• Tue, 13 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’بورڈ آف پیس فار غزہ‘‘ تشکیل دیا جا رہا ہے: ٹرمپ

Updated: January 12, 2026, 9:55 PM IST | Washington

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ کے لیے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا قیام عمل میں ہے، جس میں دنیا کے ’’اہم ترین ممالک‘‘ کے لیڈر شامل ہوں گے۔ یہ بین الاقوامی امن بورڈ غزہ میں ایک عبوری حکومت کی نگرانی اور بحالی کے عمل کی سربراہی کرے گا۔ بورڈ کے رکن ممالک میں برطانیہ، جرمنی، فرانس، سعودی عرب، قطر، مصر، ترکی سمیت کئی ممالک شامل ہو سکتے ہیں، اور سابق یو این خصوصی ایلچی نکولائے ملادینوو بورڈ کے نمائندہ کے طور پر خدمات انجام دے سکتے ہیں۔

Donald Trump. Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ غزہ کے لیے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کی تشکیل کا عمل جاری ہے، جس میں دنیا کے اہم ممالک کے لیڈروں کو شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’بورڈ آف پیس تشکیل دیا جا رہا ہے۔ بنیادی طور پر، یہ دنیا کے سب سے اہم ممالک کے سب سے اہم لیڈروں پر مشتمل ہوگا۔‘‘ ٹرمپ نے مزید کہا کہ بین الاقوامی سطح پر اس منصوبے میں حصہ لینے کی خواہش بہت زیادہ ہے، اور ’’ہر کوئی اس میں شامل ہونا چاہتا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ امن بورڈ میں شامل لیڈروں کا اعلان جلد کیا جائے گا، اگرچہ انہوں نے اس کے لیے کوئی مخصوص وقت نہیں بتایا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ تعطل کا شکار، جنگ کا پھر خطرہ

خیال رہے کہ بورڈ آف پیس (Board of Peace) ایک بین الاقوامی حکومتی فریم ورک ہوگا جس کا بنیادی مقصد غزہ پٹی میں امن عمل، حکومتی عبوری انتظام اور تباہ شدہ علاقے کی بحالی کی نگرانی کرنا ہے۔ یہ امن بورڈ ایک عبوری ٹیکنوکریٹک فلسطینی حکومت کو نگرانی فراہم کرے گا اور امن معاہدے پر عملدرآمد کا ذمہ دار ہوگا۔ توقع ہے کہ بورڈ کی سربراہی خود صدر ٹرمپ خود کریں گے اور اس میں تقریباً ۱۵؍ عالمی لیڈر شامل ہوں گے۔ منصوبے کے تحت، جدید فلسطینی عبوری حکومت بنائی جائے گی جسے بورڈ آف پیس نگرانی فراہم کرے گا جبکہ نکولائے ملادینوو جیسے سابق اقوام متحدہ کے مشیر بورڈ کے نمائندے کے طور پر کام کریں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے منصوبے کے مطابق، اس بورڈ کا ایک اہم کام غزہ میں مکمل طور پر تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو، حماس کے عسکری ونگ کو غیر فعال کرنے اور بین الاقوامی تحفظ فوج کی تعیناتی ہے تاکہ خطے میں سیکوریٹی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران میں مظاہروں پر ردِعمل کے معاملے میں امریکی حکام میں اختلاف: رپورٹ

کئی عالمی طاقتیں اس امن مہم میں حصہ لینے کی خواہش رکھتی ہیں، جس میں برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی، سعودی عرب، قطر، مصر اور ترکی شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ ممالک غزہ میں امن عمل کے اگلے مرحلے میں کردار ادا کرنے اور معاشی و سیاسی استحکام میں معاونت فراہم کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ اگرچہ بورڈ آف پیس کا اعلان گزشتہ ماہ بھی متوقع تھا، لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے کئی بار اس کا آغاز مؤخر کیا ہے۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ امید ہے امن بورڈ کے اراکین کی فہرست آنے والے ہفتوں میں سامنے آئے گی۔
یہ اقدام غزہ میں ۲۰۲۳ء سے جاری جنگ اور اس کے بعد ہونے والی جنگ بندی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو جنگ بندی نافذ ہوئی تھی، مگر خطے میں تشدد اور کشیدگی برقرار ہے، اور انسانی بحران بدستور گہر رہا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق، جنگ بندی کے بعد بھی کئی شہری اور بچے متاثر ہو رہے ہیں۔ مزید برآں، حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے موجودہ سرکاری ڈھانچے کو تحلیل کر دے گا جب نئی فلسطینی عبوری تکنیکی حکومت اقتدار سنبھالے گی، جس کے قیام اور نگرانی کا کام عارضی طور پر اس بین الاقوامی بورڈ کے ذمہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا کیوبا کو سخت انتباہ، وینزویلا سے تیل اور امداد بند کرنے کا اعلان

اقوام متحدہ کی منظور شدہ سیکوریٹی کونسل کی قرارداد ۲۸۰۳؍ نے بھی بورڈ آف پیس کو غزہ پٹی کی عبوری انتظامیہ اور بین الاقوامی بحالی اہلکاروں کے لیے قانونی طور پر مضبوط فریم ورک فراہم کیا ہے۔ اس قرارداد کے تحت، بورڈ آف پیس غزہ میں امن، سیکوریٹی اور ترقیاتی منصوبوں کو منظم کرے گا۔ تاہم، امن عمل کے ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ امن بورڈ کے قیام کے باوجود میدان میں حقیقی امن اور استحکام تک پہنچنا ایک پیچیدہ اور مشکل عمل ہے۔ مقامی فلسطینیوں نے بھی کہا ہے کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور شہری مزید زندگی کے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس نئی بین الاقوامی امن تنظیم سے دنیا بھر کے لیڈروں کی توجہ غزہ کی انسانی، معاشی اور سیکوریٹی ضروریات کی طرف مبذول ہوگی، اور امید ہے کہ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK