً تمام امریکی تجارتی شراکت داروں پر باہمی ٹیرف نافذ کیے تھے، نیز میکسیکو، کینیڈا اور چین پر ان کی مبینہ منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں ٹیکس عائد کیے تھے۔کئی قدامت پسند ججوں نے، عدالت کے تین لبرل ججوں کے ساتھ مل کر، اس بات پر سوال اٹھایا کہ کیا بین الاقوامی ہنگامی معاشی اختیارات ایکٹ، جس کا ٹرمپ نے حوالہ دیا ہے، ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ جبکہ اس مقدمے میں وہ شعبہ وار ٹیرف شامل نہیں ہیں جو ٹرمپ نے الگ سے عائد کیے تھے، جن میںا سٹیل، ایلومینیم اور گاڑیوں پر ٹیرف شامل ہیں۔علاوہ ازیں ٹرمپ نے امریکی ٹیرف کی اوسط مؤثر شرح کو ۱۹۳۰ءکی دہائی کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا ہے اور بار بار خبردار کیا ہے کہ اگر ان اقدامات کو ختم کر دیا گیا تو سنگین معاشی نتائج برآمد ہوں گے۔