Updated: February 28, 2026, 10:15 PM IST
| Madrid
آسکر یافتہ امریکی اداکارہ سوزن سارینڈن نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ کی صورتحال پر کھل کر بات کرنے کے بعد انہیں اپنی ایجنسی سے برطرف کر دیا گیا اور ہالی ووڈ میں کام کے مواقع محدود ہو گئے۔ انہوں نے یہ بیان میڈرڈ میں ۲۰۲۶ء انٹرنیشنل گویا ایوارڈ تقریب کے دوران دیا۔
امریکی اداکارہ سوزن سارینڈن ۔ تصویر: ایکس
آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ سوزن سارینڈن نے ہسپانوی فلم اکیڈمی کے ۲۰۲۶ء انٹرنیشنل گویا ایوارڈز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پٹی میں جاری صورتحال کے خلاف آواز اٹھانے کی وجہ سے انہیں پیشہ ورانہ نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ’’نومبر میں، مجھے میری ایجنسی نے خاص طور پر مارچ کرنے اور غزہ کے بارے میں بات کرنے پر برطرف کر دیا تھا۔ میرے لیے ٹیلی ویژن پر آنا بھی ناممکن ہو گیا۔‘‘ ان کے مطابق، اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد جب انہوں نے غزہ میں ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی اور بیانات دیے تو انہیں انڈسٹری میں عملی طور پر بلیک لسٹ کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: لندن: پارلیمنٹ اسکوائر میں چرچل کا مجسمہ مسخ، ۳۸؍ سالہ شخص گرفتار
ہالی ووڈ سے باہر مواقع
سارینڈن نے بتایا کہ اگرچہ امریکہ میں کام کے مواقع محدود ہو گئے، لیکن یورپ میں انہیں کچھ پیشکشیں ملیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے انگلینڈ اور اٹلی میں کام کیا ہے۔ میں نے ابھی اٹلی میں ایک فلم کی تھی، اور میں نے اولڈ وِک میں کئی مہینوں تک ایک ڈرامہ کیا تھا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کچھ ہدایت کاروں کو انہیں ملازمت نہ دینے کی ہدایت دی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں جانتی ہوں کہ آپ اس اطالوی ڈائریکٹر کو جانتے ہیں جس نے ابھی مجھے کام پر رکھا ہے؛ اسے کہا گیا تھا کہ وہ مجھے ملازمت نہ دیں… اس نے نہیں سنا۔‘‘ یہ بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مشہور شخصیات کے سیاسی مؤقف کس طرح ان کے پیشہ ورانہ مستقبل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
غزہ کی صورتحال اور تنازع
سارینڈن کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے درمیان جاری کشیدگی عالمی سطح پر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد وسیع پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ۷۲؍ ہزار سے سے زائد فلسطینی شہید، ۱۷۱۰۰۰؍ سے زیادہ زخمی اور تقریباً ۹۰؍ فیصد شہری انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے۔ جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود رپورٹس کے مطابق جھڑپیں اور ہلاکتیں جاری رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پرواز میں مسافر خاتون کا جو بائیڈن سے سامنا، غزہ پر سخت سوالات
اظہارِ رائے کی قیمت؟
سوزن سارینڈن طویل عرصے سے سماجی اور سیاسی مسائل پر کھل کر اظہارِ خیال کرتی رہی ہیں۔ ماضی میں بھی انہوں نے جنگ مخالف تحریکوں، انسانی حقوق اور دیگر عالمی تنازعات پر واضح مؤقف اختیار کیا۔ ان کا حالیہ اعتراف ایک وسیع تر بحث کو جنم دیتا ہے: کیا فنکاروں کو سیاسی رائے کے اظہار کی قیمت پیشہ ورانہ تنہائی کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے؟ ہالی ووڈ میں سیاسی مؤقف رکھنے والی شخصیات کو پہلے بھی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن سارینڈن کے مطابق اس بار ردعمل براہِ راست روزگار کے مواقع پر اثر انداز ہوا۔