دونوں الیکشن کمشنروں نے کئی دہائیوں کے روایت کے مطابق ایس ایس آر کرنے کی ضرورت پر زور دیا لیکن چیف الیکشن کمشنر نے اسے غیر ضروری قرار دیا۔
الیکشن کمشنر وویک جوشی اور سکھبیر سنگھ سندھو اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این
الیکشن کمیشن میںاختلافات کے درمیان ووٹرلسٹ کی سالانہ نظرثانی کا عمل رکا ہوا ہے۔ ۱۸؍ سال کی عمر مکمل کرنےوالے نئے ووٹروں کو فہرست میں شامل کرنے کیلئےہونے والی یہ کارروائی مقررہ مئی-جون کی مدت سے بھی آگے بڑھ چکی ہے۔الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اندر جاری اختلافات کے درمیان ووٹر لسٹ کی سالانہ نظرثانی سمیت اہم فیصلے تعطل کا شکار ہیں۔
’اکنامک ٹائمز‘ کے مطابق ۱۸؍ سال کی عمر مکمل کرنے والے ’جین- زی‘ نوجوانوں کو ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کا عمل بھی چیف الیکشن کمشنر اور دو الیکشن کمشنروں کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے رکا ہوا ہے اور مقررہ مئی-جون کی مدت گزر چکی ہے۔ کئی دہائیوں سےہر سال جنوری کے پہلے ہفتے میں تمام ریاستوں میں حتمی انتخابی فہرست باضابطہ طور پر شائع کی جاتی رہی ہے، لیکن اب اس روایت میں بھی تعطل پیدا ہوگیا ہے۔۲۰۲۴ء کے انتخابی دورکے بعد کسی ریاست میں سمری اسپیشل ریویژن(ایس ایس آر) نہیں کی گئی۔اسی دوران ۲۰۲۵ء میں بہار میں ایس آئی آر کا عمل شروع کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ۱۹۵۸ء سے جاری سالانہ ایس ایس آر کی روایت ۲۶-۲۰۲۵ء میں بھی دوبارہ شروع نہیں ہوسکی، حالانکہ دونوںالیکشن کمشنروںسکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے اسے بحال کرنےکی ضرورت پر زور دیا اور اس کی سفارش کی تھی۔
ذرائع کے مطابق معاملہ اس حد تک پہنچ گیا کہ چیف الیکشن کمشنر نے رواں سال کے آغاز میں اس سوال پر قانونی رائے طلب کی کہ آیاایس آئی آر کے جاری رہنے کے دوران بھی ایس ایس آر کراناضروری ہے۔موصولہ قانونی رائے کے بعد دونوں الیکشن کمشنروں نے ایس ایس آر دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر اپنا موقف واضح کیا۔ ذرائع کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے انتخابی فہرست سےمتعلق اپنے ہی دستور العمل کے مطابق ایس ایس آر ضروری ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ہر سال ۱۸؍ سال کی عمر مکمل کرنےوالے افراد کو انتخابی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ عمل انتخابی فہرستوں میں موجود تصاویر کو اپ ڈیٹ کرنے اور ناموں یا دیگر تفصیلات میں پائے جانے والے فرق اور تضادات کی جانچ کے لیے بھی مفید رہا ہے۔