• Sun, 27 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تنازعات کے درمیان دہلی اورمہاراشٹر میں ایس آئی آر کی تاریخ میں توسیع کردی گئی

Updated: September 27, 2026, 10:17 AM IST | New Delhi

ایس آئی آر معاملہ پر تنازعات کا سامنا کر رہے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے دونوں چیف الیکشن کمشنرس ڈاکٹر وویک جوشی اور ڈاکٹر سکھبیر سنگھ سندھو کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی جس میں کچھ اہم فیصلے کئےگئے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ایس آئی آر معاملہ پر تنازعات کا سامنا کر رہے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے دونوں چیف الیکشن کمشنرس ڈاکٹر وویک جوشی اور ڈاکٹر سکھبیر سنگھ سندھو کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی جس میں کچھ اہم فیصلے کئےگئے جنہیں ۳؍ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصہ میں دہلی اور مہاراشٹر میں جاری ایس آئی آر کی تاریخ میں توسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسرا اہم فیصلہ یہ کیا گیا کہ ایس آئی آر میں نوٹس حاصل کرنے والے لوگوں کے گھر اب بی ایل او دستاویزات لینے جائیں گے، سماعت عام طور پر ضروری نہیں ہوگی۔ 
ڈی ای او ضرورت کے مطابق رین بسیروں، مزدوروں، غریبوں اور بے گھروں کیلئے ہیلپ ڈیسک لگائیں گے۔ دہلی میں دعوے و اعتراضات کی آخری تاریخ۳۰؍ اکتوبر اور مہاراشٹر میں ۱۲؍اکتوبر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: الیکشن کمیشن میں اختلافات کے سبب نئے ووٹروں کا اندراج بھی تعطل کا شکار

الیکشن کمیشن کی سبھی میٹنگوں میں ایجنڈا پہلے بھیجا جائے گا اور میٹنگ کی کارروائی جاری ہوگی۔ سبھی افسران کی اے پی اے آر رپورٹ ہر سال مقررہ وقت ۳۱؍ دسمبر تک پوری ہوگی۔ افسران کے بیرون ممالک سفر کے لئے اب الیکشن کمیشن کی منظوری ضروری ہوگی۔ کمشنرس کی طرف سے افسران کو جاری سبھی ہدایات پر سختی سے عمل یقینی بنایا جائے گا۔ فیصلہ کے دوسرے حصہ میں کہا گیا کہ اگر ایس آئی آر کے دوران یا اس کے بعد ووٹر لسٹ میں جن لوگوں کا نام چھوٹ گیا ہے وہ اپنے نام کو ووٹر لسٹ میں شامل کرانے کےلئے مستقل اپڈیٹیشن کے تحت متعلقہ ای آر او کے پاس درخواست دے سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا کہ چیف الیکٹورل افسران کو اس عمل کے لئے سہولت دینے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK